• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جو لوگ وقت ضائع کرتے ہیں، وقت اُنہیں ضائع کر دیتا ہے

Updated: October 31, 2026, 4:54 PM IST | Dr. Mufti Nadeem Ahmed Ansari | Mumbai

انسان کو اس دنیا میں جو سب سے قیمتی سرمایہ ملا ہے، وہ اس کی عمر کی چند سانسیں اور وقت کی ناپائیدار گھڑیاں ہیں۔

Recognize the importance of time and be punctual; all tasks will be completed on time. Photo: INN
وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی پابندی کریں، وقت پر تمام کام ہوں گے۔ تصویر: آئی این این

انسان کو اس دنیا میں جو سب سے قیمتی سرمایہ ملا ہے، وہ اس کی عمر کی چند سانسیں اور وقت کی ناپائیدار گھڑیاں ہیں۔ مال و دولت اگر ہاتھ سے نکل جائے تو اسے دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن گزرا ہوا ایک لمحہ بھی کائنات کی تمام دولت خرچ کر کے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ”جو لوگ وقت ضائع کرتے ہیں، وقت انہیں ضائع کر دیتا ہے۔“ آج ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے وقت کی اہمیت کو فراموش کر دیا ہے۔ وقت کی ناقدری، وعدہ خلافی، دوسروں کو انتظار کروانا اور نظامِ زندگی کی بے ترتیبی ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔

نظامِ شریعت اور پابندیِ وقت

اللہ تعالیٰ نے عبادات، معاملات اور معاشرت کے اکثر احکام کو وقت کی پابندی سے جوڑ دیا ہے تاکہ مسلمان کے اندر وقت کی قدر شناسی اور نظم و ضبط کی عادت راسخ ہو سکے۔ آپ نماز کا وقت داخل ہونے سے ایک منٹ پہلے نماز ادا نہیں کر سکتے۔ صبحِ صادق کے بعد یا افطار سے صرف ایک منٹ پہلے بھی کچھ کھا پی لیں تو روزہ نہیں ہوتا۔ذو الحجہ کے مقررہ ایام نکل جانے کے بعد پورے سال میں کسی بھی طرح حج ادا نہیں ہو سکتا۔ عید الفطر اور عید الاضحی کو ان کے مقررہ ایام و اوقات سے پہلے نہیں منایا جا سکتا۔ طلاق یا شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کی عدت کے لئے ایام و ماہ کو شمار کرنا واجب قرار دیا گیا ہے۔ہمارا دین ہمیں لمحہ لمحہ وقت کا پابند بناتا ہے، اور ہم اپنی عملی اور معاشرتی زندگی میں وقت کو اتنی بے دردی اور بے باکی سے برباد کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! 

 قرآن و حدیث  میں وقت

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وقت کی عظمت کو بتانے کے لئے مختلف اوقات کی قسمیں کھائی ہیں: زمانے کی قسم۔ انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے۔ (العصر) توضیح اس کی یہ ہے کہ انسان کی عمر کا زمانہ اس کے سال اور مہینے اور دن رات بلکہ گھنٹے اور منٹ؛ اگر غور کیا جائے تو یہی اس کا سرمایہ ہے جس کے ذریعے وہ دنیا و آخرت کے منافعِ عظیمہ عجیبہ بھی حاصل کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کی روشنی میں خوف کی نفسیات کو سمجھئے

مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے زمانے یعنی وقت کی قسم کھا کر یہ بات واضح فرما دی کہ جو شخص وقت کے ایک ایک لمحے کو نیک اعمال اور مفید کاموں میں استعمال نہیں کرتا، وہ سراسر گھاٹے میں ہے۔(معارف القرآن) حضرت ابنِ عباسؓنے بیان کیا: حضرت  آپؐ نے ارشاد فرمایا :دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں: صحت اور فراغت۔(بخاری) آپؐ  کا ارشادِ گرامی  ہمارے معاشرے پر حرف بہ حرف صادق آ رہا ہے۔ ہم وقت کو لایعنی کاموں میں ضائع کر رہےہیں، اور فکر نہیں کہ جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو سوائے حسرت اور ندامت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

وعدہ خلافی اور  تاخیرکے نتائج

ہمارا بہت بڑا مرض یہ ہے کہ ہم اپنی زبان سے کیے ہوئے وعدے کی ذرا پروا نہیں کرتے۔ کسی نماز کے بعد مثلاً ’’مغرب کے بعد ملتے ہیں‘‘ کہہ کر عشاء تک تاخیر کر دینے کو ہم کوئی عیب ہی نہیں سمجھتے! شام کا بول کر آدھی رات تک انتظار کروایا جاتا ہے، اور صبح کا وعدہ کر کے ظہر تک کا وقت ضائع کر دیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی سے کسی وقت ملنے یا کام کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر بغیر کسی شدید عذر کے تاخیر کرتا ہے، تو وہ صرف اپنا وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ سامنے والے کا پورا تعلیمی، معاشی اور ذاتی نظام بگاڑ دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے۔ (الاسراء)

 موجودہ دور میں خاص ضرورت 

آج کا دور رفتار کا دور ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں جیسے ممبئی وغیرہ میں وقت کی قدر نہ کرنے کے نقصانات فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ممبئی میں اگر کوئی شخص صرف ایک منٹ کی دیر کر دے، تو اس کی لوکل ٹرین نکل جاتی ہے۔ اس کے بعد شدید رَش اور اگلی گاڑی کی تاخیر کی وجہ سے وہ آدھا گھنٹہ، ایک گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ تاخیر سے کسی طرح گرتے پڑتے اپنے مقام پر پہنچ پاتا ہے اور یہ ایک منٹ کی غفلت انسان کا پورا دن خراب کر دیتی ہے۔  حضورؐ نے وقت اور زندگی کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو : زندگی کو موت سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، مال داری کو فقر سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کوبیماری سے پہلے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)

اصلاحی اقدامات
 وقت کو  ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ہمیں اپنے اندازِ فکر اور زندگی کے نظام کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس کے لیے درجِ ذیل باتیں ذہن نشیں رکھنی چاہئیں: 
(۱)وقت کی پابندی کو دین کا حصہ سمجھیں: جس طرح ہم نمازوں میں وقت کے پابند ہیں اسی طرح عملی زندگی میں بھی وقت کی پابندی کو دینی اور اخلاقی فریضہ سمجھیں ۔
(۲)سچا پکّا اور واضح وعدہ کریں: اگر کسی کام کو مقررہ وقت پر کرنا ممکن نہ ہو تو پہلے ہی بتا دیں تا کہ سامنے والا کوئی دوسرا انتظام کر سکے۔
(۳)دوسروں کے وقت کا احترام کریں: چاہے ہم میزبان ہوں، تاجر ہوں، امام ہوں یا کاریگر؛یہ یاد رکھیں کہ دوسرے کا وقت بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ہمارا، کسی کا وقت برباد کرنا حقوق العباد کی تلفی میں شامل ہے۔
 (۴)حکمت سے کام لیں: بیانات، میٹنگ اور ملاقاتوں کو طے شدہ وقت پر شروع اور ختم کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ کسی طالبِ علم، مزدور، ملازم یا کسی بھی انسان کا حرج نہ ہو۔ اگر ہم سب وقت کی قدر کرنا شروع کر دیں اور دوسروں کی سہولت کا خیال رکھیں تو ہمارا معاشرہ امن، سکون اور ترقّی کا گہوارہ بن جائےگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK