ان تنازعات نےورلڈ کپ کو تو زیادہ متاثر نہیں کیالیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کہیں نہ کہیں اس سےکھیل کی روح اورکھیل کو غیر جانبداری سے دیکھنے والوں کانظریہ ضرورمتاثرہوا۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 9:56 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
ان تنازعات نےورلڈ کپ کو تو زیادہ متاثر نہیں کیالیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کہیں نہ کہیں اس سےکھیل کی روح اورکھیل کو غیر جانبداری سے دیکھنے والوں کانظریہ ضرورمتاثرہوا۔
دنیا بھر میں فٹ بال کے مداحوں کی تعداد تقریباً۳ء۵؍ بلین یعنی ۳۵۰؍ کروڑ ہے۔ پھرخصوصی طورپر فیفا ورلڈ کپ دیکھنے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ قطر میں ۲۰۲۲ء میں ہونے والےفیفا ورلڈ کپ کومختلف ذرائع سےتقریباً۵۰۰؍ کروڑ افراد نے دیکھا تھا جبکہ صرف فائنل دیکھنے والوں کی تعداد۱۵۰؍ کروڑ تھی۔ ۲۰۲۶ء کا ورلڈکپ دیکھنے والوں کی تعداد اندازاًکئی سوملین بتائی جارہی ہے اورسمجھا جارہا ہےکہ صرف کل ہونے والا فائنل ۱۸۰؍ کروڑ شائقین دیکھیں گے۔ اگرہندوستان کی بات کریں تویہاں فیفا ورلڈ کپ مختلف پلیٹ فارم اور ذرائع سے کچھ ۳۰؍ کروڑ افراد دیکھ رہے ہیں ۔ یہ تعداد اور اعدادوشمارفیفا ورلڈ کپ کی مقبولیت اورفٹ بال کے تعلق سے مداحوں کے جنون کی تصویر پیش کرنے کیلئے کافی ہیں ۔
جس کھیل کےتعلق سے عوامی دیوانگی کا یہ عالم ہو، جسے بوڑھے، جوان اور بچے سبھی ذوق شوق سے دیکھتے ہوں، اس کھیل اور کھیل کے سب سے بڑے ایونٹ سے تنازعات جڑنے لگیں تویہ بھی عوامی موضوع بن جاتے ہیں ۔ یہ تنازعات کھیل کو زیادہ متاثر نہیں کرتےلیکن اس سےکہیں نہ کہیں کھیل کی روح اورکھیل کو غیر جانبداری سے دیکھنے والوں کانظریہ ضرورمتاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طورپررواں ورلڈ کپ میں ارجنٹائناکے تعلق سے یہ نکتہ خوب اُچھالا جارہا ہےکہ فیفا اسے ہی ورلڈ کپ دلانا چاہتا ہے ۔ راؤنڈ آف ۱۶؍ میں مصرکےساتھ میچ میں ارجنٹائنا کےحق میں کچھ فیصلوں نے میچ کومتنازع بنادیا ۔ مصر جو۷۰؍ منٹ تک میچ میں ۰-۲؍سے آگےتھا، ۱۵؍ منٹ میں ۲-۳؍ سےشکست کھا گیا ۔ کئی فاؤل جو ا رجنٹائنا کے خلاف ہوسکتے تھے، نہیں دئیے گئے۔ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انگلینڈ کو میچ میں آخری وقت تک ایک صفر کی سبقت حاصل تھی، بعد ازاں ارجنٹائنا نے ۲؍گول کرکے میچ جیت لیا اور فائنل میں جگہ بنالی ۔ ایسا نہیں ہےکہ ان میچوں میں ارجنٹائنا کو جتانا ہی مقصد تھا اوریہ کہا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ فکسنگ کی زیادہ ترباتیں اشتباہات پر مبنی ہوتی ہیں اورکرنے والے صرف باتیں ہی کرتے رہتے ہیں ، کوئی شواہد ان کے پاس بھی نہیں ہوتے، چونکہ باتیں عوام میں ہوتی ہیں اسلئے تیزی سے پھیل جاتی ہیں ۔ ارجنٹائنا مضبوط ٹیم ہےاوربہترین کھیل کامظاہرہ کررہی ہےلیکن اب ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب کھیل کی باریکیاں اور چھوٹے سے چھوٹا فاؤل بھی چھپ نہیں سکتا۔ اس لئے جو سامنے ہے اس کی بنیاد پریہ باتیں کہی جارہی ہیں ۔ بہر حال ارجنٹائناکے اسٹارلیونل میسی نے ایسی باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ٹیم نے جو کچھ حاصل کیا ہے، اپنی محنت سے کیا ہے۔
رواں ورلڈکپ میں ایران کی شرکت اوراس تعلق سے فیفا کے احکامات اور ضوابط بھی تنازعات کے گھیرے میں رہے۔ امریکی مداخلت کی وجہ سے ایرانی ٹیم کے ساتھ غیر مناسب سلوک کے واقعات دیکھنے کو ملے ۔ ایرانی ٹیم کو میچ کے مقام سے الگ جگہ پر ٹھہرایا گیاجس سے ٹیم اور عملے کو دشواریاں پیش آئیں ۔ ایرانی ٹیم کے ساتھ میزبانی کے تقاضوں کے برعکس سلوک کرنے کا فیفا پر الزام ہے۔ ٹیم کے کئی کوچز اور فٹ بال فیڈریشن حکام کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے گئے ۔ ایرانی فٹ بال ٹیم کے کپتان مہدی طارمی نے بھی فیفا ورلڈکپ کے میزبان امریکہ پر غیر منصفانہ سلوک کا الزام عائد کیا ۔ مہدی طارمی نے کہا تھا کہ فیفا نے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا لیکن کچھ بھی نہیں بدلا، ایرانی ٹیم کے لاجسٹک عملے اور میڈیا کو ویزے نہیں مل سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فیفا نے اس ورلڈ کپ میں امریکہ کے زیر اثر فیصلے کئےجبکہ وہ ایک عالمی فٹ بال ادارہ ہےاورفٹ بال ٹیموں کے تعلق سے اسے اپنی صوابدید پر فیصلے کرنے کا اختیار ہےلیکن ایرانی ٹیم کو دیگر ٹیموں جیسی سہولتیں دینے میں فیفا ناکام ثابت ہوا جبکہ وہ بھی دیگر ٹیموں کی طرح باضابطہ ٹورنامنٹ کا حصہ تھی ۔ جنگ کی وجہ سے حالانکہ ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت پر غیریقینی کے بادل تھے لیکن اتنا ہوا کہ اس کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ۔ گروپ مرحلے میں ہی ورلڈ کپ سے باہرہونے والے ایران نے جاتے جاتےمیکسیکوکی میزبانی کا شکریہ ادا کیا ۔ درا صل ایران کا بیس کیمپ ایریزونا سے میکسیکو منتقل کردیاگیا تھاجہاں ایرانی ٹیم کوہاتھوں ہاتھ لیاگیا ۔ اس میزبانی سے متاثر ہوکر اظہار تشکر کے طورپر ایران نے میکسیکو کو اپنا ’ دوسرا گھر ‘اور’دوسری ٹیم‘ تک قراردےدیا ۔
ایک تنازع امریکہ اور بلجیم کے درمیان کھیلے گئے میچ میں بھی سامنے آیا جسے بلجیم نے ۱-۴؍ سے جیت لیا تھا ۔ اس میچ میں امریکی اسٹرائیکرفولارین بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھا گیا تھا مگر بتایاجارہا ہےکہ امریکی صدرٹرمپ کی مداخلت کے بعدفیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے ریڈ کارڈ منسوخ کرنے کافیصلہ کیا۔ جمعہ کو منعقدہ فیفا کاؤنسل کی میٹنگ میں امریکی صدر ٹرمپ نے جیانی انفانٹینوکے اس فیصلے کو درست قراردیا اورجیانی ا نفانٹینو نے بھی ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد پرٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ۔ ایسے فیصلوں اورواقعات سے براہ راست کھیل متاثر نہیں ہو انہ ہی ورلڈ کپ کی مقبولیت میں کوئی کمی آئی لیکن یہ باتیں عوام میں ہیں بلکہ بچے بچے کی زبان پر ہیں ۔ سوشل میڈیا پر میمز بنائے جارہے ہیں کہ میسی کو فٹ بال کے علاوہ جس کھیل میں بھی اتارا جائے گا، فیفا کے صدر انہیں مقابلہ جتوادیں گےاوران کیلئے راہ ہموار کردیں گے۔ یہ تنازعات رواں ورلڈ کپ کا حصہ رہے ہیں ۔ اب یہ معمولی نوعیت کے ہیں یا غیر معمولی، فٹ بال کے ماہرین اس کا بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ ان سے ورلڈ کپ کو متاثر سمجھا جائےیا نہ سمجھا جائے، یہ بھی مختلف معاملہ ہے لیکن یہ تنازعات تاریخ میں درج ہوچکے ہیں ۔ ماضی میں فیفا میں منی لانڈرنگ کے بھی معاملات سامنے آچکے ہیں جن کی ایف بی آئی جیسی ایجنسی نے تحقیقات کی تھی اورکئی عہدیداروں کو گرفتار کیا تھا ۔ ان پر دہائیوں تک رشوت ستانی، منی لانڈرنگ اور میڈیا و مارکیٹنگ حقوق کے بدلے کروڑوں ڈالرز کے گھپلے کے الزامات ثابت ہوئے تھے جس کے بعد فیفا کے طویل عرصے تک صدر رہنے والے سیپ بلاٹر کو عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ رواں ورلڈ کپ مہنگے ترین ٹکٹوں کیلئے بھی سرخیوں میں رہا۔ گروپ میچوں سے لےکر سیمی فائنل اور فائنل میچوں میں نشستوں کی ترتیب کے اعتبار سے ٹکٹ کی قیمتیں سیکڑوں سے ڈالر ہزاروں ڈالر تک رہی ۔ ہندوستانی روپے میں یہ قیمتیں ہزاروں لاکھوں تک پہنچتی ہیں ۔ کروڑوں اربوں مداح اور پوری دنیا کوجوڑ کررکھنے والا یہ کھیل، بالخصوص رواں ورلڈ کپ بلا شبہ تاریخی ہے جس کا فائنل آج کی درمیانی شب کھیلا جائےگا مگریہ حقیقت ہےکہ رنگا رنگ ایونٹ اورہوش رُبا انتظامات کے باوجود یہ ورلڈ کپ تنازع سے محفوظ نہیں رہ سکا۔