سب سے زیادہ داخلی انتشار موجودہ ’نوجوان نسل‘ میں ہے، جو ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور اسی کے معیارات میں اپنی شناخت تلاش کررہی ہے۔ اسے کیا اور کیسے سمجھائیں؟
ڈیجیٹل عہد کا خطرناک پہلواس کا مستقل شور ہے،ایسا شور جو آواز سے زیادہ توجہ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اطلاعات کی یہ یلغار انسان کو ہر لمحہ حاضر تو رکھتی ہے، مگر اسی تسلسل میں اس سے باطنی توقف چھین لیتی ہے۔ تصویر: آئی این این
محمد کفیل قاسمی (پینتے پور)
یہ حقیقت تسلیم کئے بغیر فکری دیانت ممکن نہیں کہ ڈیجیٹل عہد محض ایک تکنیکی دور نہیں،بلکہ انسانی ترقی کا ایک ناگزیر اور بامعنی سنگ ِ میل ہے۔ علم تک رسائی، اظہار کی آزادی، سماجی روابط، دعوت و تعلیم، اور فکری مکالمے کے نئے دریچے،یہ سب اسی عہد کی عطا ہیں۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹے، آوازوں کو وسعت دی، اور انسان کو بے شمار اظہار کے وسیلے، ابلاغ کے دروازے اور گفتگو کے مَنَابِر فراہم کئے۔ مسئلہ اس پیش رفت میں نہیں، بلکہ اُس بے لگام اور غیر اخلاقی مصرف میں ہے،جس نے افادیت کو فرسودگی، سہولت کو لَت، اور ذریعۂ علم کو ذریعۂ غفلت میں تبدیل کر دیا ہے۔ چنانچہ سوال ڈیجیٹل دنیا کے وجود کا نہیں،بلکہ اس کے شعوری، مقصدی اور اخلاقی استعمال کا ہے،اور اسی شعور کی غیر موجودگی نے غیر ضروری، ذہن خور اور نفس فرسا ’’ایپس‘‘کو انسانی توجہ پر قابض کر دیا ہے، جہاں اختیار آہستہ آہستہ ’’ا لگوریدھم‘‘ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل عہد کی اس افادیت کو تسلیم کرنے کے بعد، اصل سوال انسان کے داخلی توازن کا ہے، کیونکہ ہر تہذیبی پیش رفت اپنے ساتھ ایک نیا اخلاقی امتحان بھی لاتی ہے۔ جب ٹیکنالوجی انسانی ضرورت کے تابع رہے تو وہ علم، آگہی اور ربط کا ذریعہ بنتی ہے، مگر جب انسانی توجہ اس کے تابع ہو جائے،تو یہی سہولت فکری انتشار میں ڈھلنے لگتی ہے۔ یہاں مسئلہ ہاتھوں میں اسکرین کی موجودگی نہیں،بلکہ اس کی مرکزیت ہے،وہ مرکزیت جو انسان کے شعور، ترجیحات اور وقت کی درجہ بندی کو خاموشی سے بدل دیتی ہے۔ اس مرحلے پر انسان معلومات کا صارف تو رہتا ہے، مگر معنویت کا خالق نہیں رہتا؛ وہ مسلسل مصروف دکھائی دیتا ہے، مگر باطن میں ایک گہرا خالی پن پنپنے لگتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ’’ڈیجیٹل عہد‘‘محض تکنیکی حقیقت نہیں رہتا،بلکہ ایک فکری و اخلاقی چیلنج کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور جہاں ایمان بطور شعوری ضبط اور داخلی بیداری، اپنی عصری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
اسی تناظر میں انسانی ادراک کے اس بنیادی مرکز’’دل‘‘ کی طرف رجوع ناگزیر ہو جاتا ہے، جسے اسلامی فکر محض جذبات کا مخزن نہیں،بلکہ فہم، نیت اور اخلاقی فیصلوں کا سرچشمہ قرار دیتی ہے۔ ڈیجیٹل عہد کی مسلسل تحریک اور معلوماتی شور نے اسی مرکز کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، کیونکہ توجہ کی انتشار پزیری، دل کی یکسوئی کو مجروح کر دیتی ہے۔ جب شعور لمحہ بہ لمحہ بیرونی محرکات کے تابع ہو جائے،تو داخلی آواز دھندلا جاتی ہے، اور انسان دیکھنے کے باوجود سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کی طرف قرآنِ کریم انسانی تاریخ کے تناظر میں متوجہ کرتا ہے کہ اصل محرومی آنکھوں کی نہیں بلکہ دلوں کی ہوتی ہے، ایسے دل جو سینوں میں ہونے کے باوجود ادراک کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس طرح ڈیجیٹل دنیا محض ایک بیرونی فریم نہیں رہتی،بلکہ انسانی باطن کیلئے ایک کسوٹی بن جاتی ہے۔
اسی داخلی نابینائی کی وضاحت قرآن مجید نہایت واضح اسلوب میں کرتا ہے، جب وہ انسانی گمراہی کو حسی کمزوری کے بجائے، شعوری انحراف سے تعبیر کرتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ’’حقیقت میں اندھے پن کا تعلق آنکھوں سے نہیں بلکہ ان دلوں سے ہے جو سینوں میں بستے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج:۶ ۴) یہ آیت ڈیجیٹل عہد کے انسان کیلئے ایک فکری رہنمائی عطا کرتی ہے، کیونکہ آج آنکھیں پہلے سے کہیں زیادہ متحرک ہیں، مگر بصیرت اسی قدر کمزور۔ اسکرین کی روشنی سمجھنے کی صلاحیت کو بکھیر دیتی ہے؛ معلومات بڑھتی ہیں ، مگر معنویت تحلیل ہو جاتی ہے۔ یوں انسان ہر شے تک رسائی رکھنے کے باوجود اپنے اندر کی سمت کھو بیٹھتا ہے۔ قرآن کے اس تصورِ قلب کو حدیث ِ نبویؐ ایک نہایت جامع اور وجودی وضاحت عطا کرتی ہے، جہاں انسانی شخصیت کی تعمیر و تخریب کا مرکز واضح طور پر دل کو قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جس کی اصلاح پورے وجود کی اصلاح اور جس کی خرابی پورے وجود کی خرابی بن جاتی ہے، اور خبردار،وہ گوشت کا ٹکڑا دل ہے ۔‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان)
یہ محض اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ انسانی نفسیات پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ انسانی اعمال، رجحانات اور ترجیحات کسی بیرونی نظام کے نہیں بلکہ اسی داخلی مرکز کے تابع ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل عہد میں، جہاں انسان کا شعور مسلسل بیرونی محرکات کے زیرِ اثر رہتا ہے، دل کی یہ مرکزیت مزید نازک ہو جاتی ہے، کیونکہ توجہ کی تقسیم دل کی یکسوئی کو کمزور کرتی ہے۔ نتیجتاً انسان بظاہر مصروف، باخبر اور مربوط دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی داخلی ساخت میں ایک خاموش انتشار سرایت کرنے لگتا ہے،ایسا انتشار جو انسان کے ’’ ایمان‘‘ کو محض ’’رسمی شناخت‘‘ میں تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل عہد کا خطرناک پہلواس کا مستقل شور ہے،ایسا شور جو آواز سے زیادہ توجہ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اطلاعات کی یہ یلغار انسان کو ہر لمحہ حاضر تو رکھتی ہے، مگر اسی تسلسل میں اس سے باطنی توقف چھین لیتی ہے۔ اسلامی روایت میں ’’ذِکر‘‘محض الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ شعور کی یکسوئی اور باطن کی بیداری کا نام ہے، اور یہی یکسوئی اس عہد میں سب سے نایاب قدر بن چکی ہے۔ قرآن جب دل میں، آہستگی اور خشیّت کے ساتھ رب کو یاد کرنے کی بات کرتا ہے، تو وہ دراصل انسانی شعور کو اس ’’خارجی ہجوم‘‘ سے واپس بلاتا ہے جس نے انسان کو مسلسل ردِعمل کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس پس منظر میں خاموشی کوئی خلا نہیں،بلکہ ایک فعال حالت بن جاتی ہے،ایسی حالت جہاں انسان اپنی نیت، اپنے اختیار اور اپنے اخلاقی وزن کو دوبارہ محسوس کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ یوں’’ذکر اور خاموشی‘‘ڈیجیٹل دنیا سے فرار نہیں،بلکہ اس میں رہتے ہوئے انسانی خودمختاری کی بازیافت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
یہ داخلی انتشار سب سے زیادہ جس طبقے میں نمایاں ہے، وہ موجودہ ’’نوجوان نسل‘‘ ہے، جو ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور اسی کے معیارات میں اپنی شناخت تلاش کرنے پر مجبور ہوئی۔ بظاہر یہ نسل دنیا بھر سے جڑی ہوئی ہے، مگر معنوی سطح پر خود سے ہی کنارہ کش دکھائی دیتی ہے۔ اظہار کے بے شمار پلیٹ فارم رکھنے کے باوجود یہ نسل ’’خاموش اضطراب‘‘کا شکار ہے، کیونکہ شناخت اب اقدار سے نہیں،بلکہ توجہ، مقبولیت اور فوری ردِعمل سے متعین ہونے لگی ہے۔ اس ماحول میں ایمان کسی موروثی وابستگی کے بجائے،ایک شعوری انتخاب کا تقاضا کرتا ہے،ایسا انتخاب جو نوجوان کو محض دیکھنے والا صارف نہیں،بلکہ اپنے اعمال اور ترجیحات کا ذمہ دار انسان بناتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل عہد نوجوان کے سامنے سہولتوں کے ساتھ ساتھ ایک گہرا فکری امتحان بھی رکھتا ہے: وہ اپنی شناخت اسکرین کی عارضی روشنی میں تراشے ، یا دل کی دیرپا ’’بصیرت ‘‘ میں۔
ڈیجیٹل ماحول نے اخلاقی عمل کی نوعیت کو بھی بنیادی طور پر بدل دیا ہے، کیونکہ اس نے گناہ کو محض آسان نہیں بلکہ بتدریج معمول بنا دیاہے۔ جو رویے کبھی خلوت، شرم یا خوف کے دائرے میں سمجھے جاتے تھے، وہ اب اسکرین کی غیر شخصی روشنی میں اجتماعی تماشے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اس تبدیلی کا سب سے گہرا اثر یہ ہے کہ برائی اب سوال کی متقاضی نہیں رہتی، کیونکہ جو چیز روزمرہ کا حصہ بن جائے، وہ اخلاقی تجزیے سے ماورا محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسانی ضمیر خاموش اور اخلاقی حساسیت ماند پڑنے لگتی ہے۔ اس پس منظر میں ’’تقویٰ‘‘کسی انفرادی پاکیزگی کا نہیں،بلکہ’’ اجتماعی فکر‘‘ کا نام بن جاتا ہے،ایک ایسی فکر جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ ہر عمل، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اپنے اخلاقی وزن اور انجام سے خالی نہیں ہوتا۔
اسی مقام پر ضبطِ نفس کی وہ قدر سامنے آتی ہے جسے اسلامی روایت محض اخلاقی خوبی نہیں،بلکہ انسانی آزادی کی شرط قرار دیتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص اپنی زبان اور اپنی شرم گاہ کی ضمانت دے، اس کے لئے جنت کی ضمانت ہے۔ (صحیح البخاری-کتاب الرقاق، باب حف اللسان) یہ دراصل انسانی اختیار کے دو سب سے نازک مراکز کی نشاندہی کرتا ہے،’’اظہار اور خواہش۔‘‘ ڈیجیٹل عہد میں یہی دونوں مراکز سب سے زیادہ بیرونی اثرات کے زیرِ تصرف آ چکے ہیں؛ زبان فوری ردِعمل کی اسیر ہے اور خواہش مسلسل بصری تحریک کے زیرِ اثر۔ اس تناظر میں یہ حدیث ایک تہذیبی فہم فراہم کرتی ہے کہ انسان کی نجات یا زوال کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی توجہ، اظہار اور رغبت کو کس حد تک شعوری نظم کے تحت رکھ پاتا ہے۔ یوں ضبطِ نفس جبر نہیں بلکہ خود مختاری کی اعلیٰ صورت بن کر سامنے آتا ہے،ایسی خود مختاری جو اسکرین کی مسلسل طلب سے آزاد کر کے انسان کو اپنے فیصلوں کا حقیقی فاعل بناتی ہے۔
اس پورے فکری تناظر میں ’’یومِ جمعہ‘‘ محض ایک ہفتہ وار مذہبی فریضہ نہیں رہتا ،بلکہ ایک تہذیبی وقفے کی صورت اختیار کر لیتا ہے،ایسا وقفہ جو انسان کو مسلسل بہاؤ، تیز رفتار مصروفیت اور ڈیجیٹل تسلسل سے نکال کر خود سے مکالمے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یومِ جمعہ کا اجتماع دراصل فرد کو یاد دلاتا ہے ،کہ زندگی محض فوری ردِعمل کا نام نہیں بلکہ شعوری انتخاب کا تقاضا کرتی ہے۔ اس دن اسکرین کے سا تھ تنہائی کے مقابلے میں جماعت،بے مقصداَلگورِدھَم کے مقابلے میںاخلاقی بالیدگی، اور فوری لذت کے مقابلے میں زِندگی کی بامقصد معنویت کو ترجیح دینے کااجتماعی موقع ہوتا ہے۔ اِس طرح جمعہ ایک اجتماعی یاد دہانی ہے،کہ ڈیجیٹل عہد میں انسان اپنی بکھرتی ہوئی توجہ کو سمیٹ کر مقصد، ذمہ داری اور باطنی توازن کی طرف واپس آجائے۔