• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

والدین کی خدمت و اطاعت کے بغیر سرخروئی اور کامیابی ممکن نہیں

Updated: January 16, 2026, 9:36 PM IST | Mohamed Mudassir Hussain Ashrafi Purnoori | Mumbai

اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و کرم اور کروڑوں شکر و احسان کہ ، اس نے ہمیں اپنے حبیب مکرم ، سید عالم ، سرورِ کائنات حضور ﷺ کی امت میں پیدا فرما کر بے شمار انعامات اور اعزازات سے مشرف فرمایا ، نیز انواع و اقسام اور گراں قدر نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔

Those children are lucky who treat their parents kindly. Photo: INN
وہ اولاد خوش نصیب ہوتی ہے جو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ تصویر: آئی این این

اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و کرم اور کروڑوں شکر و احسان کہ ، اس نے ہمیں اپنے حبیب مکرم ، سید عالم ، سرورِ کائنات حضور ﷺ کی امت میں پیدا فرما کر بے شمار انعامات اور اعزازات سے مشرف فرمایا ، نیز انواع و اقسام اور گراں قدر نعمتوں سے سرفراز فرمایا ۔ حضرت انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ عزوجل کی عطا کردہ نعمتوں کو شمار کرسکے ۔ خود انسان اگر اعضائے جسمانی کا بنظر عمیق جائزہ لے تو ہر عضو نہایت انمول ہے ۔ یہ سچائی آپ ان سے پوچھیں جو اعضائے جسمانی کے کسی عضو سے محروم ہیں ۔ یوں تو دنیا میں طرح طرح کی نعمتیں ہمیں میسر ہیں مگر ان میں اہم نعمت ، والدین ہیں۔ والدین کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ رب تبارک و تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب  قرآن کریم میں متعدد آیات میں جہاں اپنی عبادت کا حکم ارشاد فرمایا ہے تو وہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا تذکرہ فرمایا۔

یہ بھی پڑھئے: ایمان کی حفاظت، فتنوں کے اس دور میں سب سے بڑا چیلنج ہے

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو، اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور)  عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔‘‘ 
(سورہ الاسراء:۲۳۔۲۴)
حدیث شریف میں ہے کہ والدین کی رضا میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور ان کی ناراضی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے ۔ دوسری حدیث شریف میں  ہے کہ والدین کا فرمانبردار جہنمی نہ ہوگا اور ان کا نافرمان کچھ بھی عمل کرلے، گرفتارِ عذاب ہوگا ۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے: سید عالم حضور ؐ نے فرمایا: والدین کی نافرمانی سے بچو اس لئے کہ جنت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور نافرمان وہ خوشبو نہ پائے گا ۔ ( خزائن العرفان ) 
حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی  نے مذکورہ آیت کی بہت طویل تفسیر کی ہے ۔ ان میں سے چند اقتباسات  پیش ہیں:
’’اے انسان اگر تو اللہ تعالیٰ کی صحیح عبادت اور فرمانبرداری کرنا چاہتا ہے تو اس کے اولین حکموں میں سے ایک والدین کے ساتھ اچھا سلوک اور احسان کرنا ہے ۔ خاص کر اس وقت جب کہ تیری موجودگی میں ان دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے اور بڑی محتاجی کمزوری کو پہنچ جائیں ،تو اے بندے اپنی جوانی میں مست ہونے والے تیرا فرض یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی کو کسی وقت کسی حالت کسی بات میں اف بھی نہ کرنا ۔ لفظ اف عربی زبان میں اظہار نفرت کے وقت بولا جاتا ہے اور اپنے جسم و جگہ سے خاک دھول جھاڑنے کےلئے بھی پھونک کی آواز تقریباً اسی قسم کی نکالی جاتی ہے ۔ مقصد کلام یہ ہے کہ ہلکا سا نفرت والا لفظ بھی  والدین کیلئے ہرگز نہ کہنا ۔ 
اور دوسری یہ بات ذہن نشین رکھ لے کہ اگر بڑھاپے میں وہ تجھ کو برا بھلا کہیں یا تیری مرضی کے خلاف کوئی کام کریں یا اپنی نادانی سے کوئی کام بگاڑ دیں تو تو ان کو ہرگز جھڑکنا نہیں نہ چیخنا یادھاڑنا اور نہ جوانی کا زور دکھانا ۔ نہ ان کو اپنے سے جدا کرنا نہ جدا ہونا نہ بے یارومددگار چھوڑنا ، بلکہ عاجز، ذلیل، مسکین ،خادم  اور نوکر بن کر ان کی ساری زندگی خدمت کرنا ہے، یہ بھی یاد رہے کہ خدمت اپنے ہاتھوں سے کرنے کی کوشش کرنی ہے ۔ ان کو نوکروں اور دوسروں کے رحم وکرم پر مت ڈالنا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میرے پاس دُنیا آ پہنچی ہے کہ میری آخرت کو خراب کر دے اور فتنہ نے میرے گھر میں قدم رکھ دیا ہے‘‘

اور تیسری بات یہ کہ ہر موقع پر ان سے بہت محبت ادب اور تہذیب سے کرم و لطف والی باتیں کرنی ہیں اور اپنے عمل کردار گفتار ، خدمت ، شیریں بیانی سے ان کو ہنسانا کھلانا اور خوش رکھنا ہے۔ اسلام کی یہ ایسی پاکیزہ اور حسن معاشرہ کی شاندار تعلیم ہے جس نے چمن اسلام میں باد بہاری چلا دی ۔‘‘ ( تفسیر نعیمی ) 
اولاد کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے والدین کا بہرحال کہا مانے ، اور ان کی خدمت میں تساہلی بالکل نہ برتے، اپنے کردار و عمل ، حرکات و سکنات سے ان کے قلوب کو ٹھیس نہ پہنچائے بلکہ ہر ممکن کوشش کرے کہ ان کے چہرے پر آپ (اولاد) کی وجہ سے مسکان قائم رہے ۔ ہاں محض اس صورت میں والدین کی بات نہیں مانی جائے گی جب کہ وہ خلاف شرع کوئی حکم دیں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور ہم نے انسان کو اس کے والدین سے نیک سلوک کا حکم فرمایا اور اگر وہ تجھ پر (یہ) کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کی اطاعت مت کر۔‘‘ (العنکبوت:۸)
یقیناً وہ اولاد خوش نصیب ہے جس کے والدین بقید حیات ہیں ، اور وہ حتی المقدور ان کی خدمت کرکے انہیں راضی کئے ہوئے  ہے اور ان کی دعائیں لے کر دونوں جہاں میں کامیابیاں حاصل کررہی ہے ۔ مگر جو لوگ والدین کو یکسر نظر انداز کر کے خود عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں ، وہ نہ صرف یہ کہ اپنی دنیا برباد کر رہے ہیں بلکہ آخرت میں خسران بھی مول لے رہے ہیں ۔ نافرمان اولاد کیوں غور وفکر نہیں کرتی کہ جب ہم کسی قابل نہ تھے تو وہ والدین ہی تھے جنہوں نے ہمیں ہر لحاظ سے قابل بنایا ہر چیز کا سلیقہ سکھایا ۔ والدین ہی وہ منفرد شخصیت ہیں جن کی تمنا ہوتی ہے کہ میری اولاد مجھ سے زیادہ کامیابی کی منزل طے کرے ۔ وہ اپنی اولاد کو عظیم بنانے میں اپنے آرام کو بالائے طاق رکھ کر کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے کی فکر میں کوشاں رہتے ہیں۔ ماں باپ بڑی محنت اور مشقت سے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں اور دل میں یہ خیال بھی رکھتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے میرا نام روشن ہوگا، والدین اپنی اولاد کے تئیں نہ جانے کیسے کیسے ارمان اپنے دلوں میں پنہاں رکھتے ہیں ۔ مگر جب وہی اولاد بڑی اور تندرست ہو کر اپنے والدین سے جھگڑے اور ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کر کے  ان کے ارمانوں پر پانی پھیر  رہی ہوتی  ہے تو ذرا سوچئے کہ والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی! یاد رکھیں! والدین کو اذیت پہنچا کر اولاد ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ والدین کی موجودگی غنیمت سمجھ کر ان سے کی گئی گستاخی کی معافی طلب کرکے ان کی مکمل خدمت کریں  اور  ان کو راضی کریں۔

یہ بھی پڑھئے: اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد!

اللہ عزوجل ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK