• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: یوٹیوب کی آمدنی، شادی کی رسومات اور کھانا، زکوٰۃ کا ایک سوال

Updated: October 31, 2026, 5:00 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) یوٹیوب کی آمدنی (۲) شادی کی رسومات اور کھانا (۳) زکوٰۃ کا ایک سوال۔

Before turning social media into a source of income, take a look at the advertisements and similar content that appear on it. Photo: INN
سوشل میڈیا کو آمدنی کا ذریعہ بنانے سے قبل اس کے اشتہارات وغیرہ بھی دیکھ لیں۔ تصویر: آئی این این

یوٹیوب کی آمدنی

ایک سوال دریافت کرنا ہے کہ کیا یوٹیوب سے کمائے گئے پیسے جائز اور حلال ہیں ؟ محتشم قریشی بھیونڈی

باسمہ تعالیٰ۔  ھوالموفق: اس مسئلے کو صحیح طور سے سمجھنے کے لئے مکمل تفصیلات کا علم اور ان پر شرعی اصولوں کی روشنی میں غور وفکر ضروری ہے، محض چینل بنا لینا آمدنی کے حصول کے واسطے ناکافی ہے اورمحض چینل بنانے اور اس پر آڈیو ویڈیو اپلوڈ کرنے پر یوٹیوب آپ کو معاوضہ دے غالباً ایسا نہیں ہوتا۔ یوٹیوب کے ساتھ چینل والے کو معاہدہ کرنا پڑتا ہے جس میں یوٹیوب کو اشتہارات چلانے کا حق دیا جاتا ہے۔ اشتہارات سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے اس میں سے چینل کا حصہ بھی ہوتا ہے۔ یہ اشتہارات ہر طرح کے ہوسکتے ہیں جبکہ بیشتر ناجائز امور پر ہی مشتمل ہوتے ہیں اس وجہ سے عام طور سے علماء اسے درست نہیں سمجھتے البتہ اگر ناجائز امور اور غیر شرعی اشتہارات کےعلاوہ  آمدنی کی کوئی صورت ممکن ہو تو اس کی اجازت ہوگی، مگر بظاہر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ جواز کی ایک صورت یہ ممکن ہے کہ چینل سے استفادہ کرنےوالے رضاکارانہ طور سے چینل کے ممبر بن کر اسکے مواد سے استفادہ کریں ،سپر چیٹ کے طور پر تعاون کریں، کچھ ایسے مخلص اور دیندار لوگ اشتہار دیں جن کے اشتہارات ناجائز امور سے خالی ہوں مگر اس سے شاید خرچ بھی پورا نہ ہو سکے۔ باقی ناجائز اشتہارات کی مدد سے کمائی سے اچھا یہی ہے کہ ایسی کمائی سے دور رہا جائے۔  واللہ اعلم وعلمہ اتم

شادی کی رسومات اور کھانا 

ایک مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر ہلدی اور مہندی  وغیرہ  کی جو رسمیں ہوتی ہیں کیا ان کا شریعت سے کوئی تعلق ہے اور  اس موقع پر جو دعوت ہوتی ہے اس کا کھانا کھانا کیسا ہے؟ عبد الحمید ،میوات 

باسمہ تعالیٰ۔  ھوالموفق: ہلدی مہندی کا جو مقصد بتایا اور سمجھا جاتا ہے وہ ہے جلد کی صفائی اور ملائمت کا حصول لیکن اس مقصد کے لئے ہلدی ضروری نہیں کھال پر لگی ہوئی گرد اور دھول کی صفائی پانی سے بھی ہوسکتی ہے اور مزید ضرورت ہو تو صابن وغیرہ استعمال کیا جاسکتا ہے ،پھر ہلدی ہی کیوں؟ ظاہر ہے  یہ ایک توہم ہے اور یہ رسم ہے۔ مردوں کے لئے مہندی لگانے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ یہ عورتوں کی مشابہت ہے جو از روئے حدیث ممنوع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مسجد کیلئے وقف زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کسی بندے کا کوئی حق نہیں، وہ خالص اللہ کی ملک ہے

بنیادی امرتو  یہ ہےکہ یہ ایک رسم ہے جو برادران وطن سے ہم تک منتقل ہوئی جبکہ اسلام کے معاشرتی نظام میں ایسا کوئی تصور ہی نہیں۔ ایک خرابی عورتوں مردوں کا اختلاط بھی ہے جس سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض مرتبہ مردوں کو مہندی اور ہلدی عورتیں بھی لگاتی ہیں۔ مزید یہ ایک بے فائدہ اور جبری رسم بھی ہے جو دیگر مفاسد کے علاوہ سراسر اسراف اور فضول خرچی میں شامل ہے۔ اس طرح کی مزید رسمیں مثلا منگنی وغیرہ بھی اسلامی معاشرت سے نہ کوئی تعلق رکھتی ہیں نہ ہی اسلامی لٹریچر میں ان کا کہیں کوئی ثبوت ملتا ہے۔ ایسی تمام رسموں کا ترک لازم ہے ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

زکوٰۃ کا ایک سوال 

زید کی اہلیہ کی زکوٰۃ تین سال قبل تقریباً ستائیس ہزار نکلی تھی جس، میں سے اس نے صرف آٹھ ہزار ہی ادا کیے تھے۔ تین سال ہوچکے ہیں ۔اس وقت کے انیس ہزار اور اسکے بعد تین سال کی زکوۃ واجب الادا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مجھے اس سال َزکوۃ ادا کرنی ہے تو کس اعتبار سے ادا کروں؟ گزشتہ سالوں کے اعتبار سے  یا اس سال جو قیمت ہے اس اعتبار سے؟  آٹھ ہزار جو ادا ہوئے تھے اسے کس طرح وضع کریں گے؟ محمد تمیم، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔  ھوالموفق: اصل تو یہ ہے کہ ہرسال مال زکوٰۃ کا چالیسواں حصہ مستحقین کو دیا جائے جو اس کے شرعی مستحق ہیں (چنانچہ چالیس تھان کپڑوں کی زکوٰۃ ہر سال ایک تھان ہے) لیکن اگر مال کی قیمت دینی ہو تو ادائیگی کے وقت جو قیمت ہوگی وہ مستحقین کو دی جائےگی (چنانچہ وہ ایک تھان پانچ سو کی قیمت کا ہو تو پانچ سو دینے ہوںگے اور جب وہ پانچ سو کے بجائے ہزار کا ہوجائے تو ہزار دینے کا حکم ہو گا)۔تین سال پہلے اہلیہ کے مال زکوٰۃ کی قیمت ستائیس ہزار تھی، اس میں سے آٹھ ہزار مستحقین کو دے دیئے گئے، انیس ہزار کی ادائیگی باقی رہی تو دیکھا یہ جائےگا کہ موجودہ قیمت کیا ہے۔ فرض کرلیں کہ قیمت میں تین گنا اضافہ ہوگیا ہو تو ستائیس ہزار کے مال کی موجودہ قیمت اکیاسی ہزار ہوئی اور جو انیس ہزار رہ گئے تھے اسکی مالیت بڑھ کر ستاون ہزار ہوچکی ہے۔ تین سال قبل آپ نے ستائیس میں سے آٹھ ہزار ادا کئے تھے اس کے بعد مزید دوسال کی پوری زکوٰۃ دینی ہے تو قیمت کے اعتبار سے دو سال کی زکوٰۃ ایک لاکھ باسٹھ ہزار اور ان سے پہلے والے سال کی مابقی ستاون ہزار ،کل دولاکھ انیس ہزار ادا کرنے ہوںگے۔ یہ اس صورت میں ہے جب مال جوں کاتوں ہو ،موجودہو سال میں کچھ کمی زیادتی کی صورت میں واجب الادا  رقم میں اسی حساب سے کمی زیادتی ہو جائےگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK