کوکن کے جین زی نے کوکن کا وہ دَور نہیں دیکھا جب یہاں بجلی بحال نہیں تھی۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ گھر آنگن میں شمعیں روشن ہوا کرتی تھیں۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 4:46 PM IST | Waris Torailvi | Mumbai
کوکن کے جین زی نے کوکن کا وہ دَور نہیں دیکھا جب یہاں بجلی بحال نہیں تھی۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ گھر آنگن میں شمعیں روشن ہوا کرتی تھیں۔
کوکن کے جین زی نے کوکن کا وہ دَور نہیں دیکھا جب یہاں بجلی بحال نہیں تھی۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ گھر آنگن میں شمعیں روشن ہوا کرتی تھیں۔ روایتی تعلیمی ادارے وقت کے ساتھ قائم کئے گئے مگر جین زی کی حالیہ زندگی ان تمام تر کٹھنائیوں سے دور ہے۔ انہیں ترقی یافتہ دور ملا اور سکون سے لبریز زندگی کے شب و روز بھی۔ روایتی گریجویشن کی تعلیم کے بر عکس مقابلہ جاتی امتحانات جین زی کا مقدر بنے ۔ موبائل-فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات نے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کے دروازے کھول دئیے جبکہ جین زی سے قبل اعلیٰ تعلیم کا حصول قدرے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا کیونکہ آج جین زی کے دامن میں دنیا کی تمام نعمتیں ڈال دی گئی ہیں مگر ان کا انحصار دو پہلوؤں پر مشتمل ہے کہ آیا وہ انہیں کس نہج پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرنیٹ کہاں مثبت کار کردگی انجام دیتا ہے وہیں خصوصی طور پر اخلاقی اقدار کی پامالی میں کسی مہلک اور لاعلاج مرض سے کم نہیں مانا جا سکتا۔
کوکن میں جین زی کا سب سے قابل فخر اور قابلِ رشک پہلو یہ ہے کہ ان میں نمازوں کے اہتمام رجحان زبر دست ہےجو ایک خوش آئند اور مستحسن قدم اس لئے کہ اپنی گوناگوں مصروفیات اور یاری دوستی کے حلقوں رہ کر یا کہیں سفر میں کیوں نہ ہو یہ نسل نماز کی ازخود پابند ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کوکن کے گاؤں گاؤں میں اُردو کی تدریس کا منظر نامہ
کوکن میں انہوں نے دہقانوں کا دَور نہیں دیکھا مگر ان کے آبا و اجداد سے ان کی محنت و مشقت کے قصے ضرور سنے ہوں گے ۔ اس محنت مشقت سے انہیں کوئی لگاؤ نہیں ہے وہ بس ترقیاتی دَور میں سبقت حاصل کرنے کی تگ ودو میں سرگرم عمل ہیں۔ آج کوکن کا جین زی پرانے وقتوں کی طرح روایتی تعلیم حاصل کر کے بیرون ملک غلامی کی زندگی بسر کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ اسے وہ ساری سہولیات میسر ہیں جن سے وہ اعلی تعلیم حاصل کر کے اپنا مقام پیدا کر سکتا ہے ۔ یہ نسل حالات حاضرہ سے بخوبی واقف ہے۔ بھلے اس کے ہاتھ میں اخبارات نہ بھی ہوں مگر اس کے والدین نے اس کے ہاتھ میں جو موبائل تھما دیا ہے اس میں درجنوں ناموں کے اخبارات متعدد زبانوں میں پی ڈی ایف کی شکل میں دستیاب ہیں کہ وہ انہیں جب چاہے ڈاؤن لوڈ کر کے مطالعہ کر سکتا ہے۔ ان کے پاس بھلے گھر میں چار کتابیں نہ بھی ہوں تب بھی جس کتاب کا وہ مطالعہ کرنا چاہیں لمحوں میں وہ کتاب ان کے موبائل کے اسکرین کی زینت بن جاتی ہے۔
ایک اہم اور دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ان میں پذیرائی اور مذمت کرنے کے جذبات بھی شامل ہیں جو ان کے وہاٹس ایپ کے اسٹیٹس سے جانے جا سکتے ہیں۔ کوئی خوشگوار امر چاہے وہ ان کے خاندان ،دیہات ،ریاست یا قومی و بین الاقوامی ہی کیوں نہ ہو وہ اس کی پزیرائی میں پیش رفت کرتے ہیں یا پھر کوئی دل خراش واقعہ جس کی مذمت لازم ہو ایسی صورت حال میں وہ سوشل میڈیا پر مذمت کرنے سے نہیں چوکتے کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ کوکن جیسے چھوٹے سماج میں جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے وہاں اپنی کمزوری کو ماننا سب سے بڑی بہادری ہے اور یہ بہادری کوکن کے جین زی میں ہے۔ کوکن میں جین زی کا فلسفہ جدا گانہ ہے۔ یہاں لڑکے درس و تدریس کے پیشے سے کم وابستہ ہیں جبکہ لڑکیاں اس پیشے سے زیادہ وابستہ ہیں چاہے وہ اردو ذریعہ تعلیم کے ادارے ہوں یا انگریزی ذریعہ تعلیم کے، یہاں تدریسی پیشے میں لڑکیوں اور عورتوں کی بہتات نظر آتی ہے۔ یہ جین زی نوکری پیشہ میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ تجارت میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کسی کا غلام بن کر جینا نہیں چاہتے بلکہ وہ اپنا انقلابی کوکن خود تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔