اسٹالن نے بل کو جنوبی ہند کی ریاستوں کےساتھ نا انصافی قراردیا ، ’تمل ناڈو لڑیگا اور جیتے گا‘ کا نعرہ دیا، ریاستی عوام سے گھروں پر سیاہ پرچم لگانے کی اپیل۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 1:46 PM IST | Mumbai
اسٹالن نے بل کو جنوبی ہند کی ریاستوں کےساتھ نا انصافی قراردیا ، ’تمل ناڈو لڑیگا اور جیتے گا‘ کا نعرہ دیا، ریاستی عوام سے گھروں پر سیاہ پرچم لگانے کی اپیل۔
ملک میں حدبندی اور خواتین ریزرویشن کے معاملے نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے حدبندی کے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کی ایک کاپی جلاکر اور سیاہ پرچم لہرا کر مخالفت درج کرائی۔
اہم بات یہ ہے کہ مجوزہ خواتین ریزرویشن (ناری شکتی وندن) قانون کا عملی نفاذ دراصل حدبندی کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی خواتین کے لیے نشستوں کی مخصوص تعداد طے کرنے کے لیے پہلے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے مرکز کی جانب سے حدبندی اور آئینی ترمیمی بل ایک ساتھ آگے بڑھائے جا رہے ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اکولہ میں گرمی سے نپٹنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے اقدامات
چنئی میں اسٹالن نے ’تمل ناڈو لڑے گا، تمل ناڈو جیتے گا‘ کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ حدبندی کا مجوزہ طریقہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق اگر نشستوں کی تقسیم نئی مردم شماری یا آبادی کے تناسب پر کی گئی تو شمالی ریاستوں کو فائدہ ہوگا اور جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کے ذریعے تمل ناڈو کی آواز کمزور کی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں اور کاروباری مقامات پر سیاہ پرچم لگا کر احتجاج کریں اور سوال اٹھایا کہ کیا آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کی سزا جنوبی ریاستوں کو دی جا رہی ہے۔
اسٹالن نے کہا ’’میں اس بل کی کاپی جلا کر ایک اور آگ بھڑکا رہا ہوں، یہ بل تملوں کو ان کے اپنے ملک میں پناہ گزین بنا دے گا۔‘‘ اسٹالن نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ آگ پوری دراوڑی سرزمین میں پھیل جائے گی اور بی جے پی کے تکبر کو کم کرے گی۔ ڈی ایم کے اور اس کے انڈیا بلاک کے اتحادی گھروں اور عوامی مقامات پر بلاک والے جھنڈے اٹھا کر حد بندی بل کی سخت مخالفت میں ’ یوم سیاہ ‘منایا۔
’’میں اس بل کی کاپی جلا کر ایک اور آگ بھڑکا رہا ہوں، یہ بل تملوں کو ان کے اپنے ملک میں پناہ گزیں بنا دے گا۔‘‘