• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہاں کھو گئیں کوکن کی اجتماعی سرگرمیاں؟

Updated: November 03, 2026, 4:35 PM IST | Musdar Mullaji | Mumbai

خوشی ہو یا غم،سب کے احساسات.... اپنے لگتے تھے۔ سہولتیں نہ ہونے کے باوجود سب اسے اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آج بازار میں سبھی چیزیں میسر ہیں مگر جو لذت ان اجتماعی سرگرمیوں میں تھی وہ اب ختم ہوتی جارہی ہیں۔

A scene from the pre-wedding tea and paan ceremony. Photo: INN
شادی سے پہلے چائے، پان کی رسم کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

کوہ سیہادری کے دامن میں اور گجرات سے لے کر گوا کی سر حد تک پھیلا ہوا۔ساحل سمندر سے سٹا ہوا۔ اونچی اونچی پہاڑی چوٹیوں اور پہاڑوں کے دامن میں پھیلا ہوا سر سبزو شاداب کھیتوں ،ناریل اور سپاری کے باغات سے سجا ہوا علاقہ.... اسے کوکن کہا جاتا ہے۔ کوکن کے ہر گاؤں میں جماعت کا نظام  ہے۔ہر گاؤں میں وہاں کے مقیم باشندوں کی کسی بھی پریشانی یا مسئلہ کے تدارک کیلئے وہاں کی جماعت حتی الامکان کوشش کرتی ہئے۔جماعتی نظام دراصل ایک اجتماعی نظام ہے۔  ہم نے ہمارے گاؤں، خاندان، یا گھروں میں اکثر دیکھا ہے کہ بچے کی پیدائش سے لے کر شادی بیاہ ،خوشی،وغم کا کوئی بھی موقع ہو گھرخاندان یا گاؤں کی جماعت کے ذمہ داران کی شمولیت کو ضروری سمجھا جاتا تھا۔

کسی بھی گھر میں بچے کی پیدائش کے بعد عقیقہ ہو، نام رکھنا ہو یا نو مولود کو پالنے (جھولے) میں ڈالنا ہو خاندان کی بزرگ خواتین و مرد حضرات کا موجود ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ گھر کا کوئی ایک فرد شہر میں کماتا تھااور گھر میں بزرگ والد یا والدہ کے ہاتھ میں اپنی کمائی دیتا تھاجس سے گھر کے سبھی افراد کی کفالت ہوتی تھی۔ گاؤں کےسبھی گھروں میں کھیتی باڑی (سونسار) کے کام ہوتے تھے۔اس میں بھی کبھی کسی کو کوئی پریشانی ہوتی، جیسے کسی کے پاس ہل (ناگر، دو بیلوں کی جوڑی) اور کھیتی باڑی کے دوسرے لوازمات مکمل نہ ہو تو کسی دوسرے سونسار ی (کھیتی کا کام کرنے والے) کو ساتھ میں لیتے تھے جسے ڈالا (ڈالے میں، پارٹنر شپ)کہتے ہیں۔ سبھی مل جل کر ہر کسی کا کام انجام تک پہنچاتے تھے۔ اب کھیتی کے کام بھی یاد رفتگاں بنتے جارہے ہیں۔نوجوان ذریعہ معاش کی فکر میں شہروں یا دیار غیر میں ہجرت کر رہے ہیں۔ جو مزدور کام کرنے آتے تھے، اب ان کے بچے تعلیم یافتہ ہو گئے ہیں۔  وہ بھی روزی روٹی کی فکر اور مزید ترقی کے مواقع کی تلاش میں شہروں میں جارہے ہیں۔ مزدوروں کے نہ ملنے،گھرں کے نوجوانوں کے شہروں میں جا کر بسنے کی وجہ سے اب گنے چنے گھروں میں ہی کھیتی باڑی کے کام ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کوکن کی مسلم خواتین: علم، تہذیب اور کامیابی کا ایک صدی پر محیط سفر

گھروں میں بچوں کی شادی بیاہ کیلئے رشتے طے کرنے کا موقع آتا تو خاندان کے سبھی بزرگ مل کر متحدہ طور پر کوشش کرتے تھے۔دور دراز رہنے والے رشتہ داروں سے مشورہ کیا جاتا۔ خصوصاً بیٹی کیلئے رشتہ (مانگنا ) آنے پر سبھوں سے مشورہ کیا جاتا اورمتفقہ رائے سے رشتہ طے ہوتا تھا۔ غلطی سے کسی کو اگر اطلاع نہ دی گئی تو ناراضگی کو برسوں تک برداشت کرنا پڑتا تھااور بڑی منت سماجت کے بعد تعلقات استوار ہوتے تھے۔ مانگنا (رشتہ ) طے (جواب) دینے کے وقت فریقین کے بزرگوں، جماعت کے  ذمہ داروں کا ہونا ضروری ہوتا تھا۔رشتہ طے ہونے کے بعد سبھوں کےمشورے سے شادی کی تاریخ اور جگہ طے کی جاتی تھی۔ نکاح کی تقریب کہاں ہوگی، سبھی باتوں کا اجتماعی طور پر فیصلہ ہوتا تھا۔ یہ بھی مدنظر رکھا جاتا تھا کہ اسی دن، تاریخ میں کسی اور قریبی رشتہ داری میں کوئی شادی کی تقریب نہ ہو۔آج ہر گاؤں، قصبہ،اور شہروں میں سڑکوں اور گاڑیوں کی سہولت پہلے کے مقابلے آسان ہونے کے باوجود ہم اپنے عزیز و اقارب سے مہینوں، برسوں تک مل نہیں پاتے ہیں۔مواصلات کے نئے نئے طریقہ میسر ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملاقات نہ ہونے کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔پہلے سہولتیں نہ ہونے کے باوجود لوگ دور دراز کے سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے خوشی اور غم میں شریک ہوتے تھے۔ خطوط میں انتر دیسی، پوسٹ کارڈ اور ایئر میل لیٹر کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار رہتاتھا۔ گاؤں سے شہر یا شہر سے گاؤں کوئی آتا جاتا تھا تو ایک دوسرے کو ضرور اطلاع کی جاتی تھی۔کسی کا خط یا ضروری سندیسہ لے جانا ہوتو اس سے آسانی ہوتی تھی۔ بیاض کے چھوٹے سے صفحہ پر بھی لوگ فوراً چٹھی (خط) لکھ کر دے دیتے تھے۔ کاغذ کے مختصر سے ٹکڑے پر محبت سے لکھی ہوئی چند سطریں، دل کا سب حال احوال بیان کرتی تھیں۔آج جدید سہولتیں موجود ہیں۔مہینوں، ہفتوں کا انتظار چند ساعتوں میں سمٹ گیا ہےمگر جو انتظار کی لذت اس کاغذ کے ٹکڑے میں اور مختصر سی تحریر میں تھی۔وہ اب ان جدید سہولتوں میں نہیں ہے۔

      شادی کی تقریب طے ہو نے کے بعد دور دراز گاؤں میں رہنے والے رشتہ داروں، عزیزوں کو کئی روز پہلے سے دعوت (اوتن) دینے کی شروعات کی جاتی تھی۔ اس کیلئے بھی خاندان کے ہر فرد کو ذمہ داری دی جاتی تھی۔ایک مرد اور ایک خاتون یا اس سے زیادہ بھی ہوتے تھے۔ دعوت (اوتن) دینے کیلئے گاؤں میں مقیم رشتہ داروں کے یہاں ایک یا دو روز کیلئے چلے جاتے تھے۔ دعوت کے بہانے اپنے عزیز و اقارب رشتہ داروں سے ملاقات ہوتی تھی۔کئی دنوں کی ملاقات کے بعد گلے شکوے کئے جاتے۔ سبھی رشتہ داروں کے یہاں دعوت دینے کا ایک مخصوص انداز ہوتا تھا۔’’ نارل چادر گھیا انی شادی لا چلا‘‘   (ناریل چادر لو اور شادی کو چلو)

دعوت دینے والوں کے ساتھ سفید چادر اور ناریل ضرور ہوتا تھا۔وہ جہاں بھی جاتے یہ جملہ ضرور دہراتے تھے’’ناریل چادر گھیا انی شادی لا چلا‘‘  اس زمانے میں دعوت نامہ نہیں ہوتا تھا۔دعوت دینے والی خاتون شادی کی مکمل تفصیل مع ہلدی ،مہندی،چور مہندی،دلہن کو ڈولی میں رخصتی کے وقت شریک و حاضر رہنے کی دعوت تفصیل سے بیان کرتی تھیں۔ جس گھر میں دعوت دی جاتی وہاں ان کا شکر سے منہ میٹھا کیا جاتا تھا۔ آج خوب سے خوب تر جدید تراش خراش کے دعوت نامہ موجود ہونے کے باوجود وہ تفصیل بیان نہیں ہو پاتی جو محبت بھرے چند لفظوں میں ہوتی تھی۔دور و نزدیک دوست واحباب سبھوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مدعو کیا جاتا۔ دولہا دلہن کی خالہ، پھوپھو، چاچی، ممانی، باہر بیاہی ہوئی بہنوں کو شادی میں شرکت کیلئے مدعو کرنے کیلئے خصوصی مانگاری،کھالو، باجے شہنائی کے ساتھ ڈولی بھیجی جاتی تھی۔ بڑے مان  کے ساتھ مدعو کیا جاتا تھا۔ گردش ایام کے ساتھ یہ محبت، اپنا پن کہیں دم توڑتا جارہا ہے۔دعوت دینے کے طریقے بدلتے جا رہے ہیں۔ جہاں شادی بیاہ میں مہینوں اپنوں کی چہل پہل میل ملاپ ہوتا تھا۔اب لاکھوں روپے خرچ کرکے چند گھنٹوں وچند افراد (ہمارے پچاس،تمہارے پچاس۔آج ہماری دعوت کل تمہاری دعوت) کی رسمی شمولیت میں تقریب کی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔

      رشتے داروںکا کئی روز پہلے سے آنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ ہر طرف چہل پہل ہوتی تھی۔آنگن میں منڈپ (مانڈو) بنایا جاتا تھا۔ منڈپ تیار ہونے کے بعد اس کے سجانے (کاپرنے) کیلئے گاؤں کے نوجوانوں کو ذمہ داری دی جاتی تھی۔ منڈپ کی چھت پر دھان کی گھاس (پینڈا،گوت) ڈالی جاتی تھی۔ اس کو چھپانے کیلئے سفید کپڑے سے سجایا جاتا تھاجس کیلئے بیوہ بزرگ خواتین کی سفید ساڑیاں اور مردوں کے دھوتر استعمال ہوتے تھے۔کئی دنوں تک مانڈو سجانے (کاپڑنے) کا کام چلتا تھا۔چائے ناشتہ ، خوش گپیوں کی محفل سجی رہتی تھی۔شادی کے دن قریب آتے جاتے تھے۔اس کی باقی تیاریوں کا لائحہ عمل تیار کیا جاتا تھا۔ منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔ آج بازار میں ہر چیز میسر ہے۔ منڈپ سے لےکر سجاوٹ کی تمام چیزیں بازار میں آسانی سے مل جاتی ہیںمگر جو بات اس اتحاد میں تھی وہ اب بہت کم دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسلامو فوبیا کے دور میں فلم ’’یورمدر، یورمدر، یورمدر‘‘ کئی لحاظ سے قابل توجہ ہے

شادی کے چندروز پہلے چائے پان کی رسم ادا کی جاتی تھی جس میں تمام گاؤں والوں کو مدعو کیا جاتا تھا اور شادی کی تقریب کا تمام انتظام جماعت کے حوالے کیا جاتا تھا۔ دلہن اگر کسی دوسرے گاؤں سے آنے والی ہو، یاجانے والی ہو تو اسے لانے کیلئے یا دوسرے گاؤں رخصتی کیلئے جماعت کی جانب سے ذمہ دار اشخاص کا انتخاب کیا جاتا تھا۔دلہن کو لانے جانے والے کو مانگاری کہاجاتا تھا۔ دلہن کو لانے سے لےکر نکاح ہونے تک دلہن کے ساتھ آئے ہوئے تمام مہمانوں کی آؤ بھگت کرنے کی پوری ذمہ داری ان مانگاری حضرات کی ہی ہوتی تھی۔   جماعت کا حق دانہ ادا کرنے کے بعد شادی کیلئے آنے والے مہمانوں کی خاطر تواضع،کھانا پکانے سے لے کر تمام ذمہ داریاں، باراتیوں، مہمانوں کی خاطر تواضع گاؤں کے ہر گھر میں کھانا تقسیم کرنا،گاؤں کے کسی گھر میں کوئی مہمان آیا ہوتو اس کا دھیان بھی رکھا جاتا اور اس کا تھال (پلیٹ، تانبے کا بنا ہوا) ضرور پہنچایا جاتا تھا۔یہ تمام ذمہ داری مذبح (مدبا خانہ)  والوں کی ہوتی تھی۔کھانا پکانے کیلئے بھی جماعت کے مخصوص لوگ ہوا کرتے تھے۔ کھانا پکانے کیلئے لگنے والی تمام اشیاءان کے حوالے کی جاتی تھی۔ آنے والے باراتیوں کی تعداد کے حساب سے بکرے منگائے جاتے، اسی جگہ بکرے ذبح کئے جاتے تھے۔ اسی لئے اس جگہ کو مذبح کہا جاتا تھا۔

تانبے کی بڑی بڑی دیگوں میں چاول اور سالن پکایا جاتاتھا۔ دیگوں میں پکایا ہوا چاول، سل، بٹّے (پاٹا  وھرواٹے) سے پیسے ہوئے مسالے (واٹن ) کا تانبے کی دیگ میں پکائے ہوئے سالن کی خوشبو کا مزہ آج بھی لوگ یاد کر کر کے گاؤں میں گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ مسالہ پیسنے کیلئے سل، بٹا (پاٹا وھرواٹا)گاؤں کے ہر گھر سے جمع کر کے مذبح  میں لائے جاتےتھے ۔ گاؤں کے ہر گھر سے خواتین جمع ہوتی تھیں۔سالن بنانے کیلئے لگنے والی تمام اشیاء ان کے حوالے کی جاتی تھیں۔تمام خواتین مل کر مسالہ پیس کر باورچی ( جیونی ) کے حوالے کر دیتی تھیں۔ اس متحدہ عمل کی ترتیب بھی خواتین کے چائے، پان میں طے کی جاتی تھی۔گھر کی خواتین اپنے ساتھ گھر میں آئی ہوئی نئی بہو کو بھی لے جاتی تھیں جس سے گاؤں میں آئی ہوئی نئی بہو کا تعارف ہو جاتا تھا۔ یہ بھی خواتین کے اجتماعی عمل کی مثال تھی۔

مستورات میں آئی ہوئی باراتیوں کی خدمت کیلئے چند خواتین کا انتخاب کیا جاتا  جو اُن کی بڑی آؤ بھگت کرتیں۔گاؤں کے تمام افراد کیلئے عام دعوت طعام کاانتظام کیا جاتا، ضعیف العمر افراد یا گاؤں میں کسی گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کا خاص خیال رکھ کر ان کو تھال (کھانا)  پہنچایا جاتا تھا۔یہ کام نوجوان بچوں کے ذمے ہوا کرتا تھا۔تانبے کے تھال میں چاول،جس پر گرم گرم سالن، اچار (لونچا) گوشت کی بوٹیاں اوربیگن کی بھاجی سے یہ سجا ہوا گرم گرم تھال اپنے مخصوص مقام تک پہنچانا بڑی ذمہ داری کا کام ہوا کرتا تھا۔نوجوانوں کی ٹولی گاؤں کی گلیوں سے جب یہ تھال لے کر گزرتی تھی تو اس کی خوشبو سے پورا گاؤں مہک اٹھتا تھا۔تھال کی تقسیم کے بعد تمام بچوں کو دیگ سے نکالے ہوئے چاول کی تل چھٹ (کرپ) دی جاتی تھی۔اس میں ڈالی ہوئی پلاؤ پتی کی خوشبو سے کرپ کھانے میں ایک خاص مزہ آتاتھا۔ منڈپ میں محفل طعام کے اختتام سے پہلے نوجوانوں کو پورے گاؤں میں ایک گشت کیلئے بھیجا جاتا تھا جسے چلو کہتے تھے۔مقصد یہ تھا کہ گاؤں کا کوئی فرد یا کسی کے گھر آیا ہوا مہمان کھانے سے محروم نہ رہ جائے، اسلئے بچے پورے گاؤں میں زور زور سے منادی (اینزن) دیتے ہوئے گزرتے تھے’’گھر والے، پردیسی کھانا کھانے چلو...

خوشی ہو یا غم،سب کے احساسات.... اپنے لگتے تھے۔ سہولتیں نہ ہونے کے باوجود سب اسے اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھتے تھے۔  آج تمام سہولتیں ہونے کے باوجود ہم  احساسات سے بہت دور آگئے ہیں۔ساری باتیں رسمی ہوگئی ہیں۔بازار میں سبھی چیزیں میسر ہیں مگر جو لذت ان اجتماعی سرگرمیوں میں تھی وہ اب ختم ہوتی جارہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK