• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہِ رمضان سوچ کی تربیت کا سب سےاثر انگیز اور عملی مدرسہ ہے

Updated: February 20, 2026, 5:41 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

روزہ بھوک اور پیاس کا نام نہیں، یہ اس تربیت کا نام ہے جس کے ذریعہ انسان سیکھتا ہے کہ ہر خواہش قابلِ اتباع نہیں ہوتی، ہر خیال قابلِ قبول اور ہر ردِعمل ضروری نہیں ہوتا۔

Reciting the Quran and performing Taraweeh prayers during Ramadan purifies the mind. The Quran instills hope, purpose, trust, and moral responsibility in man. Photo: INN
رمضان میں قرآن کی تلاوت اور تراویح کا قیام فکر کو پاکیزگی دیتا ہے۔ قرآن انسان کے اندر امید، مقصدیت، توکل، اور اخلاقی ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان کی اصل شناخت اس کے چہرے سے نہیں بلکہ اس کی سوچ سے ہوتی ہے۔ چہرہ وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، حالات اس پر اپنے نشانات چھوڑ جاتے ہیں، مگر سوچ وہ داخلی قوت ہے جو انسان کے ہونے یا نہ ہونے، بننے یا بکھرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ انسان جیسا سوچتا ہے ویسا ہی بنتا ہے۔ اس کا کردار، اس کی ترجیحات، اس کے فیصلے اور حتیٰ کہ اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں سب اسی پوشیدہ مگر طاقتور دنیا سے جنم لیتی ہیں جسے ہم ’’سوچ‘‘ کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحِ نفس کی ہر سنجیدہ کوشش کا نقطۂ آغاز سوچ کی اصلاح اور تربیت قرار پاتا ہے۔

سوچ دراصل انسان کے ذہن میں جاری وہ مسلسل مکالمہ ہے جو وہ خود سے، اپنے ماضی سے، اپنے حال سے اور اپنے مستقبل سے کرتا ہے۔ یہ خیالات، تصورات، خدشات، امیدیں اور فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ سوچ محض خیالی پرواز نہیں بلکہ ایک فعال نفسیاتی عمل ہے جو انسان کے شعور اور لاشعور کے باہمی تعامل سے وجود میں آتا ہے۔ انسان جو کچھ دیکھتا ہے، سنتا ہے، پڑھتا ہے اور محسوس کرتا ہے، وہ سب سوچ کی شکل میں اس کے باطن میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ پھر یہی سوچ کسی نہ کسی مرحلے پر عمل بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ عمل کی اصلاح سے پہلے سوچ کی اصلاح ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سحری سے افطار اور تراویح تک ماہِ رمضان کی خوشی کو محسوس کیجئے

مثبت اور منفی سوچ دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ مثبت سوچ وہ ہے جو انسان کو امکانات کی دنیا دکھاتی ہے، جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلاتی ہے، جو مسائل کو چیلنج کے طور پر قبول کرنا سکھاتی ہے اور جو انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے۔ مثبت سوچ رکھنے والا فرد حالات کا رونا نہیں روتا بلکہ حالات سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس منفی سوچ انسان کو شک، خوف، بدگمانی اور احساسِ کمتری کے دائرے میں قید کر دیتی ہے۔ منفی سوچ رکھنے والا فرد اکثر خود کو مظلوم، حالات کو ظالم اور دوسروں کو قصوروار سمجھتا ہے۔ وہ ناکامی کو اپنی تقدیر اور دوسروں کی سازش قرار دے کر خود کو ذہنی طور پر مفلوج کر لیتا ہے۔

سوچ کی تربیت کا پہلا مرحلہ یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔ انسان کے ذہن میں آنے والا ہر خیال قابلِ قبول نہیں، نہ ہی ہر احساس قابلِ اعتماد۔ بہت سی منفی سوچیں محض مفروضے، خدشات یا خودساختہ کہانیاں ہوتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا غلام نہیں بلکہ ان کا نگراں ہے، تو سوچ کی اصلاح کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ مرحلہ آسان نہیں، مگر یہی اصل جہادِ نفس ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مبارک ماہ کے خصوصی اعمال کی روح باقی رہے!

کیسے سوچنا چاہئے؟ یہ سوال بظاہر سادہ مگر درحقیقت گہری فکری محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ درست سوچ وہ ہے جو حقیقت پسند ہو، امید افزا ہو اور اخلاقی حدود میں رہ کر انسان کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھائے۔ درست سوچ نہ تو اندھی خوش فہمی ہے اور نہ ہی مایوس کن حقیقت پسندی۔ یہ توازن کی سوچ ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ حالات کو جیسا ہیں ویسا دیکھے، مگر یہ بھی سمجھے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ مشکل وقت میں یہ سوچنا کہ ”یہ ہمیشہ رہے گا “ منفی سوچ ہے، اور یہ سمجھنا کہ”میں کچھ کر ہی نہیں سکتا“ ذہنی شکست ہے۔ درست سوچ یہ ہے کہ ”یہ مرحلہ ہے، اور میں اپنی حد تک کوشش کر سکتا ہوں۔“

سوچ کی تربیت میں خودکلامی کا کردار بنیادی ہے۔ انسان دن بھر اپنے آپ سے جو باتیں کرتا ہے، وہی اس کی سوچ کو تشکیل دیتی ہیں۔ اگر یہ خودکلامی الزام، شکوہ اور ناامیدی سے بھری ہو تو سوچ بھی منفی ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان خود سے بات کرتے ہوئے خود کو سمجھائے، حوصلہ دے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھائے تو سوچ بتدریج مثبت رخ اختیار کر لیتی ہے۔ 

سوچ کی تربیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات کے ماخذ پر نظر رکھے۔ ہر خبر، ہر بات، ہر رائے ذہن میں جگہ پانے کے لائق نہیں ہوتی۔ جو شخص ہر منفی گفتگو کو سنتا اور ہر افواہ کو سچ مان لیتا ہے، اس کی سوچ کبھی صاف نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ذہنی ماحول کی صفائی کرے، منفی مواد سے حد درجہ احتیاط برتے اور ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرے جو فکر میں گہرائی اور عمل میں توازن رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: عبادت کا مطلب صرف ظاہری اعمال کی کثرت نہیں، باطن کی اصلاح بھی ہے

اصلاحی نقطۂ نظر سے سوچ کی تربیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ اپنی ناکامیوں کا ملبہ صرف حالات یا دوسروں پر ڈال دینا آسان ہے، مگر اصلاح کا راستہ نہیں۔ جب انسان یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ اس کی سوچ اس کے رویے اور فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، تو وہ بدلنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس کی یہی آمادگی سوچ کی تربیت کی بنیاد ہے۔ بغیر اس اعتراف کے کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔

سوچ کی تربیت میں صبر اور تسلسل بے حد ضروری ہیں۔ برسوں میں بننے والی سوچ چند دنوں میں نہیں بدلتی۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے جس میں بار بار خود کو روکنا، پرکھنا اور درست سمت میں لانا پڑتا ہے۔ کبھی انسان خود کو پرانی منفی سوچ میں گرفتار پاتا ہے، مگر یہی وہ لمحہ ہے جہاں تربیت کی آزمائش ہوتی ہے۔ جو شخص اس مرحلے پر ہمت ہار جائے، وہ وہیں رک جاتا ہے، اور جو شخص خود کو دوبارہ سنبھال لے، وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔

سوچ کی تربیت کا تعلق محض فرد کی ذات تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مثبت سوچ رکھنے والے افراد ہی مثبت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ جب افراد بدگمانی، نفرت اور مایوسی کے اسیر ہوں تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس امید، ذمہ داری اور مقصدیت پر مبنی سوچ اجتماعی شعور کو بلند کرتی ہے۔ اسی لیے تعلیمی اداروں، گھریلو تربیت اور سماجی مکالمے میں سوچ کی تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: حضورﷺ نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے

 یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سوچ کی تربیت کوئی اضافی مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح جسم کی غذا کے بغیر بقا ممکن نہیں، اسی طرح درست سوچ کے بغیر صحت مند زندگی کا تصور ادھورا ہے۔ انسان اگر اپنی سوچ کی اصلاح کر لے تو اس کی زندگی کے بہت سے الجھے ہوئے مسائل خودبخود سلجھنے لگتے ہیں۔ سوچ بدلتی ہے تو زاویۂ نظر بدلتا ہے، زاویۂ نظر بدلتا ہے تو فیصلے بدلتے ہیں، اور جب فیصلے بدلتے ہیں تو تقدیر کا رخ بھی بدلنے لگتا ہے۔

سوچ کی تربیت اور ماہِ رمضان 

رمضان المبارک دراصل سوچ کی تربیت کا سب سے جامع، اثر انگیز اور عملی مدرسہ ہے۔ یہ مہینہ انسان کے اندر اس صلاحیت کو جگاتا ہے کہ وہ اپنے نفس کے فوری مطالبات کے مقابلے میں اپنے شعور کے فیصلے کو ترجیح دے۔ روزہ بھوک اور پیاس کا نام نہیں، یہ اس تربیت کا نام ہے جس کے ذریعے انسان سیکھتا ہے کہ ہر خواہش قابلِ اتباع نہیں ہوتی، ہر خیال قابلِ قبول نہیں ہوتا، اور ہر ردِّعمل ضروری نہیں ہوتا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سوچ کی اصلاح اور تربیت کا سفر حقیقی معنوں میں شروع ہوتا ہے۔

رمضان انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور اپنے خیالات کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے کا موقع دیتا ہے۔ دن بھر بھوک کے احساس کے ساتھ انسان کے ذہن میں بے شمار خیالات آتے ہیں: شکایت، غصہ، کمزوری، بے صبری یا دوسروں پر الزام۔ مگر روزہ دار جب ان خیالات کو رد کرتا ہے، خود کو سنبھالتا ہے، اور اپنی زبان و نگاہ کی حفاظت کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی سوچ کی تربیت کر رہا ہوتا ہے۔ یہ تربیت انسان کو یہ نکتہ سکھاتی اور یہ بات ذہن نشین کراتی ہے کہ حالات نہیں، سوچ انسان کو توڑتی یا بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی

رمضان میں تلاوت اور تراویح کا قیام فکر کو پاکیزگی دیتا ہے۔ قرآن اُمید، توکل، مقصدیت اور اخلاقی ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ جب انسان بار بار اللہ کے کلام سے جڑتا ہے تو اس کی سوچ کا معیار بلند ہوتا ہے، خدشات کم ہوتے ہیں اور اس کے فیصلے زیادہ متوازن ہو جاتے ہیں۔ پھر جب روزہ ختم ہوتا ہے تو اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ ہم نے کتنے نوافل پڑھے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری سوچ کتنی بدل گئی، ہمارا ردِّعمل کتنا سنورا اور ہماری زندگی میں خیر کے انتخاب کی صلاحیت کتنی مضبوط ہوئی۔ اگر رمضان کے بعد بھی سوچ میں شکر، صبر، امید اور اخلاق کی روشنی باقی رہے تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے رمضان سے اصل فائدہ حاصل کر لیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK