• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سحری سے افطار اور تراویح تک ماہِ رمضان کی خوشی کو محسوس کیجئے

Updated: February 20, 2026, 5:30 PM IST | Muhammad Ali Tantawi | Mumbai

ا س ماہ کے دن رات کے انداز جتنے بابرکت اور پُررونق ہوتے ہیں، اہلِ ایمان اتنا ہی خوش ہوتے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں اس مہینے کے شب و روزکی بابت پڑھئے اور تصویر کو حقیقت بنائیے۔

How beautiful the scene of homes is at the time of Iftar when everyone, young and old, breaks their fast to the sound of the muezzin. Photo: INN
افطار کے وقت گھروں کا منظر بھی کیا پرنور ہوتا ہے جب بڑے چھوٹے سب مؤذن کی صدا کے ساتھ ہی افطار کرتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

میرے ذہن میں ماہِ رمضان کی دو تصویریں گردش کر رہی ہیں:
ایک تصویر وہ کہ جس میں رمضان ایک بوجھ محسوس ہوتا تھا، جو اپنے ساتھ بھوک پیاس کی آزمائش لے کر آتا تھا۔ کھانا آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے، آپ کے ہاتھ اس تک پہنچ سکتے ہیں، بھوک سے بُرا حال ہے لیکن آپ اسے کھا نہیں سکتے، اِس لئے کہ اجازت نہیں ہے۔ شدتِ پیاس ہے، پانی آپ کے سامنے رکھا ہوا ہے لیکن اسے اٹھا کر پینے کا اذن نہیں ہے۔ آپ بڑی میٹھی نیند میں سوئے ہیں کہ ماہِ رمضان آپ کو رات کے آخری حصے میں اٹھا کر کھڑا کر دیتا ہے کہ اٹھو اور کچھ کھالو، حالانکہ آپ کا حال یہ ہے کہ دنیا کے ہر کھانے کو نیند کی اس کیفیت اور اس لمحے پر قربان کرنے کو تیار ہوجائیں۔ اس اعتبار سے یہ مہینہ مشقت، بھوک اور پیاس کا مہینہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مبارک ماہ کے خصوصی اعمال کی روح باقی رہے!

دوسری تصویر وہ ہے کہ جس میں رمضان شیریں اور خوب صورت مہینے کی طرح جلوہ گر ہے۔ اس ماہ کے آتے ہی رات کے تیسرے پہر، جب کہ رات پر سکون کی چادر تنی ہوتی ہے، لوگ قیام اللیل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ آسمان گداز ہو جاتا ہے، تارے جھلملانے لگتے ہیں اور کائنات پر شفافیت چھا جاتی ہے۔ خالق کائنات بندوں پر اپنے فضل و کرم کے خزانے لٹانے شروع کر دیتا ہے۔ ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس وقت اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے: ’’ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اُس کی توبہ قبول کر لوں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اسے نواز دوں؟‘‘ (صحیحین)دُعا کرنے والا اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو وہ اُس کی دعا سنتا ہے۔ گناہوں کو معاف کر تا ہے، مانگنے والے کو عطا و بخشش سے نوازتا ہے، اور توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ بندوں کے دل اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے جڑ جاتے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے دل کے جڑ جانے سے بندہ وہ لذت محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اس کے بعد مؤذن کی آواز اس کے کانوں میں آتی ہے۔ دل خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔ مؤذن اَلصَّلَاۃُ خَیْرُ مِنَ النَّوْمِ (نماز نیند سے بہتر ہے)کی صدا بلند کرتا ہے اور لوگ اس ہستی کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ساری کائنات جس کی مٹھی میں ہے۔ مولائے رحمٰن و رحیم سے مناجات میں مشغول ہو جاتے ہیں۔گھر گھر میں ایمان کی روح سرایت کرنے لگتی ہے، ہر زبان اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی حمد و تسبیح میں مصروف ہوجاتی ہے، اور ہر طرف اس کی رحمت کا نزول ہونے لگتا ہے۔ 
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں لوگ اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ سب کا رُخ اس کے گھر کی طرف ہو جاتا ہے۔ مسجدیں مسلمانوں سے آباد ہو جاتی ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے اور سو کر وقت گزارنے والے غائب ہوجاتے ہیں۔ عالم اسلام کے ہر ملک میں مسجدیں آباد ہو جاتی ہیں۔ کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی جس میں نماز پڑھنے والے اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے نہ ہوں۔ مسجد کا کوئی ستون ایسا نہیں ہوتا جس سے ٹیک لگا کر کوئی بندہ قرآن کی تلاوت نہ کر رہا ہو۔ کوئی اجتماع ایسا نظر نہیں آتا جس میں مدرس اور واعظ درس و تدریس اور تذکیر نہ کر رہے ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عبادت کا مطلب صرف ظاہری اعمال کی کثرت نہیں، باطن کی اصلاح بھی ہے

سب لوگ اپنے دلوں کو گناہ ومعصیت سے پاک کرنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔ کینہ و حسد اور حرص و ہوس کی گٹھریاںاتار کر دلوں کو عبادت و بندگی کیلئے خالص کرنے کی کوشش کر تے ہیں، خیر کے حصول کو منزل مقصود بنا کر مسجدوں میں داخل ہوتے ہیں۔ عالم ظاہری سے ناطہ توڑ کر عالم سماء (آسمانی دُنیا، عالم ِ بالا)سے رشتہ استوار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملکوں اور شہروں کی سرحدیں گرچہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کئے رہتی ہیں لیکن ایمان کی طاقت انہیں یکجا و متحد کئے رہتی ہے۔ وہ قبلہ جس کی طرف مومن نماز و سجود میں اپنا رُخ کرتے ہیں، انہیں ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔ مسلمان خواہ ان کے دیار الگ الگ ہوں، خواہ ان کا تعلق دُور دراز کے ممالک سے ہو، وہ ایک امت ہیں۔ ایک دائرہ کی طرح جس کا محیط یہ پوری زمین ہے اور جس کا مرکز و محور بیت اللہ الحرام یعنی خانہ کعبہ ہے۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ’’تمہارے پاس [ماہِ] رمضان آیا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے‘‘ (مسنداحمد)کے مطابق رمضان برکت والا مہینہ ہے۔ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ میں رمضان المبارک کے بابرکت لمحات جیسے خوب صورت لمحات سے فیض یاب ہونا ناممکن ہے۔ زندگی ایک سفر ہے۔ عمر کی گاڑی پر سوار ہم اس سفر کو طے کررہے ہیں۔ وقت کی یہ گاڑی ہمیں شاہراہ زندگی کے اس خوبصور ت ترین مرحلے سے لے کر گزرتی ہے، نُور کی ندیاں رواں ہوتی ہیں، دنیا پاکیزگی کا مرقع بنتی ہے، کائنات پر سکون طاری ہوتا ہے۔ رمضان کے علاوہ وقت ِ سحر، ہم نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو کھولنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اسلئے اس بابرکت وقت کی سحر انگیزیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں انسانیت کے معانی سے پردہ اٹھتا ہے۔ انسانو ںکے درمیان مساوات قائم ہو جاتی ہے۔ نہ کوئی بھوکا رہتا ہے اور نہ کوئی اس حال کو پہنچتا کہ کھا کھا کر اسے بدہضمی نے آ لیا ہو۔ بھوک اور شکم سیری میں سب شریک رہتے ہیں۔ روزے میں مال دار بھی بھوکا رہتا ہے، غریب بھی۔ مال دار بھوک کی تکلیف محسوس کرتا ہے تاکہ بعد میں کوئی اس کے پاس آکر یہ کہے کہ میں بھوکا ہوں تو اسے یاد رہے کہ بھوک کیا ہوتی ہے۔دوسری طرف غریب اور فقیرمال دار شخص کو دیکھتا ہے کہ مال دار ہونے کے باوجود اسے بھی روٹی کے ایک ٹکڑے کی آرزو ہے، اور پانی کے ایک گلاس کی طلب ہے۔ یہ دیکھ کر اسے اللہ کی نعمت کی قدر ہوتی ہے۔ پھر جب امیر و غریب سب دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو بھوک ان کا فرق مٹا دیتی ہے۔ کھانے کے اچھا اور بُرا ہونے کا فیصلہ بھوک کر تی ہے جو کہ کھانے کی خواہش کو بیدار کئے رہتی ہے۔ صحتِ معدہ اس کا فیصلہ کرتی ہے کیوں کہ اسی کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ اگر بھوک اور معدہ کی صحت برقرار ہو تو سستا اور سادہ کھانا بھی شاہی دسترخوانوںسے زیادہ پُرلطف اور لذیذ ہوجاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حضورﷺ نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے

رمضان آتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے سب لوگ ایک ہی خاندان کے فرد ہیں، یا سب ایک ہاسٹل میں رہنے والے ساتھی ہیں۔ سب ایک وقت پر افطار کرتے ہیں اور ایک ہی وقت پر کھانا پینا ترک کرتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سب تیز تیز قدموں سے اپنے گھروں کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی اپنے گھر کی بالکنی میں کھڑا نظر آتا ہے تو کوئی گھر کے دروازے پر۔ سب کی نگاہیں اپنی گھڑیوں پر اور کان اذان کی آواز پر لگے ہوتے ہیں۔ آنکھیں مسجد کے مینار کو تک رہی ہوتی ہیں اور کان سائرن اور گولے کی آواز سماعت سے ٹکرانے کے منتظر رہتے ہیں۔ جیسے ہی سائرن کی آواز آئی، یا مسجد کے مینار پر روشنی دکھائی دی، یا مؤذن کی آواز کانوں میں پڑی، کیا چھوٹے کیا بڑے سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ افطار کے وقت خوشی کی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا: ’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کےوقت اور ایک خوشی اپنے ربّ سے ملاقات کے وقت۔‘‘(صحیح مسلم)جہاں بڑوں کے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں، وہاں بچّے ایک آواز میں شور مچانے لگتے ہیں کہ ’اذان ہو گئی، اذان ہوگئی‘۔لوگ پرندوں کی مانند اپنے گھروں کی طرف پرواز کرنے لگتے ہیں۔ہر شخص کو جو کچھ کھانے کو میسر آتا ہے، اس پر رضامند اور خوش رہتاہے۔ اللہ کی اس نعمت پر شکرگزاری کے جذبے سے لبریز رہتاہے۔ بھوک نے انہیں اس بات پر راضی کر دیا ہے کہ جیسا بھی کھانا ملے، وہ اسے نوش جان کرلیں، اسے کھالیں۔ 
کھانے سے فارغ ہوئے تو مسجد کی طرف رخ ہوگیا۔ اپنے ربّ [ خالق و رزاق واِلٰہ] کے حضورایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔قدم سے قدم ملائے ہوئے، کندھے سے کندھا جوڑ کر سب نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے۔ مال دار، غریب، بڑا چھوٹا، نادار و صاحب مال، سب کے سب اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ بندوں کے اس اظہار عاجزی کے بدلے میں انہیں عزت و سربلندی سے نواز دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی

 یہ حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی: ’’اور جو کوئی اللہ کے لیے تواضع (انکساری)اختیار کرتا ہے اللہ اسے ضرور بلندی عطا فرماتا ہے۔‘‘ پس جس نے بھی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور ذلت و عاجزی قبول کر لی اسے وہ عزّت و سربلندی عطا کر دیتا ہے۔ یعنی جو دنیا میں اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہتا ہے اللہ تعالی اسے دنیا کی سرداری بخش دیتا ہے۔ جواللہ کی شریعت کی پیروی کرتا ہے، اس کے امر و نہی پر قائم رہتا ہے، فرائض کو انجام دیتا ہے، جو چیزیں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے حرام کردی ہیں، ان سے باز رہتا ہے، اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اپنی مدد ونصرت کے ذریعے اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنی توفیق اور عفو و درگذر سے اسے نوازتا رہتا ہے۔ 
یہی چیزیں تھیں جن کی بدولت ہمارے آبا و اجداد نے دُنیا کی قیادت کی تھی، مشرق سے لے کر مغرب تک پورے خطۂ زمین کو فتح کر ڈالا تھا۔ دنیا کے ہر کونے میں بلندی و رفعت ان کے حصے میں آگئی تھی اور انہوں نے زمین پر ایک ایسی حکومت قائم کر دی تھی کہ تاریخ نے اس سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ شاندار، اس سے زیادہ انصاف اور عدل پر مبنی حکومت کا نظام کبھی دیکھا ہی نہیں۔ 
رمضان وہ مہینہ ہے جو روزہ دار کے لئے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی صحت لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نفس انسانی کو عظمت اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے بھی نوازتا ہے۔ روزہ کھیل اور ورزش کا اہتمام کرنے والوں کے لئے بھی معنویتِ رکھتا ہے۔ کھیل اور ورزش کے مقاصد سے متعلقہ کتابوں کے مطالعہ سے یہ معنویت بہت عیاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں، لیکن میں نے خود اپنے اوپر تجربہ کیا ہے، اور کبھی کبھی تجربہ کار شخص اپنے بارے میں ڈاکٹر سے بہتر جانتا ہے۔میں روماٹزم (جوڑوں کے درد)کی مار کھایا ہوا شخص ہوں۔ گردے کی پتھریو ںکا مریض ہوں۔ چھتیس برس تک ان بیماریو ںکا علاج کرنے کے لئے ڈاکٹروں کے چکر کاٹتا رہا۔ اللہ کی قسم! میں نے ہر علاج آزما کر دیکھ لیا۔ لیکن ان بیماریوں کے علاج کے لیے روزے سے اچھا کوئی علاج مجھے نہیں ملا۔ روزہ جسم کی صفائی کر دیتا ہے، جسم کے زہریلے مادوں کو ختم کر دیتا ہے، اور جسم کو بیماریوں سے پاک اور محفوظ کر دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تم کمالِ نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہوں

یہ ہے رمضان کی پیاری اور خوبصورت تصویر۔ کیا اس تصویر کے ساتھ پہلی تصویر کی شدت بھی شیرینی میں تبدیل نہیں ہو جاتی؟یہ روزہ تو دوا ہے۔ اور عقل مند لوگ دوا کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے، کیو ںکہ انہیں امید ہوتی ہے کہ اس دوا کے ذریعے شفایابی کی لذت سے ہم کنار ہونا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK