Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا آپ مسلم مخالف ہیں؟ اس سوال پر ایلون مسک تذبذب میں مبتلا

Updated: July 26, 2026, 8:01 PM IST | New York

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک دی اکونومسٹ کی مدیر کے سوال کیا آپ مسلم مخالف ہیں؟ تذبذب میں مبتلا ہوگئے، جانئے اس انٹرویو میں مسک نے کن خیالات کا اظہار کیا۔

Elon Musk. Photo: X
ایلون مسک۔ تصویر: ایکس

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے دی اکانومسٹ کو انٹرویو میں براہ راست پوچھے جانے پر کہ کیا وہ خود کو مسلم مخالف سمجھتے ہیں، امیگریشن اور مغربی اقدار پر اپنے خیالات کا دفاع کیا۔یہ سوال دی اکانومسٹ کی ایڈیٹر ان چیف زینی منٹن بیڈوز نے سیاست، امیگریشن اور مصنوعی ذہانت پر وسیع گفتگو کے دوران اٹھایا۔ مختصر توقف کے بعد، مسک نے براہ راست ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے مخالف ہیں جو کسی ملک میں ’’متضاد نظریات‘‘ لے کر داخل ہوتے ہیں۔مسک نے کہا، ’’میں عصمت دری اور قتل کے خلاف ہوں، اور ان قوانین اور ضوابط کے نفاذ کے خلاف ہوں جو مغرب میں ہماری قبول شدہ اقدار کے منافی ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا امکان برقرار رکھا، ایران کا سخت انتباہ

بعد ازاں مسک نے استدلال کیا کہ تشویش تب پیدا ہوتی ہے جب لوگ کسی ملک میں ہجرت کرتے ہیں اور ایسے عقائد رکھتے ہیں جو اس کے قوانین اور سماجی اقدار سے متصادم ہوں۔مسک نے روایتی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا ان کی باتوں میں فرق کو پہچاننے میں ناکام رہنا ’’انتہائی افسوسناک‘‘ ہے۔انٹرویو کے ایک اور حصے میں، مسک نے نسل پرستی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ساتھی نیم ہندوستانی ہیں اور ان کے ساتھ ان کے چار بچے ہیں، جن میں سے ایک کا نام ایک مشہور ہندوستانی طبیعیات دان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تو میں کہوں گا کہ میں نسل پرست نہیں ہوں،‘‘اور مزید کہا کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس میں مختلف نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے سینئر ایگزیکٹوز کام کرتے ہیں اور انہیں یقین نہیں ہے کہ ان کی کمپنیوں میں نسل پرستی موجود ہے۔مزید برآں مسک نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی حمایت کرتے ہیں، اور کہا کہ سرحدی سلامتی، عوامی تحفظ اور سرکاری اخراجات پر ان کے خیالات انتہا پسند سیاست کے بجائے عام لوگوں کے خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برازیل نے انتخابات پر بات چیت کے خواہاں امریکی حکام کو ویزے دینے سے انکار کر دیا

یہ انٹرویو ٹیکساس کے آسٹن میں ٹیسلا کی گیگا فیکٹری میں ہوا، جس میں مصنوعی ذہانت، چین کی تکنیکی ترقی اور برطانیہ کے سیاسی منظر نامے کا بھی احاطہ کیا گیا۔ اگرچہ مسک نے مصنوعی ذہانت سے منسلک خطرات کو تسلیم کیا، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ خطرات کے باوجود بالآخر انسانیت کو فائدہ پہنچائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK