• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپؐ کا وہ سفر ِ مقدس جس کا تصور بھی ذہن ِ انسانی میں نہیں سما سکتا!

Updated: January 16, 2026, 9:00 PM IST | Dr. Tahir-ul-Qadri | Mumbai

طائف کے بازاروں میں اوباش لڑکوں کی سنگ باری کا دلخراش سانحہ گزر چکا تھا، مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واپسی کے مقفل دروازے کھل چکے تھے۔ قلب اطہر کفار و مشرکین مکہ کی مسلسل چیرہ دستیوں پر ملول تھا لیکن لب اقدس پر دعا کے پھول کھل رہے تھے۔

The journey of the Prophet Muhammad (PBUH) began with the Ascension of the Prophet (PBUH). Photo: INN
نبی کریمؐ کا سفر معراج حطیم سے شروع ہوا تھا۔ تصویر: آئی این این

طائف کے بازاروں میں اوباش لڑکوں کی سنگ باری کا دلخراش سانحہ گزر چکا تھا، مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واپسی کے مقفل دروازے کھل چکے تھے۔ قلب اطہر کفار و مشرکین مکہ کی مسلسل چیرہ دستیوں پر ملول تھا لیکن لب اقدس پر دعا کے پھول کھل رہے تھے۔ تحریک اسلامی کی قیادت عظمیٰ آزمائش کے مراحل سے گزر چکی تھی۔ دلجوئی کے لئے نہ عبدالمطلب تھے نہ ابوطالب، اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب کی دلجوئی اس طرح کی کہ انہیں عظمتوں اور رفعتوں کی اس منزل تک لے گیا جس کا تصور بھی ذہن انسانی میں نہیں سما سکتا۔ سدرۃ المنتہی کی وہ منزل جس سے آگے جبرئیل جیسے مقرب فرشتے کو بھی دم مارنے کی جا نہیں، آپ کے سفر معراج کا ایک پڑاؤ ٹھہری۔

یہ بھی پڑھئے: یوم ِ جمعہ: نورِ بندگی سے اجتماعی شعور کی آبیاری کیجئے

اس سفر عظیم کا آغاز حطیم کعبہ سے ہوا۔ آقائے کائنات استراحت فرما تھے۔ ادھر آسمانوں پر حور و ملائکہ محبوب کبریا کی پیشوائی کے منتظر تھے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائیں اور وہ آسمانی مخلوق حضورؐ کی راہوں میں اپنی آنکھیں بچھانے کا اعزاز حاصل کرے۔ جبرئیل امین آسمانوں سے اترے، حضور رحمت عالمؐ  کو بیدار کیا اور ایک سواری حاضر کی، جو دراز گوش سے اونچی اور خچر سے قدرے نیچی تھی۔ اس سواری کا نام ’’براق‘‘ تھا۔ حضورؐ  اس پر سوار ہوئے۔ یہ ایک تیز رفتار سواری تھی۔ اس کی تیز رفتاری کا عالم یہ تھا کہ اس کا ہر ہر قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا۔ سفر کے پہلے مرحلے پر تاجدار کائناتﷺ بیت المقدس لے جائے گئے جہاں تمام انبیاء آپؐ کے منتظر تھے۔ نماز کا وقت ہوا، صفیں درست ہوئیں اور جبریلؑ نے حضورؐ  کو انبیاء کی امامت کے لئے مصلیٰ پر کھڑا کر دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیائے کرام نے سردار انبیاءؐ  کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ یہاں سے براق پر سوار ہو کر آپؐ نے آسمانِ دنیا پر ورود فرمایا۔ آسمان دنیا کے دروازے پر جبریل امین نے دستک دی تو دربان نے پوچھا کہ جبریل تمہارے ساتھ کون ہے؟ جب جبریل نے آپؐ  کا اسم گرامی لیا تو دروازہ کھل گیا۔ حور و غلمان صف بہ صف کھڑے تھے۔ خوش آمدید یا رسولؐ اللہ! ، مرحبا یا نبی مرحبا۔ پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ سے ملاقات ہوئی، آپؐ نے نسل انسانی کے جدامجد کو سلام کیا تو حضرت آدم ؑ نے صالح بیٹے اور صالح نبی کہہ کر نبی آخرالزماں ؐ  کا استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھئے: گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ہماری عمر کا گراف گھٹ رہا ہے

اسی طرح یکے بعد دیگرے ساتوں آسمانوں کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ عرش معلی پر جشن کا  سماں تھا۔ ہر طرف حضور ؐ  کی آمد کے چرچے تھے۔  فرشتے جوق در جوق استقبال کے لئے حاضر ہوتے رہے۔ کائنات ارض و سماوات عالم بشریت کی زد میں تھی۔ حضورؐ  عظمتوں اور رفعتوں کا یہ اعلیٰ و ارفع سفر طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ عروج آدم خاکی سے سہمے ہوئے انجم بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں، چھٹے اور ساتویں آسمان پر آپ کی ملاقات بالترتیب حضرت یحییٰ و عیسیٰ، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سے ہوئی۔ گویا آپ جہاں گئے انبیاء سے فرشتوں تک تمام آسمانی مخلوقات آپ کے لئے چشم براہ تھیں۔ سدرۃ المنتہیٰ کا مقام بلند آ گیا۔ جبریل علیہ السلام رک گئے اور آگے بڑھنے سے معذوری کا اظہار کیا ، کہا:

’’ اگر ایک پور برابر بھی آگے بڑھوں تو جل جاؤں گا۔‘‘

حضور ؐ  تن تنہا بڑھتے ہوئے آخر اس مقام پر پہنچ گئے جس کو قاب قوسین او ادنی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سارے حجابات اٹھا دیئے گئے۔ قرآن کہتا ہے :

’’پھر قریب ہوا (اللہ ،محمدؐسے) پھر زیادہ قریب ہوا تو (محمد ؐ اپنے ربّ سے) دو کمانوں کی مقدار (نزدیک) ہوئے بلکہ اس سے (بھی) زیادہ قریب تو وحی فرمائی اپنے عبد مقدس کو جو وحی فرمائی۔‘‘  (النجم:۸؍تا۱۰)

حدیث پاک میں مذکورہے : ’’یہاں تک کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر آ گئے، ربّ العزت اپنی شان کے لائق بہت ہی قریب ہوا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

یہ بھی پڑھئے: کیا جسم لرز اُٹھا؟ رونگٹے کھڑے ہوئے؟ چشم نم ہوئی؟

لامکاں کی وسعتوں سے زمین پر نزول

اللہ ربّ العزت نے آسمانوں پر اپنے محبوب رسول ؐکو خلعت عظمت و رفعت سے نوازا، انہیں ان بلندیوں پر فائز کیا جن کا تصور بھی محال ہے۔ طائف کے بازاروں میں سنگ باری نے آپؐ  کو ملول کر دیا تھا لیکن  ربّ کائنات نے اپنے محبوب ؐکی دلجوئی فرماتے ہوئے آپ کا دامن عظمتوں اور رفعتوں سے بھر دیا اور آپؐکے منصب رسالت کو نئی شان عطا کی۔ عربی زبان و ادب کے قواعد کے مطابق اگر لفظ ھَوٰی مصدر ھُوِیٌّ سے مشتق ہو تو اس کا معنی ہو گا : الخدار، نزول، نیچے آنا۔ ان معانی کی رو سے اس آیت مقدسہ کا مفہوم یہ ہو گا :’قسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میںاوپر جا کر) نیچے اترے۔‘‘ (النجم:۱)

مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر مسجد اقصیٰ سے آسمانوں تک کا سفر بھی ایک معجزہ تھا اور عظمتوں اور رفعتوں سے ہمکنار ہونے کے بعد واپس اس کرۂ ارضی پر تشریف لے آنا بھی ایک معجزہ تھا۔ حضور ؐ کی معراج کا پہلوئے بشریت عالم بشریت کو فیض پہنچانے کے لئے تھا کہ آپ کو نسل انسانی کی رشد و ہدایت کے لئے جامۂ بشریت میں مبعوث فرمایا گیا جبکہ نورانیت کا پہلو عالم ملکوت کی فیض رسائی کے لئے تھا۔ یہ دونوں پہلو فی الحقیقت حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی مقام کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ آپ کی حقیقت، نورانیت و بشریت کے مقامات سے وراء الوراء ہے۔ اس سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو نور و بشر کے مسائل میں الجھ کر خوامخواہ آپس میں دست و گریباں ہیں۔

یہ بھی پرھئے: مسلم قائدین یاد رکھیں، اسلام میں قیادت ایک امانت ہے

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام بشریت کو بیت المقدس میں چھوڑ گئے اور مقام نورانیت کو عالم ملکیت میں چھوڑ کر آگے گزر گئے۔ حقیقت محمدیؐ ان دونوں مقامات کی انتہاء سے بھی بالاتر ہے۔ آپ کا اصلی گھر تو لامکاں تھا جہاں پر آپ کو مدعو کیا گیا تھا۔ یہ خالق موجودات کا ہم بندگان خاکی نہاد پر عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنے لطف و کرم اور عنایت سے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی صفات کا مظہر اتم بنا کر ہمیں عطا کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر واپس آ گئے تاکہ زمین پر بسنے والی اولاد آدم کو ظلم و بربریت سے نجات دلائیں۔ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جائے اور انسانی معاشروں میں عدل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ انسانی معاشرے استحصال کی ہر شکل سے پاک ہو جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK