Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظاہروں پر آہنی شکنجہ، جوابدہی کا فقدان اور تیزی سے ختم ہوتی ہوئی جمہوریت

Updated: July 24, 2026, 9:53 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

سنیچر کو جنتر منتر پر ’’شب خون‘‘نماکارروائی اور سونم وانگ چک کی ’’اغوا‘‘ نمااسپتال منتقلی محض احتجاج کودبانے کی کوشش نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت کے مزاج کوبدلنے کی کوشش ہے لیکن ایسی ہر کوشش عوامی بیداری کا ذریعہ بنے گی اور بالآخر حالات بدلیں گے۔

While carrying Sonam Wangchuck from Jantar Mantar, the police resorted to a chador to prevent her aggression from being exposed to the public. Photo: INN
جنترمنتر سے سونم وانگ چک کو اٹھاتے ہوئے پولیس نے چادر کا سہارا لیا تاکہ اس کی جارحیت عوام کے سامنے نہ آسکے۔ تصویر: آئی این این

جنتر منتر پر امڈنے والی بھیڑ میں  گزشتہ چند دنوں  سے جس تیزی سے اضافہ ہورہاتھا اورعوامی حمایت جس طرح بڑھ رہی تھی اس کے بعد یہ توقع پہلے ہی کی جارہی تھی کہ کسی بھی وقت سونم وانگ چک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا جائےگا ۔ اس لئے سنیچر کو علی الصباح جو کچھ ہوا وہ ایسا نہیں تھا جس کی توقع نہیں تھی۔ البتہ دہلی پولیس نے جس طرح  جنتر منتر پر’’شب خون‘‘جیسی کارروائی کی اور’’اغوا‘‘کی شکل میں سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کیا، اس نے ملک میں آمرانہ طرز حکمرانی کے الزامات پر مہر ضرور لگادی ہے۔ یہ محض ایک احتجاج کو ختم کرنے کی کوشش نہیں ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کے مزاج بدلنے کی اس کوشش کی علامت ہے، جہاں اختلافِ رائے کو سننے کے بجائے اسے انتظامی طاقت سے دبانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وہ حکومت جو اَنّا آندولن کی وجہ سے ہموار ہونے والے حالات کا فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آئی تھی، نے ملک میں  عوامی احتجاج اور مظاہروں  کے تعلق سے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا اورانہیں  جس طرح  آہنی پنجوں سے کچلنے کی کوشش کی وہ ہر بار ایک نئی بلندی تک پہنچ رہی ہے۔ 
چونکہ اب یہ جگ ظاہر ہوچکاہے کہ انّا ہزارے کا نام نہاد آندولن عوامی تحریک نہیں تھی بلکہ سنگھ پریوار کی حمایت یافتہ ایسی ’’گڑھی ہوئی‘‘ مہم تھی جس کا مقصد بی جےپی کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کرنا تھا اس لئے ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ کے مصداق ملک کا ایک بڑا طبقہ کاکروچ جنتا پارٹی کی موجودہ تحریک کے بنیادی نکتہ سے متفق ہونے کے باوجود روز اول سے اس تحریک کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ شبہات میں  مبتلا ایک طبقہ اسے ملک میں  اپوزیشن کو بے اثر کرنے کی حکمت عملی کے طورپر بھی دیکھ رہاتھالیکن سنیچر کو جو کچھ ہوا اس نے صورتحال بدل کر رکھی دی ہےا ور یہ سوال گشت کرنے لگا ہے کہ کیا بوکھلاہٹ میں  مودی حکومت نے اپنے ہی پیروں  پر کلہاڑی مار لی ہے اورکیا ’’انّاآندولن ‘‘کی طرح کاکروچ تحریک مودی حکومت کا ’’جنتر منتر‘‘ثابت ہوگی؟ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔ انا آندولن کو مین اسٹریم میڈیا کی جو حمایت حاصل تھی، وہ حمایت کاکروچ جنتا پارٹی کو حاصل نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اور متبادل میڈیا کے ذریعہ یہ تحریک لوگوں  تک پہنچ ضرور رہی ہے اور عوامی بیداری کا باعث بھی بن رہی ہے مگر متبادل میڈیا کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں  بھی ’’گودی میڈیا‘‘ موجود ہے ۔ یوٹیوب ہو کہ فیس بک کہ انسٹا گرام، اِن کا الگوردھم کچھ اس طرح کا ہے کہ آپ جو دیکھتے ہیں وہی آپ کو دکھایا جاتا ہے، اس لئے جن کے ذہن ابھی نہیں  کھلے، وہ اب تک جو دیکھتے آئے ہیں وہی دیکھ رہے ہیں  ۔ سونم وانگ چک کی جبری منتقل کے بعد ابھیجیت دپکے پر سیاہی پھینکنے کی واردات اسی کا نتیجہ ہے۔ یوپی اے کے آخری دور میں میڈیا جس طرح  حکومت سے سوال پوچھنے کی جرأت کا مظاہرہ کررہاتھا، اسی جرأت کا مظاہرہ اگرآج کرنے لگے تو شاید چند مہینوں  میں  حالات میں انقلابی تبدیلی آجائے۔ البتہ ایسا لگتا ہے کہ اس کمی کو اب خود مودی حکومت انجانے میں   پوراکررہی ہے۔ بعید نہیں کہ سونم وانگ چک کی جبری اور انتہائی سفاکانہ اسپتال منتقلی نوجوانوں  کے غصہ کیلئے مہمیز ثابت ہو ۔ یہ تو ہم سب نے دیکھ لیا کہ تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ اب جو اندیشہ ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی وقت پولیس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے جنتر منتر خالی کروالیا جائے گا۔ یہ رویہ ملک میں حکمراں  محاذ کے وسیع تر سیاسی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کسان تحریک، شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج، خواتین پہلوانوں کا دھرنا، طلبہ تحریکیں اور اب سونم وانگ چک کا احتجاج ہر موقع پر حکومت کا پہلا ردعمل بات چیت نہیں بلکہ سخت انتظامی کارروائی یا طویل خاموشی رہا ہے۔ خود سونم وانگ چک کی لداخ کے ریاستی درجہ کیلئے طویل تحریک کو جس طرح  کچلا گیا اور انہیں  این ایس اے کے تحت ۳؍ ماہ تک جیل میں  رکھاگیا وہ جگ ظاہر ہے۔ شاید جنتر منتر کے مظاہرہ کے تعلق سے بھی حکومت کو امید رہی ہوگی کہ نوجوانوں  کی یہ بھیڑ جوش نوجوانی میں  مشتعل ہوکر ضرور کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے گی جو اس کے خلاف پولیس ایکشن کا جواز فراہم کردے مگر جب کم وبیش ایک ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی موقع نہیں  ملا، پانی روکنے، بارش میں ترپال نہ باندھنے دینے اور چائے ناشتہ پہنچانےوالوں  کے گھروں  پر پولیس بھیجنے کے بعد بھی نوجوانوں نے مشتعل ہوکر کوئی موقع نہیں دیا اور اس کے برخلاف سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال نے ہر گزرتے دن عوام و خواص کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنی شروع کردی تو پھر وہ کرنا پڑا جو کیاگیا۔ 
عوامی مظاہروں  کے تعلق سے حکومت کا یہ رویہ جہاں  اس کی انانیت کو ظاہر کرتا ہے وہیں  اس کے خوف کا مظہر بھی ہے کہ کہیں کوئی عوامی تحریک اس کیلئے بھی ’’انا آندولن‘‘ نہ بن جائے۔ تاہم اس بار حکومت کا سامنا ان نوجوانوں  سے ہے جو ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق گھروں   سے نکلے ہیں ۔ انہیں  طاقت کے استعمال سے دبانے کی ہر کوشش مزید مشتعل کرسکتی ہے۔ سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے یا جنتر منتر کو نواجوانوں  سے خالی کرایا جاسکتاہے لیکن ان کے اٹھائے ہوئے سوالات جو عوام میں تیزی سےگشت کررہے ہیں، کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جمہوریت میں اظہار اختلاف کو طاقت سے دبادینا آسان ضرورمعلوم ہوتا ہے مگر یہ عمل عوامی دلوں  میں  جس لاوے کو جنم دے سکتاہے وہ لاواکسی بھی حکومت کو اپنے ساتھ بہا لے جانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ 
مودی حکومت ہوسکتا ہے کہ مظاہرین کے آگے جھک کرمنموہن سنگھ سرکار کی طرح ’’کمزور ‘‘نظر نہیں آنا چاہتی ہو لیکن جمہوریت میں  مضبوط حکومت وہ نہیں جو مخالف آوازوں کو دبا دے بلکہ وہ ہوتی ہے جو اُن آوازوں کو سن کر دلیل، شفافیت اور مکالمے کے ذریعے جواب دے۔ آواز کو دبانا اور پھر اٹھنے نہ دینا آمریت کی علامت ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ملک میں  عوامی ردعمل کے حوالہ سے اب تک کے متفقہ اصول اکثر انتخابی نتائج میں  غلط ثابت ہوئے ہیں ، نوٹ بندی کی وجہ سے عوام کو ہونےوالی پریشانی سے لے کر کسان تحریک تک کسی کا بھی اثر انتخابی نتائج پر نظر نہیں  آتا لیکن اب حالات بدلتے ہوئے معلوم ہورہے ہیں ۔ عوامی مظاہروں  کے ساتھ حکومت کا طرز عمل اورانہیں  آہنی شکنجہ سے دبانے کی کوشش دھیرے دھیرے اُن لوگوں  میں  بھی جمہوریت کو کھو دینے کا احساس پیدا کررہی ہے جو اِس حکومت کے حامی رہے ہیں  ۔ یہ تبدیلی اگر یوں  ہی جاری رہی تو اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ فوری طور پر نہ سہی مگر حالات ضرور بدلیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK