Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب تک انسان کا اندر نہ بدلے، باہر کی تبدیلی دیرپا نہیں ہو سکتی

Updated: July 03, 2026, 7:48 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

ضمیر زندہ اور بیدار ہوتا ہے تو انسان صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے اندر کی اخلاقی ذمہ داری کے احساس سے عمل کرتا ہے لیکن جب ضمیر سو جاتا ہے تو علم رکھنے کے باوجود گمراہ، طاقت رکھنے کے باوجود ظالم اور اختیار رکھنے کے باوجود ناانصاف بن جاتا ہے۔

People with a conscious conscience also share in the happiness and sorrow of others. Photo: INN
بیدارضمیر افراد دوسروں کے سکھ دکھ میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

انسانی وجود صرف گوشت، پوست اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے اندر ایک ایسی باطنی قوت بھی ودیعت کی گئی ہے جو ہر لمحہ حق و باطل، خیر و شر اور انصاف و ظلم کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی قوت کا نام ضمیر ہے۔ ضمیر انسان کے اندر بولنے والی وہ خاموش آواز ہے جو کسی ظاہری قانون یا نگرانی سے پہلے انسان کو اس کے عمل کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وہ داخلی میزان ہے جو انسان کو نیکی کی طرف مائل اور برائی سے متنفر کرتی ہے۔ جب ضمیر زندہ اور بیدار ہوتا ہے تو انسان صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے اندر کی اخلاقی ذمہ داری کے احساس سے عمل کرتا ہے۔ لیکن جب ضمیر سو جاتا ہے تو کبھی انسان علم رکھنے کے باوجود گمراہ، کبھی طاقت رکھنے کے باوجود ظالم اور کبھی اختیار رکھنے کے باوجود ناانصاف بن جاتا ہے۔ درحقیقت ضمیر کا بیدار ہونا ہی انسانیت کی اصل پہچان اور ایمان کی حقیقی علامت ہے۔ چاہے کوئی کام دینی ہو یا دنیاوی، اگر وہ ضمیر کی بیداری کے بغیر انجام دیا جائے تو اس کام کی روح باقی نہیں رہتی، صرف اس کا ظاہری ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ عبادت کی مثال لیجیے؛ اگر کوئی شخص نماز تو ادا کرتا ہے لیکن اس کے دل میں خشوع، اخلاص اور اللہ کی عظمت کا احساس نہیں، تو نماز ایک جسم تو بن جاتی ہے مگر اس کی روح باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح دنیاوی زندگی میں ایک ڈاکٹر اگر مریض کا علاج صرف فیس لینے کے لئے کرے اور اس کے دل میں انسانیت کا درد نہ ہو تو وہ پیشہ تو نبھا رہا ہوتا ہے مگر طب کی حقیقی روح سے محروم ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر محض تنخواہ کی خاطر پڑھائے اور طلبہ کی شخصیت سازی اس کی ترجیح نہ ہو تو تعلیم کا نور ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ضمیر ہر عمل میں اخلاص، احساس ذمہ داری اور برکت پیدا کرتا ہے، اور اس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی بے جان محسوس ہوتا ہے۔ 
قرآنِ کریم نے بارہا انسان کو غور و فکر، تدبر اور اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دی ہے، کیونکہ یہی ضمیر کی بیداری کا راستہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بلکہ انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔ ‘‘ (سورۂ القیامہ:۱۴) یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کا ضمیر اس کے اعمال کی گواہی دیتا ہے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم پسند نہ کرو کہ لوگ اس سے آگاہ ہوں۔ ‘‘ (مسلم) یہ حدیث ضمیر کو حق و باطل کی پہچان کا ایک اہم معیار قرار دیتی ہے۔ جب قرآن انسان کو بار بار سوچنے، عبرت حاصل کرنے اور اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے اور حدیث دل کے احساس کو اہمیت دیتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ضمیر کی بیداری کے بغیر نہ عبادت اپنی حقیقت کو پہنچتی ہے اور نہ ہی معاشرہ عدل و انصاف کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان اپنے بیدار ضمیر کے ساتھ کسی مقصد کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو بڑے سے بڑا پہاڑ بھی اس کے عزم کے سامنے ریت کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ ایمان، اخلاص اور ضمیر کی روشنی انسان کو مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن جب ضمیر مردہ ہو جائے تو معمولی ذمہ داریاں بھی انسان پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ وہ حق بات کہنے سے ڈرتا ہے، انصاف کرنے سے کتراتا ہے اور خیر کے کاموں سے جی چراتا ہے۔ اسلئے اصل طاقت جسم کی نہیں بلکہ بیدار ضمیر کی ہوتی ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو ناممکن کو ممکن اور مشکل کو آسان بنا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انہوں نے قرآن میں خود کو پا لیا، کیوں نہ ہم بھی خود کو تلاش کریں؟

آج پوری دنیا میں انسانیت جن بحرانوں، ظلم و ستم اور ناانصافیوں کا شکار ہے، ان کی جڑ میں ضمیر کی عدم بیداری اور بے حسی کا مسئلہ نمایاں نظر آتا ہے۔ چاہے فلسطین کے مظلوموں پر ہونے والے مظالم ہوں یا دنیا کے کسی اور خطے میں بے گناہ انسانوں کی چیخ و پکار، اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسانی ضمیر ابھی زندہ ہے؟ جب طاقتور ظلم کو دیکھ کر خاموش رہیں، جب مفادات انصاف پر غالب آ جائیں اور جب انسان دوسروں کے درد کو اپنا درد محسوس نہ کرے تو یہ ضمیر کی موت کی علامت ہے۔ 
قوانین اپنی جگہ ضروری ہیں، ادارے اپنی جگہ اہم ہیں اور وسائل اپنی جگہ مفید ہیں، لیکن جب تک انسان کا اندر نہ بدلے، باہر کی تبدیلی دیرپا نہیں ہو سکتی؛ کیونکہ جب ضمیر بیدار نہ ہو تو پھر باطل، حق دکھائی دینے لگتا ہے اور ظلم کو مصلحت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں اصولوں کی جگہ مفادات، دیانت کی جگہ منافقت اور انصاف کی جگہ طاقت فیصلہ کرنے لگتی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے بار بار اہلِ ایمان کو تقویٰ، عدل اور سچائی پر قائم رہنے کی تلقین کی ہے، تاکہ ان کا ضمیر ہمیشہ زندہ رہے اور وہ ہر حال میں حق کا ساتھ دینے والے بنیں۔ اس اہم کام یعنی ضمیر کی بیداری کیلئے انسان کو اپنے اندر انسانیت کو جگانے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ انسانیت ہی ضمیر کی پہلی غذا ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر کبھی جنت و جہنم کا ذکر کرکے، کبھی گزشتہ قوموں کے انجام کو بیان کرکے، کبھی مظلوموں کے حقوق یاد دلا کر اور کبھی موت و آخرت کی یاد تازہ کرکے انسان کے احساسات کو جھنجھوڑا ہے۔ اللہ کے رسول نے اپنے ارشادات میں رحم، عدل، امانت، حسنِ سلوک اور خیرخواہی کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ قرآن و حدیث کا یہ اندازِ تربیت دراصل انسان کے اندر سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی مسلسل کوشش ہے، تاکہ انسان صرف احکام کا پابند نہ رہے بلکہ ان کی حکمت، روح اور مقصد کو بھی سمجھ سکے۔ اس طرح جب انسان اپنے اندر انسانیت، رحم اور جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے تو اس کا ضمیر خود بخود بیدار ہونے لگتا ہے۔ 
یاد رکھیں ! ضمیر بیدار ہے تو وہ انسان کو سچ بولنے، انصاف کرنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہی احساس آہستہ آہستہ نفرت کو محبت، ظلم کو انصاف، بدعنوانی کو دیانت اور انتشار کو امن میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے انسان، آج کے معاشرے اور پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK