عوامی نمائندوں نے میونسپل واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ پر کھلے عام امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شہر کے پاش علاقوں میں۲۴؍ گھنٹے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 1:21 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
عوامی نمائندوں نے میونسپل واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ پر کھلے عام امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شہر کے پاش علاقوں میں۲۴؍ گھنٹے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
بڑھتی گرمی کیساتھ پانی کی شدید قلت اور خستہ حال عمارتوں کا مسئلہ بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں چھایا رہا، جہاں دونوں اہم مسائل پر کارپوریٹروں نے انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے سخت سوالات اٹھائے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔بدھ کو دیر شام تک جاری چوتھے خصوصی اجلاس کے دوران متعدد معاملات پر کارپوریٹروں نے آواز بلند کی۔ خاص طور پر پانی کے مسئلے پر شدید ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ عوامی نمائندوں نے واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ پر کھلے عام امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شہر کے پاش علاقوں میں۲۴؍ گھنٹے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ پرانی بھیونڈی اور جھونپڑ پٹی علاقوں میں صرف ۵؍سے ۱۰؍منٹ کیلئے ، وہ بھی رات کے اوقات میں پانی دیا جا رہا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کاٹئی گاؤں کا نوجوان ایم پی ایس سی امتحان کامیاب کرکے محصول افسر بنا
ایک خاتون کارپوریٹر نے بھیا صاحب نگر علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایک شخص پانی فراہم کرنے کے نام پر ہر ماہ سو روپے کی غیر قانونی وصولی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں میں پائپ لائن بچھانے کے باوجود کنکشن نہ دینے پر بھی ناراضگی ظاہر کی گئی۔محکمہ آب رسانی کے ایگزیکٹو انجینئر سندیپ پٹناور نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ پانی کی قلت دور کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارپوریٹروں کی تجاویز کے مطابق تخمینہ بجٹ تیار کر لیا گیا ہے اور جلد ہی ٹینڈر جاری کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی غیر قانونی وصولی کی شکایات کی تحقیقات اور پانی کے ٹینکروں کی تعداد بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا۔اسی طرح اجلاس میں شہر کی مخدوش اور خستہ حال عمارتوں کا معاملہ بھی چھایا رہا۔ بی جے پی لیڈر سنتوش شیٹی نے ایوان میں اس مسئلے کو شدت سے اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر میں درجنوں عمارتیں ایسی ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، مگر انتظامیہ کی جانب سے نہ تو انہیں خالی کرایا جا رہا ہے اور نہ ہی متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بلڈرز اور افسران کی مبینہ ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ری ڈیولپمنٹ کے کئی منصوبے جان بوجھ کر التوا کا شکار رکھے جا رہے ہیں۔ کارپوریٹر منوج کاٹیکر نے انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیٹ انسپکٹر کے تبادلے کے احکامات بار بار جاری اور منسوخ کیے جا رہے ہیں، جس سے شفافیت پر سوال قائم ہوتا ہے۔کارپوریٹر حسنین فاروقی نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک خستہ عمارت کو منہدم کیے۸؍ سال گزر چکے ہیں، لیکن اب تک وہاں کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، اور متاثرین آج بھی انصاف کیلئے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔جنرل باڈی میٹنگ میں ٹھیکیداروں کے کردار پر بھی شدید اعتراضات سامنے آئے۔ کارپوریٹر بالارام چودھری نے اس معاملے کو ایک منظم ’’ریکٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ معاہدہ ختم ہونے کے باوجود ایک ہی ٹھیکیدار کو بار بار کام سونپا جا رہا ہے۔ جبکہ کملاکر پاٹل نے نشاندہی کی کہ ہر سال مانسون سے قبل عمارتیں گرانے کی مہم تیز ہو جاتی ہے، مگر مستقل حل کی جانب کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔اجلاس میں فراز بہاؤالدین،امن عبید خان، ایڈوکیٹ نغمہ و دیگر کارپوریٹروں نے بھی اہم مسائل پر توجہ دلائی۔