• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خطۂ کوکن: ایک نہیں ہزار خوبیاں

Updated: November 03, 2026, 5:02 PM IST | Qutubuddin Shahid | Mumbai

کشمیر اگر ہندوستان کیلئے جنت نظیر ہے توخطہ کوکن کو مہاراشٹر کا جنت قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہاں کی ہریالی، آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے قدرتی مناظر، پہاڑوں کے درمیان بہنے والی اِٹھلاتی اور بل کھاتی ندیاں، دلکش آبشار، کوکن کی خوبصورت صبحیں اوریہاں کی سہانی شامیں، سروں کے اوپر منڈلاتے بادلوں کے مرغولے، کوکن کے آم، پھلوں کی مٹھاس، یہاں کی میزبانی، کہساروں اور وادیوں کے درمیان سے گزرتی ٹرینوں کا سفر اور یہاں کے رسم و رواج میں اپنائیت و خلوص کے جذبوں سے ہر خاص و عام متاثر ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کشمیر اگر ہندوستان کیلئے جنت نظیر ہے توخطہ کوکن کو مہاراشٹر کا جنت قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہاں کی ہریالی، آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے قدرتی مناظر، پہاڑوں کے درمیان بہنے والی اِٹھلاتی اور بل کھاتی ندیاں، دلکش آبشار، کوکن کی خوبصورت صبحیں اوریہاں کی سہانی شامیں، سروں کے اوپر منڈلاتے بادلوں کے مرغولے، کوکن کے آم، پھلوں کی مٹھاس، یہاں کی میزبانی، کہساروں اور وادیوں کے درمیان سے گزرتی ٹرینوں کا سفر اور یہاں کے رسم و رواج میں اپنائیت و خلوص کے جذبوں سے ہر خاص و عام متاثر ہے۔ انتخابی دنوں میں وزیراعظم نریندر مودی بھی اس خطے کی تعریف کئے بغیر رہ نہیں سکے تھے۔ انہوں نے اسے خوشحالی کا باب الداخلہ قرار دیا تھا۔ ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’ کوکن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں موجود سمندر نہ صرف مہاراشٹر کا بلکہ پورے ملک کیلئے خوشحالی کا باب الداخلہ ہے۔ آج بھی اس خطے میں ترقیات کے بیشتر مواقع موجود ہیں۔‘‘

اس خطے کی خوبصورتی بیان کرنے کیلئے مشہور شاعر احمد سلمان کا یہ تخیل کافی موزوں اور مناسب لگ رہا ہے کہ ’’شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو‘‘۔اس مختصر سے مضمون میں کوکن کی تمام صفات کا جائزہ لیناآسان نہیں، اسلئے  صرف دو گوشے مثلاً کوکن کے آم اور کوکن کی ریل کے موضوع پر اکتفاکریںگے اور دیکھیںگے کہ یہ کس طرح دوسرے خطوں سے منفرد ہے۔

 کوکن کا آم یعنی الفانسو

کوکن کے جنگل نما باغات ہمیشہ طرح طرح کے پھلوں سے لدے پھندے ہوتے ہیں۔ ان پھلوں میں کاجو، ناریل، جامن، کٹہل، کروندے اور بیریاں قابل ذکر ہیں لیکن چہار دانگ عالم میں جو شہرت و مقبولیت کوکن کے آموں کو میسر ہے، وہ کسی اور پھل کو نہیں اور کسی دوسرے خطے کے آم کو بھی نہیں۔ کوکن کے ’الفانسو‘ المعروف ’ہاپوس‘ آم نہ صرف ہندوستانیوں کی پہلی پسند ہیں بلکہ یہ پوری دنیا میں ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں اور ہرجگہ بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ کوکن کی خوبصورتی، یہاں موجود قدرتی وسائل، مختلف اقسام کے پھل اور غذائیت سے بھرپور مچھلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی نے کیا خوبصورت تمثیل پیش کی  ہے کہ ’’کوکن کو دیکھئے تو ایسا لگتا ہے کہ سورہ رحمان کی تلاوت ہورہی ہو۔تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: کوکن کے جین زی اپنا انقلابی کوکن خود تعمیر کرنا چاہتے ہیں!

آم کے تعلق سے جب بھی کوئی ادبی گفتگو ہوتی ہے، مرزا غالب کا وہ لطیفہ اکثر دُہرایا جاتا ہے جس میں اُن کا ایک دوست ازراہ تفنن کہتا ہے کہ ’’مرزا !دیکھو گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘‘ اس کے جواب میں مرزا کہتے ہیں کہ ’’  ہاں! گدھے آم نہیں کھاتے‘‘ .... لیکن علامہ اقبال کا تذکرہ نہیں کیا جاتا کہ انہیں بھی آم بہت پسند تھے۔ مشہور افسانہ نگار اورمنفرد اسلوک کے مالک انتظار حسین ’آم ،ساون، غالب اور اقبال‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’آموں کی ایک فصل علامہ اقبال پر بہت بھاری گزری۔ حکیم صاحب نے انھیں ہدایت کی کہ آموں سے پرہیز کیجیے مگر جب دیکھا کہ مریض بہت مچل رہا ہے تو کہا کہ اچھا آپ دن میں ایک آم کھا سکتے ہیں۔ تب علامہ صاحب نے علی بخش کو ہدایت کی کہ بازار میں گھوم پھر کر دیکھو۔ جو آم سب سے بڑا نظر آئے وہ خرید کر لایا کرو۔‘‘

اسی مضمون میں علامہ اقبال کے ایک خط کااقتباس بھی انہوں نے نقل کیا ہے۔علامہ لکھتے ہیں کہ ’’آموں کی کشش ،کششِ علم سے کچھ کم نہیں۔ یہ بات بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ کھانے پینے کی چیزوں میں صرف آم ہی ایک ایسی شے ہے جس سے مجھے محبت ہے۔ ہاں آموں پر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ گزشتہ سال مولانا اکبر نے مجھے لنگڑا آم بھیجا تھا۔ میں نے پارسل کی رسید اس طرح لکھی ’اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبر:الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک آیا‘۔اس زمانے میں آموں کے نام سب سے بڑھ کر لنگڑے کی دھوم تھی۔ اکبر الہ آبادی نے اس تقریب سے علامہ کو لنگڑے کا تحفہ بھیجا۔ اب لنگڑا لنگڑاتا لنگڑاتا کہیں پیچھے رہ گیا۔ اب کون اس کا نام لیوا ہے۔ اب تو چونسہ کا بول بالا ہے۔‘‘انتظار حسین نے چونسے کا تذکرے کیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اب چونسے کا بھی زمانہ گیا۔ یہ زمانہ ہاپوس کا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کوکن: قدرتی حسن، تہذیبی رنگا رنگی اور ہمہ جہت ترقی کا خطہ

ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں آموں کے۱۵۰۰؍ اقسام پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک ہزار سے زائد قسمیں صرف ہندوستان میں تیار ہوتی ہیں۔  ان میں دسہری،  مالدہ، چونسہ،  امرپالی، راجہ پوری، فضلی اور لنگڑا جیسے کئی نام بہت مشہور ہیں۔لیکن ان تمام میں الفانسو کی مقبولیت سب سے زیادہ ہے۔ یہ دیگر آموں کی بدولت مہنگا بھی بہت ہوتا  ہے۔ اسی کے تعلق سے شاید یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس آم کو حاصل کرنا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ 

کوکن ریلوے ایک سنہرا باب

خطہ کوکن اپنے سبزہ زار، جغرافیائی خصوصیات، صاف ستھری آب و ہوا، پہاڑوں، جھرنوں، راہداریوں، ساحل سمندر، خوب صورت اور خوب سیرت گاؤں اور سب سے زیادہ اہم اپنے اُن خوش اطوار لوگوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو رنگ برنگی مناظر کو زیادہ حسین اور بامعنی بناتے ہیں۔ ان خوبیوں کے باوجود نقل و حمل کے محدود وسائل نے اس خطے کو ایک عرصے تک قدرے الگ تھلگ رکھا تھا۔ کوکن بہت دور نہ سہی لیکن بہت دور لگتا تھاکیونکہ ماضی قریب تک یہاں کا سفر تھکا دینے والا ہوا کرتا تھا۔ ماضی کا یہ قصہ حال کی بھی داستان ہوتا اگر کوکن ریلوے نے اس سرزمین پر اپنے قدم جما کر حالات کو یکسر بدل نہ دیا ہوتا۔ کوکن ریلوے نے جس کا صدر دفتر سی بی ڈی بیلاپور میں ممبئی سے بہت قریب واقع ہے، اپنی عمر کے ۲۰؍ ویں سال  میںہے۔ اس عمر کو عنفوان شباب کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی بڑی تعداد آج بھی بسوں کے ذریعہ خواہ وہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی بسیں ہوں یا پرائیویٹ لکژری بسیں، کوکن کے اپنے آبائی گاؤں کا سفر کرتی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کوکن ریلوے نے کوکن کی تاریخ میں ایک نئے اور سنہرے باب کا اضافہ کیا ہے۔ ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۰ ءکو چار ریاستوں (مہاراشٹر، گوا، کرناٹک اور کیرلا) کے باہمی تعاون اور انڈین ریلویز کے اشتراک سے قائم ہونے والی کوکن ریلوے نے ۲۶؍ جنوری ۱۹۹۸ء سے پہاڑوں کے درمیان بچھائی گئی پٹری پر اپنی ٹرینیں دوڑانے کا سلسلہ کیا شروع کیا۔وہ لوگ جو کوکن ریلوے سے سفر کرچکے ہیں جانتے ہیں کہ یہ سفر کتنا خوشگوار، پر لطف اور پرسکون ہوتا ہے۔ خطہ کوکن کے راستے ممبئی کو منگلور سے جوڑنے والی اس ریلوے کا قیام دراصل جغرافیائی اعتبار سے بے حد مشکل اور تکنیکی اعتبار سے گویا ایک چیلنج تھا لیکن تمام تر صعوبتوں اور دشواریوں سے گزر کر جو کارنامہ انجام دیا گیا، اُسے ہندوستانی ریلویز کا ایک تاریخی اور مثالی کارنامہ انجام دینے میں کسی کو تامل نہیں ہوسکتا۔  ایک ریورٹ کے مطابق کوکن ریلوے کے ذریعہ ہر سال ۳۵؍ ملین (ساڑھے تین کروڑ) مسافر سفر کرتے ہیں۔

ممبئی (اور وسئی) کے بعد روہا، کھیڈ، چپلون، رتناگیری، راجہ پور، کنکولی، کڈال اور ساونت واڑی سے ہوکر مڈ گاؤں(گوا)، کاروار (کرناٹک)، کمٹا، بھٹکل، اڈپی اور منگلور تک جانے والی کوکن ریلوے کا سفر ۷۴۱ ؍کلو میٹر پر محیط ہے جو اس اعتبار سے خاصا خوشگوار سفر ہوتا ہے کہ جہاں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے وہیں پہاڑوں کا سینہ چیر کر بنائی گئی ریلوے لائن اپنے آپ میں ایک انوکھے تجربے سے گزرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس دوران آپ کو چھوٹے اوربڑے پلوں پر سے گزرنے اور درجنوں ’ٹَنَل‘ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی خوشگوار کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ ٹنل جو کاربوڈے ٹنل کہلاتا ہے ۶ء۵ ؍کلومیٹر طویل ہے۔ 

ممکن ہے آپ نے کوکن کا کئی مرتبہ سفر کیا ہو، لیکن اب کے ایک نئے تجربے سے گزرنے کیلئے کوکن ریلوے کے ذریعہ سفر کر دیکھئے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ محظوظ نہ ہوں۔ اور اگر آپ نے مجاز کی نظم ’’رات اور ریل‘‘ پڑھی ہو تو اس کے چند ایک مصرعے آپ کو ضرور یاد آجائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK