شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)عمرہ میں دم۔ (۲)نماز میں غلطی اور سجدۂ سہو۔ (۳)ناراضگی اور دعوت۔ (۴)ناپاک جگہ اور تلاوت۔ (۵)اداروں کے نمائندے اور ھدیہ۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 6:02 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)عمرہ میں دم۔ (۲)نماز میں غلطی اور سجدۂ سہو۔ (۳)ناراضگی اور دعوت۔ (۴)ناپاک جگہ اور تلاوت۔ (۵)اداروں کے نمائندے اور ھدیہ۔
عمرہ میں دم
ایک شخص ۱۵؍ دن کے پیکیج پر عمرہ کے لئے گیا ہے۔ یہ اس کا ساتواں عمرہ ہے ۔ اس دوران اس نے عائشہ مسجد سے احرام پہنا ، لیکن کچھ پریشانی میں حلق کرانا بھول گیا اور دو نمازیں قضا ہوگئیں۔ اس نے احرام اتار کر سلے ہوئے کپڑے پہن لئے تو اس صورت میں کیا اسے دم دینا پڑے گا یا نہیں ؟ دم دینا ہوگا تو کتنا دینا ہوگا ؟صادق علی ، مرادآباد
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: عمرہ کے ارکان ہیں حالت احرام میں طواف اور سعی، اس کے بعد حلق یا قصر (حلق سر کے منڈانے اور قصر ایک خاص مقدار میں بالوں کے کاٹنے کو کہتے ہیں)۔ حلق یا قصر کے بعد ہی عمرہ مکمل ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی احرام کی پابندیاں ختم ہو تی ہیں۔ لہٰذا حلق یا قصر سے پہلے احرام نکال کر سلے ہوئے کپڑے پہن لینے پر دم واجب ہوگا پھر جتنے ممنوعات کا ارتکاب کرے اتنے دم واجب ہوں گے چنانچہ اگر کپڑے پہننے کے علاوہ خوشبو بھی لگا لی تو دو دم واجب ہو جائیں گے ۔ پھر حدود حرم ہی میں حلق یا قصر کرالیا تو ایک دم اور حدود حرم کے باہر حلق یا قصر کرایا تو مزید ایک دم واجب ہوگا۔ دم قربانی کاایک کا چھوٹا جانور (بکری، دنبہ وغیرہ)یا بڑے جانور (اونٹ بیل بھینس وغیرہ کا) ایک حصہ حرم ہی میں ذبح کیا جائیگا لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل پر دم واجب ہے جسے حدود حرم ہی میں ذبح کرنا ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: زکوٰۃ کیلئے شریعت نے اصل معیار سونے چاندی کو قرار دیا ہے
نماز میں غلطی اور سجدۂ سہو
ایک حافظ صاحب نے نماز پڑھاتے وقت سورہ الناس کی تلاوت کی جس میں شروع کی تین آیتوں میں سے دوسری آیت چھوٹ گئی۔ آخر کی چار آیتیں پڑھ لیں۔ میں سمجھا مجھ پر سجدۂ سہو واجب ہوگیا اسلئے مَیں نے سجدہ سہو کرلیا ۔اب نماز کا وقت بھی نکل گیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ نماز ہوگئی یا نہیں؟
راشد علی، کوکن
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: اس سوال کے دوپہلو ہیں ،درمیان سے کوئی آیت چھوٹ جائے تو کیا حکم ہے اور سجدۂ سہو واجب نہیں تھا مگر غلط فہمی کی بناءپر سجدہ کرلیا تو نماز کا کیا حکم ہے۔ آیت چھوٹنے کے سلسلے میں دیکھا جائےگا کہ جو آیت چھوٹی ہے کیا اس کے ترک سے معنی میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو اسی رکعت میں اصلاح نہ کرنے کی صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی لیکن معنی میں خرابی نہ پیدا ہو جیسے صورت مسئولہ میں ہے تو اس کے ترک سے کوئی فرق نہ پڑےگا نہ ہی سجدہ ٔ سہو واجب ہوگا ۔سجدہ واجب نہیں تھا مگر غلط فہمی کی بنیاد پر سجدہ سہو کرلیا تو نماز ہوجائیگی ،اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نماز میں حضورِ قلب اور خشوع وخضوع بھی ضروری ہے
ناراضگی اور دعوت
کیا ایسے شخص کی دعوت قبول کرنا لازم ہے جو اس کے (یعنی مدعو کے) والدین سے بلا معقول وجہ کے بات نہیں کرتا؟ عبید اللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: دعوت کے قبول کرنے کی ترغیب وارد ہے لیکن کچھ شرائط کے ساتھ؛ جس دعوت کے قبول کرنے کی تاکید کی گئی ہے وہ ہے دعوت ولیمہ۔ بعض اس کو واجب اور بعض سنت مؤکدہ کہتے ہیں۔ دوسری دعوتوں کے لئے اتنی تاکید نہیں مگر قبول کرنا افضل ضرور ہے بشرطیکہ دعوت دینے والے کی کمائی حلال ہو۔ دعوت کا مقصد نمائش اور اظہار تفاخر نہ ہو، وہاں کسی منکر عمل کا امکان نہ ہو۔ یہ شرائط ولیمہ کے لئے بھی ہیں۔ جسے دعوت دی گئی ہے قبول دعوت میں اس کی کوئی نجی یا خانگی ضرورت مانع نہ ہو، وہاں اس کی توہین اور تمسخر وغیرہ کا امکان نہ ہو، کسی ناگوار امر کی توقع نہ ہو وغیرہ ۔کسی کے والدین سے بغض اور کینہ بھی ناگوار امور میں شامل ہے۔ اس صورت میں دعوت قبول کرنا گھریلو ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اصورت ِ مسئولہ میں دعوت قبول کرنا ضروری نہیں ۔واللہ اعلم اعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: عدت کا ایک سوال، معذور کی نماز اور کرسی کا استعمال، اوقات مکروہہ میں نماز
ناپاک جگہ اور تلاوت
اگر بستر پہ بچے کا پیشاب ہو اور وہ سوکھ گیا ہو تو کیا اسے دھوئے بغیر اس بستر کے دوسرے حصے پر بیٹھ کر تلاوت کی جا سکتی ہے؟
جنید احمد ،بھوپال
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: نماز کے لئے مصلی کے جسم اور جگہ کا پاک ہونا بنیادی شرط ہے، اس کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی۔ ناپاک جگہ پر بیٹھ کر تلاوت بھی غیر مستحسن عمل ہے ۔ بستر ناپاک ہو تو اول اسے پاک کیا جائے پھر وہاں بیٹھ کر تلاوت کی جائے لیکن پاک کرنا دشوار ہونے کی صورت میں اس پر موٹا پاک کپڑا بچھالیاجائے یا جہاں نجاست ہے اس سے ہٹ کر دوسرے کونے میں بیٹھنا کافی ہوتاہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں دوسرے حصے پر بیٹھ کر تلاوت کی جاسکتی ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: جائیداد کا تنہا مالک بھی شرعی حدود کا پابندہے
اداروں کے نمائندے اور ھدیہ
میں مدرسہ کے تعلق سے کسی آدمی سے ملاقات کو گیا اور اس سے میری جان پہچان بھی مدرسہ کی ہی وجہ سے ہوئی ہے اور جب میں اس سے رخصت ہونے لگا تو اس نے مجھے ہدیہ میں کوئی چیز دی ۔ اب اس ہدیہ کو مدرسہ میں جمع کروں یا اپنے ذاتی کام میں لے لوں؟ عبد الوحید، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: ہدیہ پر تفصیلی گفتگو کی جاسکتی ہے ۔حدیث شریف میں اس کی ترغیب بھی وارد ہے ، ارشاد ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرواس سے باہمی الفت ومحبت میں اضافہ ہوگا۔ علماء نے موقع بموقع اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہدیہ کے لین دین میں کن امور کی رعایت لازم ہے اورہدیہ کی غرض وغایت کیا ہونی چاہئے وغیرہ ؛ کسی ادارے کے نمائندے کو ہدیہ دینے کی صورت میں اگر دینے والے کا مقصد کوئی فائدہ حاصل کرنا ہو تو اسے رشوت کہا جائےگا نہ کہ ہدیہ۔مدرسے کے سفراء کو ہدیہ کی یہ نوعیت نہیں سمجھ میں آتی۔ اگر کوئی شخص سفیر کو اس کی ضرورت کی کوئی چیز دے تو صاف ظاہر ہے کہ خود اسے ہی دینا مقصود ہے لہٰذا اسے جمع کرانے کی ضرورت نہیں تاہم بہتر یہ ہے کہ اداروں کے نمائندے اس سلسلے میں احتیاط پر کاربند رہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم