نیکیوں کو بڑھاتے رہئے

Updated: September 10, 2021, 6:26 PM IST | Maulana Amiruddin Mehr

نیکی کا ارادہ و عزم کرتے ہی ایک نیکی لکھی جاتی ہے، جبکہ برائی کا ارادہ کرنے سے برائی نہیں لکھی جاتی، اور جب کوئی ارادے کو عملی شکل دے تو برائی کرنے پر صرف ایک برائی لکھی جاتی ہے، اور نیکی کرنے پر کم از کم دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ رب العزت والجلال سے براہِ راست روایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھ دیا ہے، پھر اسے خوب بیان بھی کردیا ہے، لہٰذا جس شخص نے نیکی کا ارادہ کیا اور پھر اس کو نہ کیا تو بھی اللہ تعالیٰ اپنے یہاں پوری ایک نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں، اور جس نے نیکی کے ارادے کے ساتھ ساتھ وہ نیکی کر بھی لی تو اللہ تعالیٰ اپنے یہاں اس کے بدلے میں دس سے لے کر سات سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔ اور اگر کسی نے برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے یہاں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں، اور اگر برائی کا ارادہ کرکے وہ برائی کر بھی لی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں صرف ایک گناہ لکھتے ہیں۔‘‘
امام یحییٰ بن شرف الدین النووی ؒ اس حدیث کی مختصر تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’میرے بھائی (ہمیں اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق دے) اللہ تعالیٰ کی مہربانی دیکھئے اور اس حدیث کے الفاظ پر تھوڑا سا غور کیجئے، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ’’اپنے پاس‘‘ کا مطلب ہے رب تعالیٰ کا بندے کے ارادے کی طرف خاص توجہ کرنا اور اسے وزن دینا۔ پھر لفظ ’’پوری‘‘، تاکید ہے اور اللہ تعالیٰ کا زیادہ توجہ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ایسی برائی کے بارے میں فرمان جس کا بندے نے ارادہ کیا لیکن اسے عمل میں نہیں لایا، اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس پوری نیکی لکھتا ہے، اس کی تاکید بھی ’’پوری‘‘ لفظ سے کی ہے، اور اگر برائی کا عمل کیا تو اسے ایک برائی لکھتا ہے۔ اس میں برائی کی کمی اور ہلکا پن ”ایک“ کے لفظ سے بیان کیا، اور اس کی تاکید لفظ ”کامل“ (پوری) سے نہیں کی۔ پس اللہ سبحانہ کی بے حساب تعریفیں اور بڑے احسانات ہیں، اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔‘‘اس حدیث کے شارحین نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ان اہم اور عظیم احادیث میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اس امت پر جو عظیم مہربانیاں اور احسانات کئے ہیں، ان کا بیان ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے نیکی کی تو اُس کے لئے اس کا دس گنا اجر ہے، اور جس نے برائی کی تو اس جیسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (الانعام:۱۶۰)
دوسری جگہ ارشاد ہے:’’جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس میں سے سات بالیں نکلیں، اور ہر بالی میں  سو  دانے ہوں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ جس کے عمل کو چاہتا ہے، بڑھاتا ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۲)۔ اسی طرح کی دوسری کتنی ہی آیتیں ہیں جنہیں عملِ صالح اور انفاق کے بارے میں آمدہ احادیث سے ملایا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اُس کی رضا کے لئے اخلاص، سچائی اور ثواب کی نیت سے جو بھی نیکی کی جاتی ہے اُس کا اجر کم از کم دس گنا ملتا ہے اور زیادہ کے لئے کوئی حد نہیں ہے۔ نیکی کی نوعیت، وقت، مقام اور نیکی کرنے والے کی کیفیت سے اس کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نیکی کا ارادہ و عزم کرتے ہی ایک نیکی لکھی جاتی ہے، جبکہ برائی کا ارادہ کرنے سے برائی نہیں لکھی جاتی، اور جب کوئی ارادے کو عملی شکل دے تو برائی کرنے پر صرف ایک برائی لکھی جاتی ہے، اور نیکی کرنے پر کم از کم دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔  اللہ تعالیٰ اور رسول اللہؐ مومنوں کو یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ مومن کی سوچ تعمیری ہونی چاہئے۔ اگر برائی کا منصوبہ اور خیال ذہن میں آجائے تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے  اس پر عمل نہ کرنے کا ارادہ و عزم کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK