Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد رہے، دائمی اور ابدی زندگی کا مقام آخرت ہے!

Updated: October 03, 2025, 3:31 PM IST | Syed Abul Ala Maududi | Mumbai

کامیابی و ناکامی کا اصل معیار یہ نہیں ہے کہ کس نے تخت شاہی پر بیٹھ کر امتحان دیا اور کس نے تختۂ دار پر، اور کس کی آزمائش ایک عظیم سلطنت دے کر کی گئی اور کسے ایک جھونپڑی میں آزمایا گیا۔ امتحان گاہ کے یہ وقتی اور عارضی حالات اگر اچھے ہوں تو یہ فوز و فلاح کی دلیل نہیں اور خراب ہوں تو یہ خائب (محروم) و خاسر (نقصان اُٹھانے والا) رہ جانے کے ہم معنی نہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہر حال میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دیجئے اور اپنے ہر کام میں آخرت کی فوز و فلاح کو مقصود بنایئے۔ قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ دائمی اور ابدی زندگی کا مقام آخرت ہے، اور دنیا کی اس عارضی قیام گاہ میں ہم صرف اس امتحان کے لئے بھیجے گئے ہیں کہ خدا کے دیئے ہوئے تھوڑے سے سروسامان، تھوڑے سے اختیارات، اور گنے چنے اوقات و مواقع میں کام کر کے ہم میں سے کون اپنے آپ کو خدا کی جنت کا مستقل آباد کار بننے کیلئے موزوں ثابت کرتا ہے۔ یہاں جس چیز کا امتحان ہم سے لیا جا رہا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ ہم صنعتیں اور تجارتیں اور کھیتیاں اور سلطنتیں چلانے میں کیا کمالات دکھاتے ہیں، عمارتیں اور سڑکیں کیسی اچھی بناتے ہیں، اور ایک شان دار تمدن پیدا کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں، بلکہ سارا امتحان صرف اس امر کا ہے کہ ہم خدا کی دی ہوئی امانتوں میں خدا کی خلافت کا حق ادا کرنے کی کتنی قابلیت رکھتے ہیں۔ ہم، باغی اور خودمختار بن کر رہتے ہیں یا مطیع و فرماں بردار بن کر؟ خدا کی زمین پر خدا کی مرضی پوری کرتے ہیں یا اپنے نفس اور اربابٌ من دون اللّٰہ کی؟ اور خدا کی دنیا کو خدائی معیارکے مطابق سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں یا بگاڑنے کی؟اور خدا کی خاطر شیطانی قوتوں سے کش مکش اور مقابلہ کرتے ہیں، یا ان کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں ؟
جنت میں آدم و حوا علیہما السلام کا جو پہلا امتحان ہوا تھا وہ دراصل اسی امر میں تھا، اور آخرت میں جنت کی مستقل آبادی کے لئے بنی نوع انسان کے افراد کا جو انتخاب ہوگا وہ بھی اسی فیصلہ کن سوال پر ہوگا۔ پس کامیابی و ناکامی کا اصل معیار یہ نہیں ہے کہ امتحان دینے کے دوران میں کس نے تخت شاہی پر بیٹھ کر امتحان دیا اور کس نے تختۂ دار پر، اور کس کی آزمائش ایک سلطنت ِعظیم دے کر کی گئی اور کسے ایک جھونپڑی میں آزمایا گیا۔ امتحان گاہ کے یہ وقتی اور عارضی حالات اگر اچھے ہوں تو یہ فوز و فلاح کی دلیل نہیں، اور برے ہوں تو یہ خائب و خاسر رہ جانے کے ہم معنی نہیں۔ اصل کامیابی جس پر ہمیں اپنی نگاہ جمائے رکھنی چاہئے، یہ ہے کہ دنیا کی اس امتحان گاہ میں جس جگہ بھی ہم بٹھائے گئے ہیں اور جو کچھ بھی دے کر ہمیں آزمایاجارہا ہے اس میں ہم اپنے آپ کو خدا کا وفادار بندہ اور اس کی مرضیات کا متبع ثابت کریں تاکہ آخرت میں ہم کو وہ جگہ ملے جو خدا نے اپنے وفادار بندوں کیلئے رکھی ہے۔ 
حضرات! یہ ہے اصل حقیقت۔ مگر یہ ایسی حقیقت ہے جسے محض ایک دفعہ سمجھ لینا اور مان جانا کافی نہیں ہے بلکہ اسے ہر وقت ذہن میں تازہ رکھنے کی سخت کوشش کرنی پڑتی ہے، ورنہ ہر وقت اس کا امکان رہتا ہے کہ ہم آخرت کے منکر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں اس طریقے پر کام کرنے لگیں جو آخرت کو بھول کر، دُنیا کو مقصود بناکر کام کرنے والوں کا طریقہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت ایک غیرمحسوس چیز ہے جو مرنے کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ اس دنیا میں ہم اس کا اور اس کے اچھے بُرے نتائج کا ادراک صرف ذہنی توجہ ہی سے کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس دُنیا ایک محسوس چیز ہے جو اپنی تلخیاں اور شیرینیاں ہر وقت ہمیں چکھاتی رہتی ہے اور جس کے اچھے اور بُرے نتائج ہر آن ہمارے سامنے آکر ہمیں یہ دھوکا دیتے رہتے ہیں کہ اصل نتائج بس یہی ہیں۔ 
آخرت بگڑے تو اس کی تھوڑی بہت تلخی ہمیں صرف ایک دل کے چھپے ہوئے ضمیر میں محسوس ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ زندہ ہو مگر دنیا بگڑے تو اس کی چبھن ہمارا رونگٹا رونگٹا محسوس کرتا ہے اور ہمارے بال بچے، عزیز واقارب، دوست، آشنا اور سوسائٹی کے عام لوگ، سب مل جل کر اسے محسوس کرتے اور کراتے ہیں۔ اسی طرح آخرت سنورے تواس کی کوئی ٹھنڈک ہمیں ایک گوشۂ دل کے سوا کہیں محسوس نہیں ہوتی، اور وہاں بھی صرف اس صورت میں محسوس ہوتی ہے، جب غفلت نے دل کے اس گوشے کو سن نہ کر دیا ہو۔ مگر اپنی دنیا کا سنوار اور کامیابی ہمارے پورے وجود کے لئے لذت بن جاتی ہے، ہمارے تمام حواس اس کو محسوس کرتے ہیں اور ہمارا سارا ماحول اس کے احساس میں شریک ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو بطور ایک عقیدے کے مان لینا چاہے بہت مشکل نہ ہو مگر اسے اندازفکر اور اخلاق و اعمال کے پورے نظام کی بنیاد بناکر زندگی بھر کام کرنا سخت مشکل ہے اور دنیا کو زبان سے ہیچ کہہ دینا چاہے کتنا ہی آسان ہو، مگر دل سے اس کی محبوبیت اور خیال سے اس کی مطلوبیت کو نکال پھینکنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ کیفیت بڑی کوشش سے حاصل ہوتی ہے اور پیہم کوشش کرتے رہنے سے قائم رہ سکتی ہے۔ 
فکرآخرت کی تربیت کے ذرائع
آپ پوچھیں گے کہ یہ کوشش ہم کیسے کریں اور کن چیزوں سے اس میں مدد لیں ؟ میں عرض کروں گا کہ اس کے بھی دو طریقے ہیں : ایک فکری طریقہ، اور دوسرا عملی طریقہ۔ 
فکری طریقہ: یہ ہے کہ آپ صرف اٰمَنْتُ بِالْیَوْمِ الْاٰخِر کہہ دینے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی عادت ڈالیں جس سے رفتہ رفتہ آپ کو آخرت کا عالم، دنیا کے اس پردے کے پیچھے یقین کی آنکھوں سے نظر آنے لگے گا۔ قرآن کا شاید کوئی ایک صفحہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں کسی نہ کسی ڈھنگ سے آخرت کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ جگہ جگہ آپ کو اس میں عالم ِ آخرت کا نقشہ ایسی تفصیل کے ساتھ ملے گا کہ جیسے کوئی وہاں کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہا ہو، بلکہ بہت سے مقامات پر یہ نقشہ کشی ایسے عجیب طریقے سے کی گئی ہے کہ پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو وہاں پہنچا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے اور بس اتنی کسر رہ جاتی ہے کہ اس مادی دنیا کا دھندلا سا پردہ ذرا سامنے سے ہٹ جائے تو آدمی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لے جو الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے۔ پس قرآن کو بالالتزام سمجھ کر پڑھتے رہنے سے بتدریج آدمی کو یہ کیفیت حاصل ہوسکتی ہے کہ اس کے ذہن پر آخرت کا خیال مسلّط ہوجائے اور وہ ہروقت یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی مستقل قیام گاہ موت کے بعد کا عالَم ہے جس کی اسے دنیا کی اس عارضی زندگی میں تیاری کرنی ہے۔ 
اس ذہنی کیفیت کو مزید تقویت حدیث کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے جس میں بار بار، حیات بعدالموت کے حالات بالکل ایک چشم دید مشاہدے کی شان سے آدمی کے سامنے آتے ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐؐ کے صحابہ کرامؓ کس طرح ہر وقت آخرت کے یقین سے معمور رہتے تھے۔ 
پھر اس کیفیت کو راسخ کرنے میں مدد زیارت قبور سے ملتی ہے جس کی واحد غرض سرکار دو عالمؐ نے یہ بتائی کہ آدمی کو اپنی موت یاد رہے اور وہ دنیا کی اس متاعِ غرور کے ساتھ مشغول رہتے ہوئے یہ نہ بھول جائے کہ آخرکار اسے جانا وہیں ہے جہاں سب گئے ہیں اور روز چلے جا رہے ہیں۔ 
عملی طریقہ: اس کے بعدعملی طریقے کو لیجئے۔ آپ کو دنیا میں رہتے ہوئے اپنی گھریلو زندگی میں، اپنے محلے اور اپنی برادری کی زندگی میں، اپنے حلقۂ احباب اورحلقۂ تعارف میں، اپنے شہر اور اپنے ملک کے معاملات میں، اپنے لین دین اور اپنی معاش کے کاموں میں، غرض ہر طرف ہرآن قدم قدم پر ایسے دوراہے ملتے ہیں جن میں سے ایک راستے کی طرف جانا ایمان بالآخرۃ کا تقاضا ہوتا ہے اور دوسرے کو اختیار کرنا دنیا پرستی کا تقاضا۔ 
 ایسے ہرموقعے پر پوری کوشش کیجئے کہ آپ کا قدم پہلے راستے ہی کی طرف بڑھے اور اگر نفس کی کمزوری سے یا غفلت کی وجہ سے کبھی دوسرے راستے پر آپ چل نکلے ہوں، تو ہوش آتے ہی پلٹنے کی کوشش کیجئے، خواہ کتنی ہی دُور پہنچ چکے ہوں۔ پھر وقتاً فوقتاً اپنا حساب لے کر دیکھتے رہئے کہ کتنے مواقع پر دُنیا آپ کو کھینچنے میں کامیاب ہوئی اور کتنی بار آپ آخرت کی طرف کھنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ جائزہ آپ کو خود ہی ناپ تول کر بتاتا رہے گا کہ آپ کے اندر فکر ِآخرت نےکتنی نشوونما پائی، اور ابھی کتنی کمی آپ کو پوری کرنی ہے۔ جس قدر کمی آپ خود محسوس کریں اسے خود ہی پورا کرنے کی کوشش کریں۔ بیرونی مدد آپ کو زیادہ سے زیادہ بہم پہنچ سکتی ہے تو اس طرح کہ دنیا پرست لوگوں کو چھوڑ کر ایسے صالح لوگوں سے ربط بڑھائیں جو آپ کے علم میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہوں۔ مگر یاد رکھئے کہ آج تک کوئی ذریعہ ایسا دریافت نہیں ہوسکا ہے جو آپ کے اندر خود آپ کی اپنی کوشش کے بغیر کسی صفت کو گھٹاسکے یا بڑھا سکے، یا ایسی کوئی نئی صفت آپ میں پیدا کرسکے جس کا مادہ آپ کی طبیعت میں موجود نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK