Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میرا رَب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں‘‘

Updated: May 16, 2026, 4:43 PM IST | Syed Abul A`la Maududi | Mumbai

حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبے کی زیارت کا قصد کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا۔

The sun, the moon, the stars and everything in the universe are the creation of Allah. Photo: INN
سورج، چاند، ستارے اور ہر وہ چیز جو کائنات میں ہے، سب کا خالق اللہ ہے۔ تصویر: آئی این این

حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبے کی زیارت کا قصد کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا۔سب سے پہلے اس کی ابتدا جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔ اس قصے کو غور سے پڑھئے، تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے۔
حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں حالات 
کون مسلمان، عیسائی یا یہودی ایسا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے واقف نہ ہو؟ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی اُن کو پیشوا مانتی ہے۔ حضرت موسٰی، حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تینوں انہی کی اولاد سے ہیں۔ انہی کی روشن کی ہوئی شمع سے دنیا بھر میں ہدایت کا نور پھیلا ہے۔ چار ہزار برس سے زیادہ مدت گزری جب وہ عراق کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے۔اُس وقت ساری دنیا خدا کو بھولی ہوئی تھی۔ روئے زمین پرکوئی ایسا انسان نہ تھا جو اپنے اصلی مالک کو پہچانتا ہو، اور صرف اُسی کے آگے اطاعت وبندگی میں سرجھکاتا ہو۔ جس قوم میں انہوں نے آنکھیں کھولی تھیں وہ اگرچہ اس زمانے میں دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی، لیکن گمراہی میں بھی وہی سب سے آگے تھی۔ علوم وفنون اور صنعت وحرفت میں ترقی کر لینے کے باوجود ان لوگوں کو اتنی ذرا سی بات نہ سوجھتی تھی کہ مخلوق کبھی معبود ہونے کی اہل نہیں ہوسکتی۔ ان کے ہاں ستاروںاور بتوں کی پرستش ہوتی تھی۔ نجوم، فال گیری، غیب گوئی، جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے کا خوب چرچا تھا۔ عام لوگ ان کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے تھے کہ انہی کو اپنی اچھی اور بری قسمت کا مالک سمجھتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چھٹیاں بغیر در و دیوار کا مدرسہ ہیں

حضرت ابراہیم ؑ کا گھرانا
ایسے زمانے اور ایسی قوم میں حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے اور لطف یہ ہے کہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہ خود پجاریوں کا گھرانا تھا۔ ان کے باپ دادا اپنی قوم کے پنڈت اور برہمن تھے۔ اس گھر میں وہی تعلیم اور وہی تربیت ان کو مل سکتی تھی جو ایک پنڈت زادے کو ملا کرتی ہے۔ اسی قسم کی باتیں بچپن سے کانوں میں پڑتی تھیں۔ وہی پیروں اور پیرزادوں کے رنگ ڈھنگ اپنے بھائی بندوں اور برادری کے لوگوں میں دیکھتے تھے۔ وہی معبد کی گدی ان کے لئے تیار تھی جس پر بیٹھ کر وہ اپنی قوم کے پیشوا بن سکتے تھے۔ وہی نذر ونیاز اور چڑھاوے جن سے ان کا خاندان مالامال ہورہا تھا، ان کے لئے بھی حاضر تھے۔ اُسی طرح لوگ ان کے سامنے بھی ہاتھ جوڑنے اور عقیدت سے سرجھکانے کے لئے موجود تھے۔ اسی طرح دیوتائوں سے رشتہ ملا کر اور غیب گوئی کا  دعویٰ کرکے ، ہر ایک کو اپنی پیروی کے پھندے میں پھانس سکتے تھے۔ اس اندھیرے میں جہاں کوئی ایک آدمی  بھی حق کو جاننے اور ماننے والا موجود نہ تھا، نہ تو ان کو حق کی روشنی ہی کہیں سے مل سکتی تھی اور نہ کسی انسان کے بس کا یہ کام تھا کہ اس قدر زبردست ذاتی اور خاندانی فائدوں کو چھوڑ کر محض سچائی کی خاطر دنیا بھر کی مصیبتیں مول لینے پر آمادہ ہو جاتا۔
حضرت ابراہیم ؑ کا اعلانِ برأت
مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی معمولی آدمی نہ تھے، کسی اور ہی مٹی سے ان کا خمیر بنا تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی انہوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ سورج، چاند اور ستارے  جو خود غلاموں کی طرح گردش کر رہے ہیں، اور یہ پتھر کے بت جن کو آدمی خود اپنے ہاتھ سے بناتا ہے اور یہ بادشاہ جو ہم ہی جیسے انسان ہیں، آخر یہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو بے چارے خود اپنے اختیار سے جنبش نہیں کر سکتے، جن میں آپ اپنی مدد کرنے کی قدرت نہیں، جو اپنی موت اور زیست کے بھی مختار نہیں، ان کے پاس کیا دھرا ہے کہ انسان ان کے آگے عبادت میں سر جھکائے، ان سے اپنی حاجتیں مانگے، ان کی طاقت سے خوف کھائے اور ان کی خدمت گاری و فرماںبرداری کرے۔ زمین اور آسمان کی جتنی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں، یا جن سے کسی طور پر ہم واقف ہیں، ان میں سے تو کوئی بھی ایسی نہیں جو خود محتاج نہ ہو، جو خود کسی طاقت سے دبی ہوئی نہ ہو، اور جس پر کبھی نہ کبھی زوال نہ آتا ہو۔ 
پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سے کوئی رب کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا، نہ کسی کے ہاتھ میں میری موت اور زیست کا، اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کے ہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں، تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں ان کے آگے بندگی واطاعت میں سر جھکائوں؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت وزیست اور سب کا نفع ونقصان ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑنے قطعی فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے ان کو میں ہرگز نہ پوجوں گا اور اس فیصلے پر پہنچنے کے بعد انہوں نے علی الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ:’’اے لوگو! میں ان سب سے بیزار ہوں جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو۔‘‘ (الانعام:۷۸)
’’ میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘(الانعام :۷۹)

یہ بھی پڑھئے: غفلت کو سمجھئے، یہ لاعلمی ہی نہیں باطنی نیند بھی ہے

مصائب کے پہاڑ 
اس اعلان کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ باپ نے کہا کہ میں عاق کر دوں گا اور گھر سے نکال باہر کروں گا۔ قوم نے کہا کہ ہم میں سے کوئی تمہیں پناہ نہ دے گا۔ حکومت بھی ان کے پیچھے پڑ گئی اور بادشاہ کے سامنے مقدّمہ پیش ہوا، مگر وہ یکہ وتنہا انسان سب کے مقابلے میں سچائی کی خاطر ڈٹ کر کھڑے ہوگئے ۔ باپ کو ادب سے جواب دیا کہ جو علم میرے پاس ہے وہ تمہیں نہیں ملا، اس لیے بجائے اس کے کہ میں تمہاری پیروی کروں تمہیں میری پَیروی کرنی چاہئے۔ قوم کی دھمکیوں کے جواب میں اس کے بتوں کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ثابت کر دیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو، وہ خود کس قدر بے بس ہیں۔ بادشاہ کے بھرے دربار میں جا کر صاف کہہ دیا کہ تُو میرا ربّ نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں میری اور تیری زندگی وموت ہے، اور جس کے قانون کی بندش میں سورج تک جکڑا ہوا ہے۔ آخر شاہی دربار میں فیصلہ ہوا کہ اس شخص کو زندہ جلا ڈالا جائے، مگر وہ پہاڑ سے زیادہ مضبوط دل رکھنے والا انسان، جو خدائے واحد پر ایمان لا چکا تھا، اس ہولناک سزا کو بھگتنے کے لیے بھی تیار ہوگیا۔ 
پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار، عزیزواقارب، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر اپنی بیوی کو لے کر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کیلئے نکل کھڑے ہوئے تا کہ ایک سچے خدا کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلائیں۔

ہجرت :وطن سے نکل کر حضرت ابراہیم ؑ شام، فلسطین، مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اس مسافرت کی زندگی میں ان پر کیا گزری ہو گی۔ مال و زر کچھ ساتھ لے کر نہ نکلے تھے اور باہر نکل کر اپنی روٹی کمانے کی فکر میں نہیں پھر رہے تھے بلکہ رات دن فکر تھی تو یہ تھی کہ لوگوں کو ہر ایک کی بندگی سے نکال کر صرف ایک خدا کا بندہ بنائیں۔ اس خیال کے آدمی کو جب اس کے اپنے باپ نے اور اس کی اپنی قوم نے برداشت نہ کیا تو اور کون برداشت کر سکتا تھا؟ کہاں اس کی آئو بھگت ہو سکتی تھی؟ ہر جگہ وہی مندروں کے مہنت اور وہی خدائی کے مدّعی بادشاہ موجود تھے اور ہر جگہ وہی جاہل عوام بستے تھے جو ان جھوٹے خدائوں کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ 
ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چَین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کے سوا کسی کی خدائی ماننے کیلئے تیار نہ تھا، بلکہ دوسروں سے بھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کے سوا تمہارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے اور صرف اس ایک کے بندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہے، کبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان میں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔ 
اولاد اور اس کی تربیت :اخیر عمر میں جب ۹۰؍ برس پورے ہونے میں صرف چار سال باقی تھے اور اولاد سے مایوسی ہو چکی تھی، اللہ نے اولاد دی۔ لیکن اس اللہ کے بندے کواَب بھی یہ فکر نہ ہوئی کہ خود خانماں برباد ہوا ہوں تو کم از کم اپنے بچوں ہی کو دنیا کمانے کے قابل بنائوں اور انہیں کسی ایسے کام پر لگا جائوں کہ روٹی کا سہارا مل جائے۔ نہیں، اس بوڑھے مسلمان کو فکر تھی تو یہ تھی کہ جس مشن کو پھیلانے میں خود اس نے اپنی عمر کھپا دی تھی، کاش! کوئی ایسا ہو جو اس کے مرنے کے بعد بھی اسی مشن کو پھیلاتا رہے۔ اسی غرض کے لئے وہ اللہ سے اولاد کا آرزو مند تھا، اور جب اللہ نے اولاد دی تو اس نے یہی چاہا کہ اپنے کام کو جاری رکھنے کیلئے انہیں تیار کرے۔ اس انسانِ کامل کی زندگی ایک سچے اور اصلی مسلمان کی زندگی تھی۔ ابتدائے جوانی میں ہوش سنبھالنے کے بعد ہی جب اس نے اپنے خدا کو پہچانا اور پالیا تو خدا نے اس سے کہا تھا کہ اَسْلِمْ (اسلام لے آ، اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے، میرا ہو کر رہ) اور اس نے جواب میں قول دے دیا تھا کہ: اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (سورہ البقرہ :۱۳۱) یعنی ’’میں نے اسلام قبول کیا، میں ربّ العالمین کا ہو گیا، میں نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا۔ ‘‘
اس قول وقرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا۔ اس نے ربّ العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ربّ العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صَرف کر دیا، اور بڑھاپے میں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لئے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔ 
سب سے بڑی آزمائش! مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہوسکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ربّ العالمین سے محبت رکھتا ہے، اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں، جب کہ پوری مایوسی کے بعد اسے اولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو ربّ العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں ؟ چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں، اب تم نے اپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل سچا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:
’’اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم ؑکو ان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کر دیں، (اس پر) اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا، انہوں نے عرض کیا: (کیا) میری اولاد میں سے بھی؟ ارشاد ہوا: (ہاں ! مگر) میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ ‘‘ (البقرہ:۱۲۴)
امامتِ عالم پر سرفرازی : اس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو پیشوائی سونپی گئی اور وہ اسلام کی عالمگیر تحریک کے لیڈر بنائے گئے۔ اب ان کو اس تحریک کی اشاعت کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت پیش آئی جو مختلف علاقوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں اور ان کے خلیفہ یا نائب کی حیثیت سے کام کریں۔ اس کام میں تین آدمی ان کے لئے قوتِ بازو ثابت ہوئے۔ ایک اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام، دوسرے اُن کے بڑے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام جنھوں نے یہ سن کر کہ ربّ العالمین ان کی جان کی قربانی چاہتا ہے، خود اپنی گردن خوشی خوشی چھری کے نیچے رکھ دی۔ تیسرے اُن کے چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام۔ 
حضرت لوطؑ کو شرقِ اُردن بھیجنا :بھتیجے(حضرت لوط علیہ السلام) کو آپ نے سدوم کے علاقے میں بٹھایا، جس کو آج کل شرقِ اُردن (ٹرانس جورڈینیا) کہتے ہیں۔ یہاں اس وقت کی سب سے زیادہ پاجی [بدمعاش و جرائم پیشہ] قوم رہتی تھی، اس لئے اس کی اصلاح مد نظر تھی اور ساتھ ہی دُور دراز کے علاقوں پر بھی اثر ڈالنا مقصود تھا۔ کیوں کہ ایران، عراق اور مصر کے درمیان آنے جانے والے سب تجارتی قافلے اسی علاقے سے گزرتے تھے اور یہاں بیٹھ کر دونوں طرف تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا تھا۔ 
حضرت اسحاق ؑ کو فلسطین بھیجا : چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام کو کنعان کے علاقے میں آباد کیا جس کو آج کل فلسطین کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شام اور مصر کے درمیان واقع ہے، اور سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں پر بھی یہاں سے اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ یہیں سے حضرت اسحق ؑکے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام(جن کا نام اسرائیل بھی تھا) اور پوتے حضرت یوسفؑ کی بدولت اسلام کی تحریک مصر تک پہنچی۔ 
حضرت اسماعیلؑ کو حجاز میں رکھا : بڑے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حجاز میں مکے کے مقام پر رکھا اورایک مدت تک خود ان کے ساتھ رہ کر عرب کے تمام گوشوں میں اسلام کی تعلیم پھیلائی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK