قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو’’مودّت‘‘ اور’’رحمت‘‘ کے دو الفاظ میں سمو دیا ہے۔ محبت دلوں کو قریب لاتی ہے اور رحمت اختلافات کے باوجود رشتوں کو قائم رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا ’’لباس‘‘ قرار دیا۔ لباس انسان کی زینت بھی ہوتا ہے، اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کے عیبوں کو بھی ڈھانپتا ہے۔ گویا ازدواجی زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈالیں، خوبیوں کو سراہیں اور ایک دوسرے کیلئے سکون کا باعث بنیں۔
اسلام نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا مُتَمِّم قرار دیا ہے۔ تصویر: آئی این این
’’اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ ‘‘ (سورہ الروم: ۲۱)
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے تعلق کو اپنی عظیم نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ یہ رشتہ محض ایک سماجی معاہدہ یا معاشی ضرورت نہیں بلکہ سکون، محبت، رحمت اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر استوار ایک مقدس بندھن ہے۔ جب تک مرد اور عورت ایک دوسرے کی فطرت، جذبات اور نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہ رشتہ خوش گوار رہتا ہے؛ لیکن جب ایک دوسرے کو اپنی خواہشات اور مزاج کے مطابق ڈھالنے کی ضد شروع ہو جاتی ہے تو محبت کی جگہ کشیدگی اور سکون کی جگہ بے اطمینانی لے لیتی ہے۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ مختلف تہذیبوں نے عورت کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ کہیں اسے مرد کی ملکیت سمجھا گیا، کہیں اسے محض معاشی ضرورت کا ذریعہ بنایا گیا اور کہیں اس کے وجود کو جذبات و احساسات سے عاری ایک کردار میں محدود کر دیا گیا۔ ایسے ماحول میں اسلام نے عورت کو نہ صرف عزت و وقار عطا کیا بلکہ اس کی فطرت، اس کی نفسیات اور اس کے جذبات کو انسانی معاشرت کے بنیادی عناصر میں شامل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام محض قانونی ضابطے نہیں بلکہ انسانی فطرت سے ہم آہنگ ایک ایسا حکیمانہ نظام ہیں جس کی بنیاد رحمت، اعتدال اور مصلحت پر قائم ہے۔
اسلام نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا مُتَمِّم (تمام یا پورا کرنے والا، تکمیل کرنے والا)قرار دیا ہے۔ دونوں کی جسمانی ساخت، ذہنی صلاحیتوں اور نفسیاتی میلانات میں جو فرق رکھا گیا ہے، وہ نہ برتری کی دلیل ہے اور نہ کمتری کی، بلکہ حکمت ِالٰہی کا ایک حسین مظہر ہے۔ یہی تنوع خاندان کو توازن بخشتا اور معاشرے کو استحکام عطا کرتا ہے۔ اسلام مساوات کے نام پر فطری اختلافات کو مٹانے کے بجائے ان کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔
عورت میں محبت، شفقت، ایثار اور جذبات کی فراوانی رکھی گئی ہے۔ یہی جذبات اسے ماں کی صورت میں بے مثال قربانی، بیٹی کی شکل میں رحمت، بہن کی حیثیت سے خلوص اور شریک ِ حیات کی صورت میں وفاداری اور سکون کا پیکر بنا دیتے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے عورت کی اسی لطافت کو ’’آبگینے‘‘ سے تعبیر کیا اور مردوں کو نصیحت فرمائی کہ ان کے ساتھ نرمی، شفقت اور احتیاط کا معاملہ کیا جائے۔ یہ تشبیہ عورت کی کمزوری بیان کرنے کیلئے نہیں بلکہ اس کے نازک احساسات اور اس کے احترام کی حفاظت کی تعلیم دینے کیلئے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ادارے کیلئے محنت کرنے والے کی اُجرت
اسلام کی رحمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے عورت کی جسمانی اور نفسیاتی کیفیت کو عبادات کے احکام میں بھی ملحوظ رکھا ہے۔ ایامِ مخصوصہ میں نماز کی معافی اور روزوں کی قضا کا حکم اس حقیقت کا اعلان ہے کہ شریعت انسان کی طاقت اور فطرت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔ قرآنِ کریم نے اس کیفیت کو ’’اذیٰ‘‘ (تکلیف، اذیت، نقصان) قرار دے کر عورت کی جسمانی تکلیف اور ذہنی دباؤ کا اعتراف کیا اور اسی کے مطابق احکام میں آسانی پیدا کی۔ یہی اسلام کا معتدل اور رحمت بھرا مزاج ہے۔
عورت کی نفسیات کا ایک نمایاں پہلو محبت کے اظہار، توجہ اور قدردانی کی خواہش ہے۔ وہ صرف محبت نہیں چاہتی بلکہ محبت کا احساس بھی چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کی قربانیوں کی قدر کی جائے، اس کی خدمات کو سراہا جائے اور اس کے جذبات کو سمجھا جائے۔ اسی لئے اللہ کے رسولؐ نے شوہروں کو یہ سنہرا اصول عطا فرمایا کہ اگر بیوی کی کوئی ایک عادت ناگوار محسوس ہو تو اس کی دوسری خوبیوں کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ یہ تعلیم صرف ازدواجی زندگی ہی نہیں بلکہ تمام انسانی تعلقات کیلئے حسنِ ظن، درگزر اور مثبت فکر کا ابدی اصول ہے۔
قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو’’مودّت‘‘ اور’’رحمت‘‘ کے دو الفاظ میں سمو دیا ہے۔ محبت دلوں کو قریب لاتی ہے اور رحمت اختلافات کے باوجود رشتوں کو قائم رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا ’’لباس‘‘ قرار دیا۔ لباس انسان کی زینت بھی ہوتا ہے، اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کے عیبوں کو بھی ڈھانپتا ہے۔ گویا ازدواجی زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈالیں، خوبیوں کو سراہیں اور ایک دوسرے کیلئے سکون کا باعث بنیں۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ گھروں میں سہولتیں تو بڑھ گئی ہیں، مگر سکون کم ہو گیا ہے۔ رشتوں میں توقعات بڑھ گئی ہیں، مگر برداشت کم ہوگئی ہے۔ ازدواجی زندگی کے بیشتر مسائل کردار کی خرابی سے زیادہ ایک دوسرے کی نفسیات کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ شوہر بیوی کو اپنے مزاج کا عکس بنانا چاہتا ہے اور بیوی شوہر سے بے لفظ سمجھے جانے کی توقع رکھتی ہے۔ اسلام اس کشمکش کا حل باہمی احترام، تحمل، رفق اور حسنِ معاشرت میں پیش کرتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ عورت کو اپنی پسند کے سانچے میں ڈھالنے کی نئی تدبیریں تلاش کی جائیں، بلکہ اس امر کی ہے کہ اس کی فطرت کو سمجھا جائے، اس کے جذبات کا احترام کیا جائے اور اس کی نفسیات کو اسی نظر سے دیکھا جائے جس نظر سے قرآن و سنت نے دیکھا ہے۔ جو مرد عورت کے دل کی زبان سمجھ لیتا ہے، وہ اختلاف کے وقت بھی انصاف کرتا ہے، غصے میں بھی وقار برقرار رکھتا ہے اور محبت کے اظہار میں کبھی بخل نہیں کرتا۔ یہی رویہ خاندان کو مضبوط اور نسلوں کو صالح بناتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام عورت کو بدلنے کا نہیں، اسے سمجھنے کا درس دیتا ہے۔ وہ مرد کو غلبے کا نہیں بلکہ رفاقت کا سبق دیتا ہے؛ سختی کا نہیں بلکہ نرمی اور شفقت کا راستہ دکھاتا ہے؛ اور حقوق کے مطالبے سے پہلے محبت، ذمہ داری اور حسنِ سلوک کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کی اس حکیمانہ تعلیم کو اپنی گھریلو زندگی کا شعار بنا لیں تو ہمارے گھراینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں رہیں گے، بلکہ سکون، محبت، رحمت اور باہمی اعتماد کے ایسے گلستان بن جائینگے جنہیں قرآنِ کریم نے اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عورت کو بدلنے کی نہیں، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جو مرد عورت کو سمجھ لیتا ہے، وہ صرف ایک کامیاب شوہر ہی نہیں بنتا بلکہ ایک صالح خاندان اور مہذب معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط کرتا ہے۔