اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جس میں اختلاف ہو مگر تہذیب کے ساتھ، تنقید ہو مگر انصاف کے ساتھ، اور آزادیِ اظہار ہو مگر احساسِ جواب دہی کے ساتھ۔ یہی توازن اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے۔
EPAPER
Updated: July 03, 2026, 7:48 PM IST | Muhammad Kafeel Qasmi | Mumbai
اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جس میں اختلاف ہو مگر تہذیب کے ساتھ، تنقید ہو مگر انصاف کے ساتھ، اور آزادیِ اظہار ہو مگر احساسِ جواب دہی کے ساتھ۔ یہی توازن اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے۔
ذرائع ابلاغ محض ترسیل اطلاعات کا وسیلہ نہیں ہیں، بلکہ اجتماعی شعور کی تشکیل، اقدار کی تعمیر اور افکار کی سمت متعین کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بھی ہیں۔ ہرعہدکا غالب ذریعۂ ابلاغ اپنے معاشرے کے اخلاقی مزا ج کا آئینہ دارہوتا ہے۔ عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو بے مثال وسعت عطا کی، مگر اسی کے ساتھ اظہار کی اخلاقیات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اب خبر اپنی صحت سے زیادہ اپنی ہیجان انگیز پیشکش کے باعث وائرل ہوتی ہے، رائے اپنی دلیل سے زیادہ اپنے شور کی بنا پر قبول کی جاتی ہے، اور حقیقت اکثر اس ہجوم میں گم ہو جاتی ہے جسے ڈیجیٹل دنیا میں ٹرینڈ کا نام دیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک تاثر کی حکمرانی کے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں رائے عامہ کی تشکیل حقائق کم بیانیے (نیریٹیو) زیادہ اور دلائل کم جذبات زیادہ کرتے ہیں۔
موجودہ ڈیجیٹل فضا کا سب سے بڑا بحران معلومات کے معیار کا انہدام ہے۔ افواہ خبر کا لباس پہن لیتی ہے، قیاس حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے، اور جذباتی تاثر دلیل پر غالب آ جاتا ہے۔ نفسیات اور ابلاغیات کے ماہرین اس کیفیت کو Post-Truth کا عہد قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا زمانہ جس میں حقائق سے زیادہ جذبات اور شخصی میلانات اجتماعی رائے کی تشکیل کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے صدیوں قبل اسی رویّے کی اصلاح کے لیے ایک ایسا اصول عطا کیا جس کی معنویت آج پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ا ے ایمان والو! ا گر کوئی غیر معتبر شخص تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ ‘‘ (الحجرات:۶) یہ آیت Communication Ethics یعنی ابلاغی اخلاقیات کا بنیادی منشور ہے۔ یہاں توجہ خبر کے مندرجات سے پہلے اس کی تحقیق پر مرکوز کی گئی ہے۔ گویا اسلام کی نظر میں اطلاع کی اشاعت سے پہلے اس کی صحت کا اطمینان ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی علمی روایت میں روایت، شہادت اور خبر کے باب میں تحقیق، جرح و تعدیل اور اسناد کا جو غیر معمولی نظام تشکیل پایا، اس کی مثال دنیا کی کسی دوسری تہذیب میں شاذ ہی ملتی ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے اسی بنیادی اصول کو سب سے زیادہ مجروح کیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ ویڈیو، سیاق و سباق سے کاٹا گیا بیان یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ تصویر چند منٹوں میں لاکھوں صارفین تک پہنچ جاتی ہے، اور جب تک حقیقت سامنے آتی ہے، رائے عامہ اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹل دنیا کی رفتار، اخلاقی شعور سے آگے نکل جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تقدیر کا سوال کم اور تعلق کی مضبوطی کی دُعا زیادہ کیجئے
اللہ کے رسولؐ، سردار الانبیاء ؐ نے اسی انسانی کمزوری کی طرف نہایت جامع اسلوب میں اشارہ فرمایاتھا کہ ’’کسی شخص کے جھوٹا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرتا پھرے۔ ‘‘ (مقدمہ صحیح مسلم)
یہ حدیث صرف زبان سے کہی جانے والی بات تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس اظہار کو محیط ہے جو انسان اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں شیئر، ری پوسٹ ا ور فارورڈ بھی اسی دائرے میں داخل ہیں۔ چنانچہ ایک مسلمان کے لئے یہ سوال محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے کہ وہ جو کچھ دوسروں تک پہنچا رہا ہے، کیا اس کی صداقت کا اطمینان بھی رکھتا ہے، یا وہ محض ڈیجیٹل ہجوم کا ایک غیر شعوری حصہ بن چکا ہے؟
اگر خبر کی صحت ابلاغ کی پہلی اخلاقی شرط ہے تو انسانی عزت کا تحفظ اس کی سب سے بنیادی غایت ہے۔ تہذیبیں اس احساس سے بھی تشکیل پاتی ہیں کہ انسان کی عزت، اس کی نجی زندگی اور اس کا سماجی وقار اجتماعی امانت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زبان اور قلم کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ انہیں انسانی حقوق سے وابستہ ایک اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔ اس تناظر میں سماجی ذرائع ابلاغ یعنی سوشل میڈیا کا موجودہ منظرنامہ نہایت سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے، جہاں اختلافِ رائے اکثر اختلافِ وجود میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور تنقید بسا اوقات کردار کشی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
اسلامی فکر کا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کو ہجوم کے بجائے ضمیر کا پابند بناتی ہے۔ قرآن بار بار عقل، تدبر اور انصاف کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ اخلاقی فیصلے جذباتی فضا میں نہیں بلکہ علمی بصیرت کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دشمنی کی حالت میں بھی عدل کو ترک نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس تعلیم کا مفہوم صرف عدالتی نظام تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس موقع پر منطبق ہوتا ہے جہاں انسان کسی دوسرے انسان کے بارے میں رائے قائم کر رہا ہو۔
ڈیجیٹل عہد کا سب سے پیچیدہ المیہ یہ نہیں کہ معلومات کی فراوانی ہے، بلکہ اس عہد کا المیہ یہ ہے کہ معیشتِ معلومات (Information Economy) نے انسانی توجہ کو ایک قابلِ فروخت شے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی کامیابی کا پیمانہ خبر کی صحت نہیں، بلکہ اس کی رسائی، انگیج مینٹ اور وائرل ہونے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ تجزیے کے مقابلے میں اشتعال انگیز بیانیہ اور حقیقت کے مقابلے میں سنسنی زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔
اسلام کی اخلاقی روایت اس بحران کا حل کسی تکنیکی ضابطے میں نہیں، بلکہ انسان کے باطن میں تلاش کرتی ہے۔ قرآن مجید نے زبان اور قلم کو قانون سے پہلے ضمیر کا مسئلہ بنایا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجیدکی نہایت عمیق ہدایت ہے:
’’ا نسان کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔ ‘‘(سورہ قٓ:۱۸)
یہ آیت دراصل اسلامی تصورِ ابلاغ کی بنیاد ہے۔ اس میں نگرانی کا تصور بیرونی احتساب سے پہلے اندرونی احتساب کو بیدار کرتا ہے۔ ریاستیں قانون کے ذریعے جھوٹ، نفرت انگیزی یا ہتک ِ عزت کو کسی حد تک روک سکتی ہیں، لیکن وہ انسان کے ضمیر کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ اخلاق وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں قانون کی گرفت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسولؐ نے اُمت کو ایک ایسا اصول عطا فرمایا ہے جو ہر عہد کے ذرائعِ ابلاغ پر یکساں منطبق ہوتا ہے:
’’جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یا تو خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔ ‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس ارشاد کا مفہوم اظہار کو اخلاقی مقصد سے وابستہ کرنا ہے۔ اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جس میں اختلاف ہو مگر تہذیب کے ساتھ، تنقید ہو مگر انصاف کے ساتھ، اور آزادیِ اظہار ہو مگر احساسِ جواب دہی کے ساتھ۔ یہی توازن اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے۔