• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سود کی ممانعت ہی ترقی عزت اور غلبے کی بنیاد ہے

Updated: January 16, 2026, 9:20 PM IST | Sayed Zahid Ahmad Alig | Mumbai

ممکن ہے کہ کسی انسان کو وقتی طور پر سود سے کچھ مالی فائدہ مل جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کے اندر سے انسانیت ختم ہونے لگتی ہے۔ اس سے معاشی نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔

Through interest, wealth continues to accumulate in a few hands, while a large segment of society continues to be mired in debt, inflation, and financial distress. Photo: INN
سود کے ذریعے دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی چلی جاتی ہے جبکہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ قرض، مہنگائی اور مالی بدحالی میں گھرتا چلا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

سودی قرض — دنیاوی ترقّی کا ذریعہ یا تباہی کا سبب؟
آج کل بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے سود (بیاج) کو حرام قرار دے کر دنیاوی کامیابی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ لیکن تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اسلام نے سود کو اس لئے حرام نہیں کیا کہ انسان پیچھے رہ جائےبلکہ اس لئے حرام کیا کیونکہ اس سے پوری انسانیت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
ممکن ہے کہ کسی انسان کو وقتی طور پر سود سے کچھ مالی فائدہ مل جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کے اندر سے انسانیت ختم ہونے لگتی ہے۔ اس سے معاشی نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ سود کے ذریعے دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی چلی جاتی ہے جبکہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ قرض، مہنگائی اور مالی بدحالی میں گھرتا چلا جاتا ہے۔ اسی لئے نہ صرف قرآن بلکہ دنیا کی تمام آسمانی کتابوں میں سود کو انسانی ترقّی کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی تباہی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا جسم لرز اُٹھا؟ رونگٹے کھڑے ہوئے؟ چشم نم ہوئی؟

ایک مکمل معاشی انقلاب
جب قرآن میں یہ حکم آیاکہ ’’اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا‘‘ تو یہ محض ایک حکم نہیں تھا بلکہ ایک مکمل معاشی انقلاب کی شروعات تھی۔اس حکم کے بعد صحابۂ کرامؓ نے مختلف غیر سودی مالی ذرائع اختیار کئے، جو انسانی فطرت، انصاف اور فلاح پر مبنی تھے۔ ان غیر سودی طریقوں میں مشارکہ، مضاربہ، مرابحہ، اجارہ، استصناع اور بیعِ سلم کے ساتھ ساتھ کیش وقف کا کردار بنیادی تھا۔کیش وقف کے ذریعے ایک طرف اللہ کے حکم کی پیروی ہوتی تھی کہ جو کچھ ضرورت سے زیادہ ہو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، اور دوسری طرف دولت ایک جگہ جمع ہونے کے بجائے معاشرے کی بھلائی کے لئے امیروں سے غریبوں کی طرف مسلسل گردش میں رہتی تھی۔ انہی غیر سودی مالی ذرائع کے سہارے صحابۂ کرامؓ نے دنیا کے کونے کونے تک اپنے تجارتی سفر کئے۔ جہاں جہاں وہ پہنچے، لوگ ان کی ایمانداری، امانت داری اور کردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرتے گئے۔ اس طرح مسلمانوں نے نہ صرف دنیا میں ایک معاشی انقلاب برپا کیا بلکہ دین ِ اسلام کو بھی پوری دنیا میں متعارف کرایا۔
عرب اور ہندوستان: ایک سنہری تاریخ
جہاں عرب تاجروں نے انہی اسلامی مالی اصولوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا کاروبار پھیلایا، وہیں ہندوستانی تاجروں کے ساتھ ان کے تعلقات میں بھی یہ اصول بہت مؤثر ثابت ہوئے۔ ان غیر سودی طریقوں کا فائدہ یہ ہوا کہ ہندوستان کا مال عرب تاجروں کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچنے لگا اور ”ہندوستان سونے کی چڑیا“ بننے کی راہ پر گامزن ہو گیا۔تاریخ گواہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دنیا کی مجموعی آمدنی کا تقریباً ۵۲؍ فیصد حصہ صرف عرب اور ہندوستان مل کر پیدا کرتے تھے۔ یہ اس برکت کا نتیجہ تھا جو سود سے پاک تجارت میں رکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: آپؐ کا وہ سفر ِ مقدس جس کا تصور بھی ذہن ِ انسانی میں نہیں سما سکتا!

حضرت عمرؓ کی مثال
اس تصور کی سب سے روشن مثال حضرت عمر بن خطابؓ کا وقف ہے۔ جب خیبر کی فتح کے بعد انہیں مالِ غنیمت کے طور پر ایک قیمتی باغ ملا تو انہوں نے آپؐ سے مشورہ کیا۔  آپؐ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو اصل کو روک لو اور اس کا فائدہ اللہ کی راہ میں دے دو۔‘‘ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس زمین کو وقف کر دیا۔ نہ وہ بیچی جا سکتی تھی اور نہ وراثت میں تقسیم کی جا سکتی تھی، بلکہ اس کا فائدہ مسلسل غریبوں، مسافروں اور ضرورت مندوں تک پہنچتا رہتا تھا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
کیش وقف کے بنیادی اصول
آپ کے مال میں غرباء و مساکین کا حق رکھا گیا ہے۔ اگر آپ کی آمدنی نقدی میں آرہی ہے تو مال نقدی میں نکالنا ہوگا۔ یہی کیش وقف ہے وقف صرف پراپرٹی نہیں ہوتی۔ وقف کا معنی ہے روک لینا (راہِ خدا میں دینے کے لئے)۔
وقف کا اصول بالکل واضح تھا: اصل مال محفوظ رہے اور اس کا فائدہ معاشرے تک پہنچتا رہے۔ وقف کا مقصد دنیا کے لالچ کو روکنا اور اللہ کی رضا کے لئے مخلوقِ خدا پر خرچ کرنے کی ترغیب دینا تھا تاکہ معاشرہ قرض کی زنجیروں سے بچا رہے اور دولت امیروں سے غریبوں کی طرف منتقل ہوتی رہے۔اسی سوچ کی بنیاد پر تعلیم، صحت، مسافر خانے اور قرضِ حسنہ جیسے کام چلتے رہے۔ کیش وقف نے سودی نظام کو عملی طور پر چیلنج کیا اور معاشرے کو معاشی طور پر مضبوط رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک یہ غیر سودی بنیاد قائم رہی، مسلمان عزّت اور طاقت کے ساتھ کھڑے رہے۔

یہ بھی پڑھئے: عقل اور مشاہدہ کی سرحدیں جہاں ختم ہو جاتی ہیں، وہاں سے اللہ تعالیٰ کا غیبی نظام شروع ہوتا ہے

ایک اہم موڑ: کیش وقف سے بینک تک
تاریخ کا ایک اہم اور افسوسناک موڑ اس وقت آیا جب عثمانی خلافت میں کیش وقف جیسے نظام کو بینکاری ڈھانچے میں بدل دیا گیا۔ اس کے بعد ریاستی اخراجات بڑھتے گئے اور آخرکار سود پر قرض لینا پڑا۔ یہیں سے معاشی اور مالی کمزوری نے جنم لیا جو بعد میں خلافت کے خاتمے کی وجہ بنی۔ جس خلافت کی ذمہ داری دنیا کو سود سے بچانا تھی، جب وہی سودی نظام کے سامنے جھک گئی تو اسلامی اصولوں کی کسوٹی پر وہ خلافت کے لائق نہ رہی۔ اس طرح عثمانی خلافت کے خاتمے کے ساتھ دنیا نے زوال کے ایک نئے دور کا آغاز دیکھا۔
زوال کی اصل وجہ: دنیا کی محبت
پھر ایک ایسا دور آیا جب آخرت کے مقابلے میں دنیا کی محبت دلوں میں بڑھتی چلی گئی۔ قربانی کا جذبہ کم ہوا، وقف کا سلسلہ رُکنے لگا اور دولت جمع کرنے کا رجحان بڑھ گیا۔ نتیجتاً وہ طاقت کمزور پڑنے لگی جو معاشرے کو سود سے بے نیاز رکھتی تھی۔
زوال کی تنبیہ
رسولؐ اللہ  نے فرمایا: ’’قریب ہے کہ دنیا کی قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں جیسے لوگ کھانے کی تھالی پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔‘‘
صحابہؓ نے پوچھا: ’’کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟‘‘
 آپ ؐ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ تم بہت زیادہ ہو گے، لیکن سیلاب کے جھاگ کی طرح۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’وَہن‘ ڈال دے گا۔‘‘ 
پوچھا گیا: ’’وَہن کیا ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔‘‘ (سنن ابو داؤد)
یاد رہے، قرآن مجید میں بگڑے حالات کا علاج موجود ہے
قرآن صرف بیماری کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ اس کا علاج بھی بتاتا ہے۔ وہ انسان کو توبہ، اطاعت اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی دعوت دیتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ جو اللہ کو قرضِ حسنہ دیتا ہے، اللہ اس کے گناہ بھی معاف کرتا ہے اور اس کے مال کو کئی گنا بڑھا کر واپس کرتا ہے:   ”اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو، تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔“ (سورۃ التغابن:۱۷)

یہ بھی پڑھئے: قرآن ہمارے لئے بھی نفع بخش بن سکتا ہے

 ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
کیا آج ہم اپنے بگڑتے حالات کو بدلنے کے لئے کسی مسیحا کا انتظار کریں گے، یا خود اپنے عمل پر غور کریں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنے زوال کے ذمہ دار ہیں۔اگر آج ہم خود کو مجبور اور پیچھے محسوس کرتے ہیں تو ہمیں ایمانداری سے خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہم نے دنیا کی دولت کو اللہ کی رضا اور آخرت سے زیادہ اہم بنا لیا ہے؟اگر آج بیت المال موجود نہیں ہے تو کم از کم ہم ان تنظیموں اور سوسائٹیوں کا ساتھ تو دے سکتے ہیں جو غیر سودی نظام کے لئے کام کر رہی ہیں۔ جیسے صحابۂ کرامؓ اپنی بچت اللہ کی راہ میں وقف کیا کرتے تھے، کیا ہم بھی ایسا نہیں کر سکتے؟
جب انسان اللہ کو سب سے زیادہ محبوب بنا لیتا ہے اور اپنا پسندیدہ مال اس کی راہ میں دیتا ہے، تو اللہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔یہی قرآن کا پیغام ہے،یہی سنت کا طریقہ ہے، اور یہی انسانی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK