مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی کوئی دور کی کہانی نہیں رہی؛ یہ انسانی زندگی کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہے۔ چند لمحوں میں مضمون لکھ دینا، زبانوں کا ترجمہ کرنا، پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، تصاویر اور ویڈیوز بنانا، اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا اور ایسے بہت سے کام انجام دینا جو کبھی کئی گھنٹوں یا دنوں کی انسانی محنت کا تقاضا کرتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے لئے چند سیکنڈ کا معاملہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی آزمائش شاید مشین کے لئے نہیں، انسان کے لئے ہے۔ تصویر: آئی این این
مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی کوئی دور کی کہانی نہیں رہی؛ یہ انسانی زندگی کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہے۔ چند لمحوں میں مضمون لکھ دینا، زبانوں کا ترجمہ کرنا، پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، تصاویر اور ویڈیوز بنانا، اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا اور ایسے بہت سے کام انجام دینا جو کبھی کئی گھنٹوں یا دنوں کی انسانی محنت کا تقاضا کرتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے لئے چند سیکنڈ کا معاملہ ہے۔ یہ پیش رفت بلاشبہ انسانی ذہانت کی حیرت انگیز کامیابی ہے، لیکن ہر بڑی ایجاد اپنے ساتھ ایک بڑا سوال بھی لاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان سے کیا کچھ کر سکتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اگر مشین انسان کے بہت سے کام انسان سے زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں کرنے لگے تو انسان کی اصل قیمت کیا رہ جائے گی؟یہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں، فلسفۂ انسان کا سوال ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عورت کے ۴؍ رشتے اور اسلامی تعلیمات
جدید دنیا نے رفتہ رفتہ انسانی قدر کو کارکردگی، رفتار اور پیداوار سے وابستہ کردیا ہے۔ جو زیادہ کام کرسکتا ہے، زیادہ کما سکتا ہے، زیادہ معلومات رکھتا ہے اور کم وقت میں زیادہ نتائج پیدا کرسکتا ہے، اسے زیادہ کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ معاشی زندگی میں کارکردگی کی اپنی اہمیت ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کارکردگی کو انسانی قدر کا پیمانہ بنا دیا جائے۔ مصنوعی ذہانت اس تصور کو بنیادی چیلنج پیش کر رہی ہے۔
اگر ایک نظام چند لمحوں میں ایسا مضمون تیار کر سکتا ہے جسے لکھنے میں انسان کو کئی گھنٹے لگیں، اگر ایک مشین ہزاروں صفحات کا تجزیہ چند لمحوں میں کرسکتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کم قیمتی ہوگیا؟ ہرگز نہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے: قابلیت اور قدر ایک چیز نہیں۔ قابلیت یہ بتاتی ہے کہ کوئی وجود کیا کرسکتا ہے، جبکہ قدر یہ بتاتی ہے کہ وہ کیوں اہم ہے۔
ایک کیلکولیٹر انسان سے کہیں زیادہ تیزی سے حساب کرسکتا ہے، مگر اس سے انسان کی قدر کم نہیں ہوجاتی۔ ایک گاڑی انسان سے کہیں زیادہ تیز دوڑ سکتی ہے، مگر انسان اس لئے بے قدر نہیں ہوجاتا کہ وہ گاڑی سے آہستہ چلتا ہے۔ اسی طرح اگر مصنوعی ذہانت بعض ذہنی کاموں میں انسان سے بہتر ثابت ہوجائے تو انسانی وجود کی قدر ختم نہیں ہوجاتی۔ سوال صرف یہ ہے کہ انسان نے اپنی قدر کا معیار کہیں غلط تو نہیں بنا لیا؟
اگر انسان کی سب سے بڑی خصوصیت صرف معلومات اور ذہانت ہوتی تو مصنوعی ذہانت کی ترقی واقعی انسانی برتری کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن جاتی۔ لیکن معلومات، ذہانت اور حکمت ایک چیز نہیں۔ کسی سوال کا جواب جان لینا اور کسی موقع پر صحیح فیصلہ کرنا الگ باتیں ہیں۔
مشین یہ بتا سکتی ہے کہ کسی مسئلے کے حل کے لئے کون سا راستہ زیادہ مؤثر ہے؛ لیکن یہ سوال کہ کون سا راستہ اخلاقاً درست ہے، محض حساب کا سوال نہیں۔ مشین بتا سکتی ہے کہ کیا زیادہ فائدہ مند ہے، مگر انسان کو یہ بھی طے کرنا ہوتا ہے کہ کیا درست ہے۔ کبھی سچ بولنے میں نقصان ہوتا ہے، مگر سچ پھر بھی سچ رہتا ہے۔ کبھی کسی کمزور کا ساتھ دینے میں کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوتا، مگر انصاف کا تقاضا یہی ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ضمیر، اخلاق، ذمہ داری اور اختیار انسانی وجود کو محض ایک حسابی نظام سے ممتاز کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت انسانی جذبات کی بہترین نقل بھی کرسکتی ہے۔ وہ ہمدردی کے الفاظ لکھ سکتی ہے، تسلی دے سکتی ہے اور محبت بھرے جملے بنا سکتی ہے۔ کیا احساس کی بہترین نقل، حقیقی احساس کے برابر ہوسکتی ہے؟ ایک ماں کا اپنے بچے کے لئے رات بھر جاگنا، ایک باپ کا اپنی اولاد کے مستقبل کے لئے قربانی دینا، ایک استاد کا اپنے شاگرد کی ناکامی پر دل گرفتہ ہونا، کسی اجنبی کی تکلیف دیکھ کر بے ساختہ اوربلا معاوضہ مدد کے لئے آگے بڑھنا، ان اعمال کی قدر صرف ان کے نتیجے میں نہیں، بلکہ ان کے پیچھے موجود اخلاص، محبت اور ایثار میں ہے۔ مصنوعی ذہانت ہمدردی کے الفاظ پیدا کرسکتی ہے، مگر انسانی ہمدردی اس وقت اخلاقی عظمت اختیار کرتی ہے جب ایک انسان اپنی راحت، وقت یا مال قربان کرکے دوسرے کے درد کو کم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:۱۴۰۰؍ برس قبل کے نبویؐ اصولوں کو آج بھی برت کر دیکھئے!
اس کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی ہے: انسان کا اپنی ہی بنائی ہوئی مشین پر حد سے زیادہ انحصار۔
اگر ہر سوال کا جواب مصنوعی ذہانت دے، ہر مضمون وہ لکھے، ہر مشکل کا خلاصہ وہ کرے، ہر ترجمہ وہ کرے اور ہر فیصلہ اس کی تجویز پر ہونے لگے تو ممکن ہے انسان کے پاس معلومات زیادہ ہوں، مگر سوچنے کی عادت کم ہوجائے۔
آخرکار اصل مقابلہ انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان نہیں ہوگا؛ اصل مقابلہ بامقصد انسان اور بے مقصد انسان کے درمیان ہوگا۔
ایک ایسا انسان جو اپنی عقل کو اخلاق سے، اپنی آزادی کو ذمہ داری سے، اپنی ٹیکنالوجی کو خدمت سے اور اپنی زندگی کو مقصد سے جوڑتا ہے، مصنوعی ذہانت سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے خیر کے لئے استعمال کرے گا۔ لیکن جو شخص اپنی قدر صرف ملازمت، دولت، شہرت، کارکردگی اور دوسروں کی منظوری سے متعین کرتا ہے، اس کے لئے مصنوعی ذہانت کا دور بے چینی کا دور ہوسکتا ہے؛ کیونکہ مشین اس سے صرف اس کا کام نہیں چھینے گی، ممکن ہے وہ اس سے وہ شناخت بھی چھین لے جو اس نے اپنے کام کے ساتھ وابستہ کر رکھی تھی۔ اس لئے مصنوعی ذہانت کے اس نئے دور میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ مشین کیا کرسکتی ہے؟ بلکہ سوال یہ ہے: انسان کو کیا بننا چاہئے؟
مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی آزمائش شاید مشین کے لئے نہیں، انسان کے لئے ہے؛ کیونکہ پہلی مرتبہ انسان کو اپنی ہی بنائی ہوئی ذہانت کے سامنے کھڑے ہوکر یہ ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ انسانی قدر صرف ذہانت، رفتار اور پیداوار کا نام نہیں۔ اور شاید یہی مصنوعی ذہانت کے پورے عہد کا سب سے بڑا انسانی سوال ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رہائش،خورد ونوش،لباس اور بیوی کی دیگر جائز واجبی ضروریات کا پورا کرنا شوہر کی شرعی ذمے داری ہے
مقصد ِ تعلیم
علم کا ایک حصہ جواب حاصل کرنا ہے؛ لیکن علم کا ایک اہم حصہ جواب تک پہنچنے کی جدوجہد بھی ہے۔ جو طالب علم ہر مشکل سوال کا جواب فوراً حاصل کرلے، ممکن ہے اسے جواب تو مل جائے، مگر تحقیق، غور و فکر، استدلال اور ذہنی تربیت کی وہ مشق نہ ملے جو شخصیت کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی لئے آنے والے دور میں تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں ہوگا؛ بلکہ یہ سکھانا بھی ہوگا کہ کیا پوچھنا ہے، کس جواب پر اعتماد کرنا ہے، کس جواب کو پرکھنا ہے اور صحیح و غلط کے درمیان فیصلہ کیسے کرنا ہے۔
تشویش نہیں نئے مرحلے کا آغاز
مصنوعی ذہانت کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش روزگار کے حوالے سے ظاہر کی جارہی ہے۔ کون سے کام ختم ہوں گے؟ کون سے پیشے متاثر ہوں گے؟ آئندہ زمانے میں کن صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی؟ یہ سب اہم سوالات ہیں، مگر ان سے بھی بڑا سوال موجود ہے:اگر انسان کے بہت سے کام مشینیں کرنے لگیں تو انسان اپنی زندگی کا مقصد کہاں تلاش کرے گا؟ اگر کسی شخص کی مکمل شناخت اس کے پیشے سے وابستہ ہو —وہ استاد ہے، مترجم ہے، مصنف ہے، طبیب ہے یا حساب داںاور ٹیکنالوجی اس کے کام کا بڑا حصہ سنبھال لے تو مسئلہ صرف روزگار کا نہیں رہے گا؛ مسئلہ شناخت اور مقصدِ زندگی کا بھی بن جائے گا۔
انسان کو یہ سوچنا ہوگا: میں جو کام کرتا ہوں، کیا میں صرف اتنا ہی ہوں؟ یا اس کے علاوہ میری اور بھی ذمہ داریاں ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو مصنوعی ذہانت انسانی شناخت کے لئے واقعی بڑا خطرہ ہے۔ لیکن اگر انسان کی شناخت اس کی ملازمت سے بلند ہے، اگر اس کی زندگی کا مقصد محض پیداوار نہیں بلکہ اخلاق، عبادت، خدمت، تعلق اور ذمہ داری بھی ہے، تو مصنوعی ذہانت انسانی وجود کے لئے تباہی نہیں بلکہ ایک نئے فکری مرحلے کا آغاز بن سکتی ہے۔
اسلامی رہنمائی
اسلام انسان کی قدر کو اس کی معاشی پیداوار، جسمانی قوت یا محض ذہنی صلاحیت سے متعین نہیں کرتا۔ انسان ایک ذمہ دار اور مکلف مخلوق ہے۔ اسے شعور، اختیار اور اخلاقی جواب دہی عطا ہوئی ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف زیادہ پیدا کرنا، زیادہ کمانا اور زیادہ حاصل کرنا نہیں؛ بلکہ اپنے خالق کو پہچاننا، اس کی بندگی کرنا، اپنے کردار کو سنوارنا، حقوق ادا کرنا اور خیر و عدل کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ یہی تصور انسانی قدر کو محض کارکردگی کی دنیا سے نکال کر کرامت، ذمہ داری اور آخرت کے وسیع تناظر میں لے جاتا ہے۔