وقتا فوقتاً یہ بحث شدت کے ساتھ ابھرتی رہتی ہے کہ ملک پہلے ہے یا مذہب اور عموماً یہ سوال جذباتی نعروں، سطحی دلائل اور باہمی الزام تراشی کی نذر ہو جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 9:55 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
وقتا فوقتاً یہ بحث شدت کے ساتھ ابھرتی رہتی ہے کہ ملک پہلے ہے یا مذہب اور عموماً یہ سوال جذباتی نعروں، سطحی دلائل اور باہمی الزام تراشی کی نذر ہو جاتا ہے۔
وقتا فوقتاً یہ بحث شدت کے ساتھ ابھرتی رہتی ہے کہ ملک پہلے ہے یا مذہب اور عموماً یہ سوال جذباتی نعروں، سطحی دلائل اور باہمی الزام تراشی کی نذر ہو جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ایسا نازک اور ہمہ گیر مسئلہ ہے جسے محض جوش کے بجائے ہوش، اور تعصب کے بجائے بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی لئے آئیے اس بحث کو عقل اور نقل کے آئینے میں رکھ کر دیکھیں تاکہ ہم حقیقت تک پہنچ سکیں۔
ہمارا ماننا ہے کہ مذہب انسان کی اولین ضرورت ہے؛ کیونکہ وہ محض جسم کا نہیں بلکہ روح، عقل اور دل کا بھی مطالبہ پورا کرتا ہے۔ انسان خواہ کتنی ہی مادی ترقی کیوں نہ کر لے اگر اس کے پاس زندگی کے مقصد، خیر و شر کے معیار اور دکھ سکھ کے مفہوم کا واضح تصور نہ ہو تو اس کی روح اندر ہی اندر ویران رہتی ہے۔ اس زاویئے سےمذہب انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں جانا ہے؛ یہی شعور اس کی زندگی کو سمت، وقار اور معنویت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان مذہب سے دور ہوتا ہے تو سہولتوں کے ہجوم میں بھی تنہا اور مضطرب نظر آتا ہے اور جب مذہب سے جڑتا ہے تو سادگی میں بھی اطمینان، مصیبت میں بھی امید اور اندھیروں میں بھی روشنی پا لیتا ہے۔ دراصل مذہب انسان کی وہ داخلی ضرورت ہے جو اسے صحیح معنوں میں انسان بنا کر اس کا مرتبہ بلند کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد!
اسی بنیادی ضرورت کے تحت یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی اکثریت کسی نہ کسی مذہب یا عقیدے سے وابستہ ہے۔ منطقی سطح پر مذہب اس خلا کو پُر کرتا ہے جہاں عقل ٹھہر جاتی ہے اور تجربہ خاموش ہو جاتا ہے، وہ انسان کو کائنات کے پھیلاؤ میں ایک مرکز، وقت کے بہاؤ میں ایک مقصد اور زندگی کی بے ترتیبی میں ایک اصول عطا کرتا ہے۔ درست اور غلط مذہب کی بحث اپنی جگہ، مگر اس وابستگی کی اصل علت یہ ہے کہ انسان بے معنویت کے بوجھ کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا؛ اسے کسی نہ کسی حتمی سچ، اخلاقی بنیاد اور ماورائی نسبت کی ضرورت رہتی ہے۔ چنانچہ مذاہب کی کثرت دراصل انسان کے اسی ازلی سوال کی مختلف تعبیرات ہیں کہ ’’میں کون ہوں اور مجھے کیسے جینا ہے۔‘‘یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مذہب کی ضرورت کو محض ایک سماجی روایت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی فطرت کی ناگزیر آواز کے طور پر واضح کیا ہے۔ اسلام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اسے بے مقصد نہیں پیدا کیا گیا، بلکہ اس کی زندگی ایک واضح ہدایت اور ذمہ داری کے ساتھ وابستہ ہے، اسی لئے وحی کو ’’ہدایت‘‘ قرار دیا گیا جو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام یہ بتاتا ہے کہ اگر انسان کو اپنی عقل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو وہ خواہش اور مفاد کے تابع ہو کر گمراہی میں مبتلا ہو سکتا ہے، لہٰذا الٰہی ہدایت اس کے لئے ناگزیر ہے۔
اسلامی تعلیمات میں یہ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ دل کو حقیقی سکون صرف اللہ کی معرفت اور اس کے احکامات کی پیروی سے حاصل ہوتا ہے اور یہی دین انسان کے اخلاق، عبادات اور معاملات سب کو ایک ہم آہنگ نظام میں ڈھالتا ہے۔ اس طرح شریعت اس حقیقت کو مدلل انداز میں ثابت کرتی ہے کہ مذہب انسان کے لئے اضافی شے نہیں بلکہ اس کی فکری، اخلاقی اور روحانی بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔چنانچہ قرآن مجید اعلان کرتا ہے:’’ کیا تمہارا خیال تھا کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے پاس واپس لائے نہیں جاؤگے؟‘‘ (سورۃ المؤمنون:۱۱۵)
یہ آیت انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد اور ہدایت کی ناگزیر ضرورت کا احساس دلاتی ہے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے: ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی سرشت میں دین کی طلب پہلے سے موجود ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آگاہ ہو جاؤ! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، وہ دل ہے۔‘‘ (مسلم) اسلام اسی دل کی اصلاح کے لئے عقیدہ، عبادت اور اخلاق کا مکمل نظام دیتا ہے۔ یوں قرآن و حدیث اس حقیقت کو دوٹوک انداز میں ثابت کرتے ہیں کہ مذہب انسان کے لئے محض ایک نظریہ نہیں بلکہ اس کی فطری، اخلاقی اور روحانی ضرورت ہے، جس کے بغیر اس کی زندگی مقصد، سکون اور توازن سے محروم رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن ہمارے لئے بھی نفع بخش بن سکتا ہے
اس پوری تفصیل کے بعد یہ سوال کہ ملک پہلے ہے یا مذہب اپنی معنوی بنیاد کھو دیتا ہے؛ کیونکہ مذہب انسان کو مقصد، اخلاق اور ضمیر عطا کرتا ہے، جبکہ ملک ان اقدار کے ظہور اور تحفظ کے لئے ایک منظم اجتماعی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ یاد رکھیں! جس معاشرے میں مذہبی شعور نہ ہو وہاں وطن محض زمین کا ٹکڑا بن کر رہ جاتا ہے، اس لئے ترجیح کی اس کشمکش میں الجھنا دراصل مسئلے کو غلط جگہ سے دیکھنا ہے اور اس پر اصرار کرناعقل سے زیادہ جذبات کا کھیل ہے۔یہ امید بجا طور پر کی جا سکتی ہے کہ اگر ملک اور مذہب کی بحث کو تعصب، شور اور ضد کے بجائے سنجیدگی، فہم اور دیانت کے ساتھ زیرِ غور لایا جائے تو یہ اختلاف محاذ آرائی کے بجائے باہمی تفہیم کا وسیلہ بن جائے گا اور یہی فکری بالیدگی انسان کو جنگ کے میدان سے نکال کر امن و آشتی کے راستے پر گامزن کرے گی۔