• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کی روشنی میں خوف کی نفسیات کو سمجھئے

Updated: October 31, 2026, 4:50 PM IST | Dr. Ahmed Urooj Mudassir | Akola

خوف کی کیفیت سے شاید ہی کوئی انسان پوری طرح ناواقف ہو۔ کبھی کسی انجانے خطرے کا خیال دل میں اندیشہ پیدا کرتا ہے، کبھی کسی ناکامی کا تصور قدم روک لیتا ہے، اور کبھی حالات کی سختی انسان کو اپنی ہی صلاحیتوں پر شبہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ خوف انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اسے کمزوری کی علامت سمجھ لینا انسانی تجربے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انسان ڈرتا کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا خوف اس کی زندگی میں کیا مقام اختیار کر لیتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

قرآن مجید خوف کو انسانی زندگی کی آزمائشوں میں شمار کرتا ہے:’’ اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے۔‘‘  (البقرہ:۱۵۵) اس آیت میں انسانی فطرت کا اعتراف بھی ہے اور آزمائش کے مقابلے میں صبر کی دعوت بھی۔ ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان کسی خطرے کو محسوس ہی نہ کرے بلکہ یہ ہے کہ خوف کے باوجود اس کا رشتہ اپنے رب، اپنے ضمیر اور اپنی ذمہ داری سے قائم رہے۔

حضرت موسیٰ ؑاور فرعون کا واقعہ اس حقیقت کو ایک غیر معمولی معنویت عطا کرتا ہے۔ اس میں ایک طرف ایسا اقتدار ہے جو خوف کو اپنی بقا کا ذریعہ بناتا ہے، اور دوسری طرف ایک نبی ہیں جو خطرے کے ادراک کے باوجود اپنے فرض سے دستبردار نہیں ہوتے۔ اس تقابل سے خوف کی نفسیات کا ایک بنیادی پہلو سامنے آتا ہے: خوف کبھی انسان کو خطرے سے بچاتا ہے اور کبھی اسے محکوم بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

فرعون: خوف سے قائم ہونے والا اقتدار

قرآن مجید فرعون کے ظلم کو محض ایک سرکش حکمران کی شخصی عادت کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کے معاشرتی اثرات بھی واضح کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کی، لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا اور ان میں سے ایک گروہ کو کمزور بنا رکھا تھا؛ ان کے بیٹوں کو قتل کرتا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا (القصص:۴)

اس بیان میں ایک ایسے نظام کی تصویر سامنے آتی ہے جس میں انسان کی جان، خاندان کا تحفظ اور مستقبل کی امید تک اقتدار کے ظلم سے متاثر ہو چکے تھے۔ جس گھر میں بچے کی پیدائش خوشی کا سبب ہونی چاہئے،  وہاں اگر اسی بچے کی سلامتی کا خوف موجود ہو تو زندگی کی بنیادی خوشی بھی اندیشے میں گھِر جاتی ہے۔ جب والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے خواب دیکھنے کے بجائے ان کی بقا کے لئے فکرمند رہیں تو ظلم صرف جسموں کو نقصان نہیں پہنچاتا؛ وہ زندگی کے معمولات، رشتوں اور اجتماعی اعتماد پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

جبر کی ایک  صورت یہ ہے کہ انسان کو صرف سزا نہ دی جائے، بلکہ اسے ہر وقت سزا کے امکان سے باخبر بھی رکھا جائے۔ جب لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ کس بات پر گرفت ہو سکتی ہے یا اختلاف کی کیا قیمت چکانی پڑے گی تو وہ اپنے رویّے خود محدود کرنے لگتے ہیں۔ وہ درست اور غلط کے ساتھ محفوظ اور غیر محفوظ ہونے کا حساب بھی رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح خوف بیرونی طاقت کے اثر سے نکل کر انسان کی اپنی سوچ میں جگہ بنا لیتا ہے۔ تاہم ایسے حالات میں خاموش رہنے والے ہر شخص کو بزدل قرار دینا انصاف نہیں۔ کبھی خاموشی مجبوری ہوتی ہے، کبھی اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کا تقاضا، اور کبھی کسی مناسب موقع کا انتظار۔ اصل سوال فرد کی   خاموشی نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو حق بات کہنے کو خطرے سے وابستہ کر دے اور لوگوں کو اپنے بنیادی حقوق کے استعمال سے بھی خوفزدہ کر دے۔

یہ بھی پڑھئے: والدین وہ نعمت ہیں جن کی دُعائیں انسان کیلئے حوصلے کا سرچشمہ

فرعون کی حکمتِ جبر کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ بنا کر پیش کرتا تھا۔ سورۂ غافر میں اس کا یہ اندیشہ نقل ہوا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام لوگوں کا دین بدل دیں گے یا زمین میں فساد برپا کریں گے ۔(غافر:۲۴) اس طرزِ بیان میں ایک اہم سیاسی حربہ دکھائی دیتا ہے: ظلم پر سوال اٹھانے والے کو ہی فساد کا سبب قرار دے دیا جائے، تاکہ اصل مسئلے کے بجائے اس شخص کے ارادوں اور اس کے ممکنہ اثرات پر بحث ہونے لگے۔

جب کسی معاشرے میں خوف کے ساتھ بدگمانی بھی پیدا کر دی جائے تو لوگ دلیل سننے سے پہلے اس کے نتائج سے ڈرنے لگتے ہیں۔ تبدیلی کا مطالبہ خود ایک خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے، اور صورتِ حال، خواہ کتنی ہی ناانصاف کیوں نہ ہو، نسبتاً محفوظ دکھائی دینے لگتی ہے۔ فرعون کے واقعے کی معنویت یہیں نمایاں ہوتی ہے: ظلم صرف طاقت سے نہیں چلتا؛ وہ خوف کے ذریعے بھی چلتا ہے کیونکہ لوگوں کے امکانات اور توقعات کو بھی محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

موسیٰ ؑ: خوف کے باوجود حق پر استقامت

فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کردار اس لئے قابلِ غور ہے کہ آپ کی استقامت کو انسانی احساسات سے بے نیازی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ آپ ؑ کے سامنے ایک طاقتور حکمراں اور ایک ایسا نظام تھا جس کی سخت گیری بنی اسرائیل کے لئے زندگی کی حقیقت بن چکی تھی۔ اس ذمہ داری کی سنگینی آپ کی دعا سے بھی ظاہر ہوتی ہے:

’’ اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، اور میرا کام میرے لئے آسان فرما دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔‘‘ (طٰہٰ:۲۵۔۲۸) یہ دعا محض آسانی طلب کرنے کے الفاظ نہیں ؛ اس میں ایک بڑے فرض کا شعور اور اس کی ادائیگی کے لئے تیاری کی طلب بھی شامل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے کام کی دشواری کو پہچانتے ہیں اور مؤثر ابلاغ کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی ضرورت کا اعتراف کرنا کمزوری نہیں۔ بعض اوقات انسان کی قوت اسی وقت بہتر طور پر بروئے کار آتی ہے جب وہ اپنی حدود کو پہچان کر مناسب مدد طلب کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نعمت اور مصیبت، دونوں ہی انسانوں کیلئے امتحان ہیں

اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا معاون بنانے کی درخواست کی، کیونکہ وہ گفتگو میں زیادہ فصیح تھے (القصص:۳۴۔۳۵)  اس واقعے میں توکل اور تدبیر کا تعلق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان تیاری، مشورہ  اور معاونت کو غیر ضروری سمجھنے لگے۔ مقصد کی سچائی اپنی جگہ، لیکن اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے حکمت، مناسب ذرائع اور دوسروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا بھی ضروری ہے۔

سورۂ طٰہٰ میں جادوگروں کے مقابلے کے موقع پر قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔   اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ڈرو نہیں، یقیناً تم ہی غالب رہو گے۔‘‘ (طٰہٰ: ۶۸)اس مقام پر خوف کا ذکر اہم ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان پر کسی کیفیت کا اثر ہی نہ ہو۔ خوف محسوس کرنا اور اس کے سامنے ہتھیار ڈال دینا دو الگ باتیں ہیں۔

آج کے نوجوان کیلئے یہ بحث محض نظری نہیں۔ روزگار کی غیر یقینی، معاشی دباؤ، تعلیم کے بعد محدود مواقع، سماجی ناہمواری اور ناکامی کا اندیشہ اس کی زندگی پر حقیقی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کبھی مسلسل کوشش کے باوجود مطلوبہ نتیجہ نہیں ملتا، کبھی دوسروں کی کامیابی اپنی ناکامی کا پیمانہ بن جاتی ہے، اور کبھی حالات کی سختی انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ شاید اس کی کوشش بے معنی ہے۔ ان احساسات کو کمزور ایمان یا کمزور ارادے کا نام دے دینا نوجوان کے تجربے کو سمجھے بغیر فیصلہ صادر کرنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنے خوف کو پہچانے اور اس کے اسباب کو سمجھے۔ وہ یہ فرق کرنے کی کوشش کرے کہ کون سا خطرہ حقیقی ہے، کون سا اندیشہ ابھی محض امکان ہے، اور کن معاملات میں وہ کوئی قابلِ عمل قدم اٹھا سکتا ہے۔ تعلیم، مہارت، مشورہ، باہمی تعاون اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ نفسیاتی مدد حاصل کرنا کمزوری نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ دعا اور عبادت امید اور روحانی وابستگی کا سرچشمہ بن سکتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ عملی کوشش اور تدبیر بھی ضروری ہیں۔

اس معاملے کا ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ نوجوانوں سے حوصلے کا مطالبہ کرنا کافی نہیں؛ ان  کیلئے منصفانہ مواقع پیدا کرنا، تعلیمی اور معاشی رکاوٹیں کم کرنا اور اداروں میں انصاف کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ اگر معاشرہ ہر ناکامی کا الزام فرد پر ڈال دے اور ان حالات کو نظر انداز کرے جو اس کے راستے محدود کرتے ہیں تو محض نصیحت سے بہتری نہیں آ سکتی۔ فرعون کے واقعے سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ خوف کے بعض اسباب فرد کے اندر نہیں بلکہ اس کے گرد قائم نظام میں ہوتے ہیں۔ ان اسباب کو پہچاننا اور جہاں ممکن ہو انہیں بدلنے کی کوشش کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔

جدید نفسیات اور آج کے نوجوان کا خوف
جدید نفسیات نے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ مسلسل بے اختیاری کا تجربہ انسان کے رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مارٹن سیلگ مین کے نظریے میں اس کیفیت پر بحث کی گئی ہے جس میں بار بار ایسے حالات کا سامنا کرنے والا فرد، جنہیں وہ اپنے اختیار سے باہر سمجھتا ہے، بعض اوقات ان مواقع پر بھی کوشش چھوڑ دیتا ہے جہاں تبدیلی ممکن ہو۔ اس نظریے کو فرعون کے عہد کی براہِ راست تشخیص نہیں سمجھنا چاہئے، لیکن اس کی مدد سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مسلسل جبر انسان کے احساسِ اختیار کو کیسے کمزور کر سکتا ہے۔ لازارس اور فولک مین کے نظریۂ تناؤ و مقابلہ آرائی کے مطابق کسی صورتِ حال کا نفسیاتی اثر اس بات سے بھی وابستہ ہوتا ہے کہ انسان اسے کس طرح سمجھتا ہے اور اپنے وسائل کو اس کے مقابلے میں کتنا مؤثر پاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پریشانی غلط سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو حقیقی معاشی محرومی، ناانصافی یا عدمِ تحفظ کا سامنا ہو تو اس کے خوف کو صرف ذہنی زاویۂ نظر کی خرابی قرار دینا حقیقت سے صرفِ نظر ہوگا۔ بعض حالات میں انسان کو اپنی سوچ پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ عملی مدد، تحفظ اور بیرونی حالات میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK