اس دور میں جبکہ تعلیمی کریئر میں کاؤنسلنگ کا اتنا رجحان نہیں تھا، کوکن کے ماہرکاؤنسلر عبدالرؤف خطیب نے کریئر کی راہ منتخب کرنے میں کئی نوجوانوں کی مدد کی، کچھ نوجوانوں نے ان سے رابطہ کیا جبکہ کچھ نوجوانوں تک وہ خود پہنچے، ان کالموں میں چندایسے ہی نوجوانوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنی کامیابی ،مشکل حالات اورکریئر میںپیش آنے والے مسائل کے دوران عبدالرؤف خطیب کی رہنمائی سے استفادہ کیا ،اپنی کامیابی پر اللہ رب العزت اور اپنے والدین کا شکر گزار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اس کا سہرہ عبدالرؤف خطیب کے سر بھی باندھتے ہیں۔
عبدالرؤف خطیب۔ تصویر: آئی این این
میری کامیابی میں تعلیمی رہنمائی کا اہم کردار

میں کوکن کے ایک ایسے گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں جہاں تعلیم کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے۔ میرے والدین نے بھی مجھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ حوصلہ دیا ۔ ان ہی کی رہنمائی اور تعاون کی بدولت آج میں کامیابی کی منزل تک پہنچ سکی ہوں۔ میرے تعلیمی سفر میں کے جی سے لے کر پی ایچ ڈی تک تعلیمی مشیر جناب عبدالرؤف خطیب صاحب کی رہنمائی مسلسل حاصل رہی۔ایگریکلچر (ہارٹیکلچر) کے شعبے میں ایک لڑکی کا تعلیم حاصل کرنا، اور وہ بھی مسلم معاشرے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا اس شعبے میں کریئر بنانا، اُس وقت کسی قدر مشکل اور چیلنجنگ تھا لیکن خطیب سر نے میرے دل سے خوف، احساسِ کمتری اور ذہنی الجھنوں کو دور کیا۔ انہوں نے میرے اندر خود اعتمادی پیدا کی اور مجھے صحیح سمت میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ان کی رہنمائی اور میری محنت کا نتیجہ ہے کہ الحمدللہ آج میں ایک اچھے عہدے پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہوں۔اس موقع پر میں ہر طالب علم کو ایک اہم مشورہ دینا چاہوں گی کہ وہ صرف تعلیمی ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ کسی ماہر تعلیمی مشیر کی رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنی دلچسپی، صلاحیت اور دستیاب مواقع کو مدنظر رکھ کر اپنے مستقبل اور کریئر کی منصوبہ بندی کرے۔میرے اس سفر نے مجھے ایک اہم سبق سکھایا ہے کہ رہنمائی کا مطلب کسی دوسرے شخص کیلئے راستہ منتخب کرنا نہیں، بلکہ اسے اپنا راستہ خود تلاش کرنے کے قابل بنانا ہے۔میرا پختہ یقین ہے کہ اگر طلبہ کو صحیح وقت پر صحیح رہنمائی مل جائے تو وہ اپنی مخفی صلاحیتوں کو پہچان سکتے ہیں اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے خوابوں اور مقاصد کی تکمیل کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر نغمہ رفیق سُروے (ریگولیٹری اسپیشلسٹ )
میری کامیابی میں کریئر کاؤنسلنگ کی اہمیت

الحمدللہ! آج میں مرکزی حکومت کے محکمۂ ڈاک میں برانچ پوسٹ ماسٹر کے عہدے پر فائز ہوں۔ اس ملازمت میں میرے ۲۵؍ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ان ۲۵؍ برسوں کے دوران میری کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے محکمہ کی جانب سے مجھے کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ۔میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ میں کوئی سرکاری ملازمت حاصل کروں، لیکن بارہویں جماعت مکمل کرنے کے بعد کچھ ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری رکھنا میرے لیے ممکن نہیں رہا۔ ان حالات میں میں نے جناب عبدالروف خطیب صاحب سے مشورہ کیا۔ انہوں نے مجھے محکمۂ ڈاک کے امتحان میں شرکت کرنے کا مشورہ دیا۔ میں نے ان کی رہنمائی پر عمل کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے مجھے کامیابی حاصل ہوئی۔آج جب میں اپنے ۲۵؍ سالہ ملازمت کے سفر پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں صحیح کریئر کا انتخاب کرنے کے لیے بروقت اور درست رہنمائی کتنی ضروری ہے۔عبدالرؤف خطیب صاحب آج بھی میرے کریئر اور پروموشنکے سلسلے میں رہنمائی اور مشورے دیتے رہتے ہیں۔البتہ میری ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے کسی دوسری جگہ تبادلہ یا ملازمت کیلئے جانا ممکن نہیں ہے۔میں، میں تمام طلبہ و طالبات کو یہی مشورہ دینا چاہوں گی کہ جب بھی اپنے مستقبل اور کریئر کا انتخاب کریں تو کسی ماہرکریئر کاؤنسلر سے ضرور مشورہ کریں۔ اپنی دلچسپی، صلاحیت اور حالات کے پیش نطر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: خطۂ کوکن: ایک نہیں ہزار خوبیاں
شاہین یعقوب سروے (محکمہ ڈاک)
جدوجہد اورصحیح رہنمائی کی ایک کہانی

ہر کامیاب سفر کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔ یہ کہانی ہوتی ہے محنت، جدوجہد، قربانی، شکوک و شبہات، حوصلے اور سب سے بڑھ کر صحیح رہنمائی کی۔میرے سفر کا آغاز ایک خواب سے ہوا۔ ابتدا میں، میں نے اپنے محترم سر سے رہنمائی حاصل کی۔ ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون سے میں نے پہلے اپنا ڈپلوما مکمل کیا اور اس کے بعد آرکیٹیکچر (فن تعمیر) کی تعلیم حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے آزادانہ طور پر آرکیٹیکچر ڈیزائننگ کا کام شروع کیا۔ آہستہ آہستہ مجھے مختلف پروجیکٹ ملنے لگے اور میں نے اپنے تخلیقی خیالات کو عملی شکل دینا شروع کیا،لیکن یہ سفر آسان نہیں تھا۔ ہر نئے پروجیکٹ کے ساتھ نئے چیلنجز، ذمہ داریاں اور مشکل فیصلے سامنے آتے تھے۔ کئی مرتبہ ایسے مواقع بھی آئے جب مجھے خود پر شک ہونے لگا اور یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا تھا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اسی مشکل دور میں میرے سر نے مجھے قیمتی مشوروں اور صحیح رہنمائی سے نوازا۔ ان کے حوصلہ افزا الفاظ اور مشوروں نے میرے شکوک و شبہات کو دور کیا، میرے اعتماد میں اضافہ کیا اور مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔میں نے آہستہ آہستہ یہ محسوس کیا کہ کامیابی صرف تعلیم، صلاحیت اور محنت کا نام نہیں ہے، بلکہ زندگی میں کسی ایسے شخص کا ہونا بھی ضروری ہے جو مشکل وقت میں ہمیں صحیح راستہ دکھا سکے۔
بعض اوقات ہمیں صرف صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔آج جب میں اپنے اس سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اپنی ہر جدوجہد، ہر موقع اور بالخصوص اس رہنمائی پر فخر اور شکر گزاری کا احساس ہوتا ہے جس نے میرے پیشہ ورانہ سفر کو ایک نئی سمت دی۔سر! میری زندگی اور کریئر کے اس اہم سفر کا حصہ بننے اور ہر مشکل مرحلے پر میری رہنمائی کرنے کیلئے آپ کا تہہ دل سے شکریہ۔
کبیر دھنشے آرکیٹیکٹ (ماہر فن تعمیر)
ہر چیلنج خود کو بہتر بنانے کا موقع

میرا تعلق ساوناس (تعلقہ کھیڑ ) سے ہے جہاں میں نے اپنی ابتدائی تعلیمی سفر کا آغاز ایک اردو میڈیم اسکول سے کیا اور ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ(ایچ ایس سی) تک تعلیم مکمل کی۔ ٹیکنالوجی کیلئے میرے مضبوط جذبے نے مجھے اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کیا اور میں نے بیچلر آف سائنس ان انفارمیشن ٹیکنالوجی(بی ایس سی آئی ٹی) کی ڈگری حاصل کی۔ آئی ٹی کی مسابقتی دنیا میں اپنے قدم مضبوط کرنے کیلئے، میں نے ونڈوز اور ایکسچینج سرور میں مائیکروسافٹ کی معتبر سرٹیفیکیشنز حاصل کیں جس نے مجھے اپنے ابتدائی کیریئر کو قائم کرنے کیلئے ضروری تکنیکی بنیاد فراہم کی۔پچھلے۲۲؍ سے زائد سال کے دوران، میرا پیشہ ورانہ سفر بنیادی تکنیکی ذمہ داریوں سے ترقی کرتا ہوا ایگزیکٹو قیادت اور اسٹرٹیجک سروس ڈیلیوری تک پہنچا ہے۔ آج، میں ایک سینئر ڈیلیوری منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہوں جہاں میں ۴۵؍ سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کی ایک اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم کی قیادت کرتا ہوں جو ہندوستان کے دوسرے بڑے بینک کو سپورٹ فراہم کرتی ہے۔ اس عہدے پر، میں سروس کے استحکام کو یقینی بنانے، ہائی امپیکٹ انسیڈنٹس کے فوری حل، ریگولیٹری کمپلائنس کے معیارات کو برقرار رکھنے، اور آپریشنل عمدگی کو فروغ دینے کا براہ راست ذمہ دار ہوں۔اپنے کریئر پر نظر ڈالتے ہوئے، میری سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے کبھی بھی اپنے اردو میڈیم پس منظر کو اپنی کارپوریٹ کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ اس کے بجائے، میں نے مواصلات اور تکنیکی شعبے کے ہر چیلنج کو خود کو بہتر بنانے کے ایک موقع کے طور پر قبول کیا، اور یہ ثابت کیا کہ پختہ عزم اور ترقی پسند سوچ (growth mindset) کے ذریعے کسی بھی رکاوٹ کو عبور کر کے قیادت کے اعلیٰ ترین مقامات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کوکن کے جین زی اپنا انقلابی کوکن خود تعمیر کرنا چاہتے ہیں!
تنویر اسماعیل الوارے (سینئر ڈیلیوری مینیجر، انسیڈنٹ مینیجر اور کمپلائنس پروفیشنل)
میرا تعلیمی اور عملی سفر

میری زندگی کا سفر اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم، عزم و حوصلہ اور خود اعتمادی کے ذریعے زندگی میں کامیابی کے نئے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔میرے تعلیمی سفر کا آغاز اردو میڈیم اسکول سے ہوا۔ اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے میرے دل میں ہمیشہ یہ یقین رہا کہ تعلیم، محنت، لگن اور خود اعتمادی کے بل بوتے پر انسان اپنی منزل ضرور حاصل کر سکتا ہے۔اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے سول انجینئرنگ کے شعبے کا انتخاب کیا اور کامیابی کے ساتھ بیچلر آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے تعمیراتی شعبے کی کئی نامور کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ان اداروں میں کام کرتے ہوئے مجھے اس شعبے کا تکنیکی علم، پیشہ ورانہ مہارت اور عملی تجربہ حاصل ہوا۔آج میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا ہے، اس کیلئے میں سب سے پہلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کاشکر گزار ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے والدین کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، جن کی قربانیاں، دعائیں، محبت اور بے لوث تعاون ہمیشہ میری سب سے بڑی طاقت رہے ہیں۔ میں اپنے اساتذہ کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور اعتماد نے میرے سفر کو صحیح سمت عطا کی۔آج الحمدللہ، میں اپنے شہر میں کنٹریکٹر اور بلڈر کی حیثیت سے کام کر رہا ہوں۔ اردو میڈیم اسکول سے شروع ہونے والا میرا تعلیمی سفر آج تعمیراتی شعبے میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے تک پہنچ چکا ہے۔
ثاقب آزاد خطیب(بلڈر کنٹریکٹر)