Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشرہ کی فلاح عدل و احسان میں مضمر ہے

Updated: February 16, 2024, 1:02 PM IST | Hafiz Iftikhar Ahmad Qadri Barakati | Mumbai

مذہب ِ اِسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں انسان کے انفرادی اور اجتماعی دونوں شعبوں کیلئے وہ تمام ہدایات موجود ہیں جن سے کسی فرد اور معاشرہ کی فلاح اور امن و سلامتی کی ضمانت ملتی ہے۔

Islam has taught to treat all creatures well. Photo: INN
اسلام نے تمام مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دی ہے۔ تصویر : آئی این این

مذہب ِ اِسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں انسان کے انفرادی اور اجتماعی دونوں شعبوں کیلئے وہ تمام ہدایات موجود ہیں جن سے کسی فرد اور معاشرہ کی فلاح اور امن و سلامتی کی ضمانت ملتی ہے۔ اِسلام نے حقوق و فرائض کا ایک ایسا مکمل نظام مرتب کیا ہے جس کے نتیجے میں تعمیری قوتیں پروان چڑھتی ہیں اور تخریبی قوتیں فنا ہو تی ہیں۔ اِسلام نے حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو ’’اسوة حسنہ‘‘ یعنی نمونہ اور کمال کا پیکر اتم قرار دیا ہے۔ اس اعتبار سے آپؐ کی ذاتِ مقدسہ قابلِ اتباع بھی ہے اور واجب الاتباع بھی۔ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے اسلامی عبادات کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس قدر وسیع ہے کہ اپنے دامن میں انسان کی فکری اور عملی زندگی کے تمام گوشوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس لحاظ سے اِسلام کا تصورِ عبادت صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ تک محدود نہیں بلکہ یہ محبت ِعقائد، حب الٰہی، مالی ایثار و قربانی، صحت اعمال، ایفائے عہد، صبر و تحمل، ہمدردی و بھائی چارہ اور عدل واحسان جیسے عمدہ خصائص کے مجموعہ سے بھی عبارت ہے۔ 
 دوسرے الفاظ میں سیرتِ رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ہمیں حیاتِ انسانی کے اس نصب العین کا پتہ چلتا ہے جس کے لئے انسان کو اس دنیائے آب و گل میں بھیجا گیا یعنی اخلاقی کمال کی تکمیل اور رضائے الٰہی کا حصول۔ اس نصب العین کے حصول کا طریقہ کار مذہب اسلام نے عدل و احسان کو قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ ہے: ’’بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔ ‘‘ (النحل:۹۰)
گویا انفرادی اور اجتماعی (معاشرہ اور تمام عالمِ انسانیت کی) فلاح عدل و احسان دونوں کو اختیار کرنے میں مضمر ہے۔ لغت میں عدل کے معنی برابر کرنے یا متوازن کرنے کے آتے ہیں لیکن اِسلام عدل کے جس تصور کا داعی ہے اس اعتبار سے یہ معنی ہوتے ہیں کہ حق دار کو اس کا حق پورا پورا ادا کر دیا جائے خواہ اس میں اس کا اپنا نقصان ہو رہا ہو یا اس کے قریبی رشتہ داروں کا خواہ جس کا حق نکلتا ہو، وہ غنی ہو یا فقیر۔ 
مذہب ِ اِسلام کا مقصد نظام عدل کا قیام ہے۔ سورہ حدید کی آیت نمبر ۲۵؍ میں الله رب العزت نے اس کا ذکر یوں کیا ہے: ’’بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں۔ ‘‘گویا عدالت انبیاء کے مقاصد میں سے ایک مقصد عظیم ہے اور اِسلام نے تمام معاملات مثلاً گواہی، لین دین، بیع وفروخت، ناپ تول، قرابت ورشتہ داری، والدین، اہل وعیال کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیموں اور زیر دستوں کی کفالت، انسانوں اور حتیٰ کہ حیوانات ونباتات کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں عدل برتنے پر خاص طور سے زور دیا ہے۔ اس لئے ان لوگوں پر جو اسلامی معاشرے میں صاحبِ امانت ہیں یا صاحبِ امر وسلطنت ہیں خاص طور سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ 
 قرآن مجید کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ نظام عدل کے قیام میں غفلت کی وجہ ہی سے معاشرہ تباہ ہوتا ہے اور معاشرتی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ چنانچہ اگلی امتیں صرف اس لیے تباہ وبرباد ہو گئیں کہ اُنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے خلاف سچ کے بجائے جھوٹ، امانت کے بجائے خیانت اور عدل کے بجائے ظلم کو اختیار کیا۔ 
اس موضوع کو مزید سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم عدل کے اسلامی نظریہ کو سمجھیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے عدل کے درج ذیل مفاہیم ہو سکتے ہیں :
٭ عدل کا ایک مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنے رب کے درمیان عدل کر لے یعنی الله رب العزت کے حق کو اپنے حظ نفس پر اور اس کی رضا جوئی کو اپنی خواہشات پر مقدم جانے۔ ٭ عدل کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنے اور تمام مخلوقات کے درمیان عدل کرے اور اس طرح کہ تمام خلق خدا کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا معاملہ کرے۔ ٭ عدل کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ عدل کا معاملہ کرے اور وہ یہ کہ اپنے نفس کو ایسی تمام چیزوں سے بچائے جو اس کو جسمانی اور روحانی ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں۔ ٭ عدل کا چوتھا مفہوم وہ ہے کہ جو عام طور پر بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ جب دو فریق اپنے کسی معاملہ کا محاکمہ یا مقدمہ تصفیہ کیلئے کسی ثالث یا حاکم یا عدالت کے روبرو قضاء پیش کریں تو ثالث یا حاکم یا منصف فیصلہ میں کسی طرف میلان کئے بغیر مکمل غیر جانبداری اور آزادی کے ساتھ حق و انصاف کے مطابق فیصلہ کرے۔ لہٰذا ایک اسلامی معاشرہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کا ہر فرد تمام معاملات اور معمولات میں عدل برتے اور عدل کی تعلیم دے خواہ وہ الله رب العزت کا معاملہ ہو یا بندوں کا۔ 
  یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حسان کے لغوی معنیٰ کو سمجھا جائے۔ اس کا معنی اچھا کرنا ہے۔ اس میں دو مفہوم شامل ہیں ؛ ایک یہ کہ تمام عبادات، معاملات، عادات، اعمال و اخلاق کو نہایت اعلیٰ درجہ پر صحیح ودرست کیا جائے اور دوسرے یہ کہ تمام مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، انسان ہو یا حیوان حتیٰ کہ اگر کسی شخص کے گھر میں اس کی بلی کو اس کی خوراک وضروریات نہ ملے اور اس کے پنجرے میں بند پرندوں کی خبر گیری نہ ہوتی ہو تو وہ کتنی ہی عبادت کرے اس کا محسنین میں شمار نہ ہوگا۔ حضرت امام راغب اصفہانی ؒعدل واحسان کے فرق کو یوں واضح کرتے ہیں ؛ ’’عدل یہ ہے کہ جس قدر دینا واجب ہو اسی قدر دیا جائے اور جس قدر لینا ضروری ہو اسی قدر لیا جائے اور احسان یہ ہے کہ جس قدر دینا واجب ہو اس سے زائد عطا کیا جائے اور جس قدر لینا ہو اس سے کم پر بخوشی راضی ہو جائے۔ ‘‘ حضورِ اقدس ﷺکی حیات ِ مبارکہ ہر گھڑی اور ہر آن عدل واعتدال اور احسان و اخلاص فی الله کا حسین مرقع تھی۔ آپؐ کی حیاتِ طیبہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں دنیائے انسانیت کے لئے عمل کا پورا نمونہ اور گم گشتگان کی ہدایت و رہنمائی کا سامان فراہم نہ ہو۔ آج اگر ہم دین کی طرف پورے خلوص اور سچائی کے ساتھ لوٹ آئیں اور اسوۂ حسنہ پر پورے خلوص اور دیانت داری کے ساتھ عمل پیرا ہوں تو ہماری زندگی از خود منور و روشن ہو جائے اور ہمارا معاشرہ لڑائی جھگڑوں نفرتوں اور عداوتوں کی آگ سے پاک ہو جائے۔ دُعا کیجئے کہ رب العالمین ہم میں وصف ِ عدل پیدا فرما دے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK