انسانی زندگی میں خوشی و غم، راحت و مصیبت اور آسائش و آزمائش کے مختلف مراحل آتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی بشر ایسا نہیں جس کی زندگی مشکلات اور پریشانیوں سے خالی ہو۔ لیکن ایک مومن بندہ کی شان ہے کہ وہ تلخ حالات میں بھی اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اور صبر و رضا کا دامن تھام کر رکھے۔
آزمائش میں صبر ہی بندۂ مومن کی پہچان ہے۔ تصویر: آئی این این
انسانی زندگی میں خوشی و غم، راحت و مصیبت اور آسائش و آزمائش کے مختلف مراحل آتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی بشر ایسا نہیں جس کی زندگی مشکلات اور پریشانیوں سے خالی ہو۔ لیکن ایک مومن بندہ کی شان ہے کہ وہ تلخ حالات میں بھی اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اور صبر و رضا کا دامن تھام کر رکھے۔ صبر اور استقامت ہی ایسی صفت یا خوبی ہے جو اہل ایمان بندہ کو مصائب وآلام کی آندھیوں میں بھی پہاڑ کی طرح قائم رکھتی ہے اور قرب الٰہی کی اعلیٰ منازل طے کراتی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولؐ سے سوال دریافت کیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کس پر آتی ہے؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ انبیاء و رسول پر، پھر ان کے بعد مرتبے کے اعتبار سے افضل لوگوں پر، پھر جو ان کے بعد مرتبے میں ہیں۔ انسان کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے دین میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مطابق آزمائش ہوتی ہے۔ چنانچہ بندے پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلنے لگتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(ترمذی ، ابواب البر والصلہ، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء)حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ مصائب و آلام ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی علامت نہیں ہوتے بلکہ آزمائش و تکالیف کبھی بندے کے درجات کی بلندی اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے مشکلات، تکالیف اور آزمائشوں کو زندگی کا ایک لازمی جز قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔‘‘ (البقرہ:۱۵۵) اسی طرح دوسری جگہ رب کا فرمان ہے: بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:والدین وہ نعمت ہیں جن کی دُعائیں انسان کیلئے حوصلے کا سرچشمہ
ان آیات کریمہ سے باتیں بالکل صاف ہیں کہ انسان کی زندگی میں مصائب و الام آتے رہیں گے۔ لیکن اس کی سختیوں میں صبر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالی کی معیت ہے اور رحمت و خوشخبری ہے۔
نبی کریم ﷺ کی مکی زندگی ہم امتیوں کے لئے روشن مشعل راہ ہے۔ اسلام کے شروعاتی دور میں حضورؐ کو برا بھلا کہا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، بے شمار اذیتیں دی گئیں یہاں تک کہ قتل کی سازش کی گئی اور معاشرتی اور اقتصادی ہر اعتبار سے حضورؐ اور آپؐ کے جانثاروں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ان تمام مصائب کے باوجود حضور ؐنے دعوت حق کا سلسلہ جاری رکھا۔ زبان اقدس سے ظالم اور دشمنوں کے حق میں بجائے بددعا کے، دعائیں ہوتی تھی۔ بدلہ لینے کی جگہ آپ درگزر کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ ابتدائے اسلام میں حضور کی زندگی ہمیں بے شمار اسباق سکھاتی ہے۔ توکل علی اللہ، مصائب و آلام میں صبر، عفو و درگزر کا معاملہ اور حسن اخلاق کا مظاہرہ، امتیوں کے لئے حضور کی سیرت کا بنیادی درس ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ آج کا انسان معمولی سی پریشانی پر بھی بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ کبھی بیماری، کبھی مالی نقصان، کبھی گھریلو مسائل اور کبھی دنیاوی خواہشات کی عدم تکمیل اسے شکوہ و شکایت پر آمادہ کر دیتی ہے۔ بعض اوقات انسان اپنی زبان سے بے جا کلمات کہہ کر سارے حدود الٰہی پار کر جاتاہے۔ حالانکہ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ مصیبت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، دعا مانگے، جائز تدابیر اختیار کرے اور اپنے دل کو مایوسی سے محفوظ رکھے۔
ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ صبر کا مطلب ظلم کو خاموشی سے قبول کر لینا اور اپنے حقوق سے دست بردار ہو جانا نہیں ہے۔ اسلام ہمیں ظلم کے خلاف جائز طریقے سے آواز اٹھانے، حق کیلئے جدوجہد کرنے اور مصیبت سے نجات کی کوشش کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ صبر یہ ہے کہ انسان اپنے تمام مسائل و حالات میں ایمان، اخلاق اور امید کو برقرار رکھے۔ اسی طرح شکر صرف خوشحالی میں الحمدللہ کہنا نہیں ہے، بلکہ نعمتوں کو اللہ کی عطا سمجھ کر انہیں درست طریقے سے استعمال کرنا بھی شکر ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نعمت اور مصیبت، دونوں ہی انسانوں کیلئے امتحان ہیں۔ نعمت میں شکر اور آزمائش میں صبر ہی بندۂ مومن کی پہچان ہے۔ جو شخص آسائش میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے اور تنگی میں بھی اس کی رحمت سے امید وابستہ رکھتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں صبر و رضا کا پیکر ہے۔