• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوکن کے گاؤں گاؤں میں اُردو کی تدریس کا منظر نامہ

Updated: November 03, 2026, 4:41 PM IST | Mubark Kapdi | Mumbai

اس خطے میں کئی شاندار اسکول ہیں، عمارتیں بھی اچھی ہیں اور طلبہ بھی ہیں مگر بعض علاقوں میں اسکولوں کی حالت خستہ ہے جن پر توجہ دینا وقت کا اولین تقاضا ہے۔

Madrasa Islah-ul-Banat Urdu High School, Khed, Ratnagiri District. Photo: INN
مدرسہ اصلاح البنات اردو ہائی اسکول،کھیڑ، ضلع رتناگیری۔ تصویر: آئی این این

بحیرۂ عرب اور سہیادری گھاٹ کے درمیان کی پٹّی کو ’کوکن‘کہا جاتا ہے۔ یہ پال گھر، ممبئی شہر، ممبئی مضافات، تھانے، رائے گڑھ، رتناگری اور سندھو درگ کے ۷؍ اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کی اکثریت بحری راستے سے آئی تھی، تجارت کی غرض سے آئی تھی اس لیے اُنہوں نے رواداری کو اپنا لیا اس لیے وہ شیواجی کی فوج میں شامل رہے اور اُنھوںنے پہلے موڑی زبان اور پھر مراٹھی زبان کو بھی اپنالیا مگر جب دلّی کے دیوانِ خاص سے اُردو وارِد ہوئی اس کا بھی بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا اور پھر بالآخر اُردو اور مراٹھی کی آمیزش سے کوکنی نام کی ایک بولی بھی ایجاد کرلی جواکثر کوکنی گھروں میںبڑے چائو سے بولی جاتی ہے۔ 

کو کن اور اُردو

کوکن میں اردو زبان کی تعلیم کا خیال سب سے پہلے محمد علی رو گھے نا خدا کو آیا جب اُنہوں نے ایک اُردو اسکول کے قیام کے لئے ممبئی کے بوری بندر کی اپنی قیمتی زمین انجمن اسلام کو وقف کردی، آج انجمن اسلام ۹۲؍ تعلیمی اِداروں کے ساتھ مہاراشٹر کے مسلمانوں کا ایک موقر اِدارہ بن گیا ہے ۔ اسی تحریک کے ذریعے سرسید احمد خان بہادر نے مروڈ جنجیرہ میں کو کن کا پہلا اُردو اسکول قائم کیا، آج اُس کے نصف درجن سے زائد تعلیمی  ادارے رائے گڑھ ضلع میں قائم ہیں۔ تعلیمی بیداری کی یہ لہر بھیونڈی پہنچی اور ۱۹۲۷ء میں کو کن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام اینگلواُردوہائی اسکول قائم ہوا جو کہ اب رئیس ہائی اسکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بیداری کا یہ پیغام رتناگری ضلع میں پہنچا اور ۱۹۴۰ء میں خان بہادر سر گروہ نے داپولی میں اینگلو اُردو اسکول کی بنیاد ڈالی جواَب نیشنل ہائی ا سکول کہلاتا ہے۔

آزادی کے بعد جب مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اُردو کی بھی حالت ناگفتہ بہ تھی، شمال کی اکثر ریاستوں کے مسلمان ہندی کو اپنانے ہی میں اپنی عافیت سمجھ رہے تھے ۔ اُس دَور میں کو کن کے مسلمانوں نے اُردو کا دامن تھاما اور اس طرح کو کن کے ہر قصبے اور گائوں میں اُردو اسکولیں کھلنے کا سلسلہ شروع ہوا۔آج کوکن میں۱۰۴؍اُردو ہائی اسکولیں اور۲۳۰؍اُردو پرائمری اسکولیںجاری ہیں ۔ اکابرین کوکن کا بلا شبہ یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کیوں کہ اُنھیں دو سطح پر کام کرنا تھا: مسلمانوں کو تعلیم کیلئے آمادہ کرنا اور اُردوتعلیم کیلئے آمادہ کرنا۔اُردو زبان و تعلیم کے فروغ میں جنون کی حد تک کام کرنے والے ان اکابرین میں خان بہادر مُنیر خان سرگروہ، سدّی احمد خاں، عبدالغنی فجندار، اسماعیل حکیم، مصطفیٰ فقیہ، معین الدین حارث، عبداللہ مستری، ڈاکٹر عبدالکریم نائیک، اسماعیل دفعدار، اے آرڈی خطیب، ابراہیم سندیلکر وغیرہ شامل ہیں۔ ان سبھی افراد اور اُن کے رفقا نے انتہائی نامساعد حالات میں اِن اِداروں کا قیام کیا۔ اُن میں سے کئی لوگوں کو مقامی لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کچھ کو جماعت کے عدم تعاون کا شکار ہونا پڑا البتّہ ان سبھی مجاہدین اُردو نے ہار نہیں مانی۔ 

یہ بھی پڑھئے: کہاں کھو گئیں کوکن کی اجتماعی سرگرمیاں؟

منظر نامہ بدل رہا ہے

گزشتہ ۳؍ دہائیوں میں البتہ ّ کو کن کا تعلیمی، سماجی، معاشی اور ثقافتی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑی ہی کوششوں اور کڑی جد وجہدسے قائم کئے ہوئے ان اُردو تعلیمی اداروں پر خزاں کی ہوائیاں منڈلارہی ہیں۔ تین دہائیوں سے انگریزی کی سونامی کئی دیگر زبانوں کے تعلیمی اداروں کے وجود پر ہی سوالیہ نشان بنا چکی ہے۔ کوکن میں اردو تعلیمی ادارے اس سے بچے ہوئے تھے البتہ  اب اکثراردواسکولیں انگریزی کی زدپر ہیں ۔ چند اُردو ہائی اسکولوں کے انتظامیہ پہلے ہی بیدار ہو چکے تھے۔ اُنھوںنے اپنے اِداروں کو بچانے کے لئے ترکیبیں اپنائی تھیں، وہ اس طوفان میں بھی اپنی کشتیوں کو بچاپائے ہیں۔کوکن کی وہ اُردو اسکولیں جو آج آباد ہیں اور وہ ہر کسی خطرے سے باہر ہیں، ان میں سے چند کے نام ہیں : ایم آئی بی اُردو ہائی اسکول(کھیڑ)، مستری ہائی اسکول(رتناگری)، نائیک ہائی سکول (رتناگری) ، زلیخا ہائی اسکول (پائوس)،مہاراشٹر ہائی اسکول (چپلون)، نوجیون ہائی اسکول(راجہ پور)، حمایت الاسلام ہائی اسکول (مہاڈ)، دردمندان اُردو ہائی اسکول (مہاڈ)، انجمن اسلام جنجیرہ ہائی اسکول (مہسلہ)، انجمن اسلام  جنجیرہ ہائی اسکول (مروڈ)، رضوان حارث اُردو ہائی اسکول(رابوڑی)، انجمن خیر الاسلام کے کوکن کے تینوں اِداروں اور بھیونڈی کے لگ بھگ سارے اسکول۔

آئے گی پھر بہار

بڑی ہی تندہی،جانفشانی اور قربانیوں سے قائم کئے ہوئے کوکن کے ان اُردو اِداروں کی قدرتو ہورہی ہے البتہ وہ دُور اندیشی عنقا ہے جو اِن اِداروں کے بانیوں میں موجود تھی۔ انگریزی میںمہارت، روانی وغیرہ ضروری ہے البتہ کوکن میں بھی انگریزی کا جنون پھیلتا گیا۔ اکثر بھولے بھالے والدین خوش ہونے لگے کہ اب اُن کا بچّہ انگریزی اسکول میں جاتا ہے، وہ لب پہ آتی ہے دُعا بھول چکا ہے اور اب ’جیک اینڈ جِل‘... گنگناتے ہوئے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ ٹائی بھی باندھتا ہے۔ اس جنون میں کوکن واسیوں کا پہلا ٹھکانہ ممبرا، کوسہ تھا جہاں ہر تیسری بلڈنگ کے نیچے پلے اسکول، نرسری، کنڈر گارٹن کھلے ہوئے ہیں۔یہاں کے اکثر اسکولوں میں اساتذہ کے انٹرویو میں سب سے پہلے وہ سوال پوچھتے ہیں جو سب سے آخر میں پوچھنا چاہئے لہٰذا سب سے پہلے پوچھا جاتا ہے:’’تم کتنی تنخواہ میں کام کرو گے؟ پانچ ہزارروپیہ مہینہ، کل سے کام پر آجائو‘‘۔ اُن اسکولوں میں جغرافیہ والا ریاضی پڑھارہا ہے اورہندی والا سائنس۔ محکمۂ تعلیم کی طرف سے کوئی پُرسش نہیں ہے یاصرف ایک ’لفافے‘ میں کام ہوجاتا ہے۔

کو کن میں بھی اگر کوئی اُردو اسکول بند ہورہی ہے ، وہاں فوراً دو تین انتہائی غیر معیاری انگریزی اسکولیں قائم ہورہی ہے۔ حکومت ایسے اسکولوں کو فوراً منظوری دے دیتی ہے کیوں کہ حکومت کے خزانے سے ان اسکولوں کو ایک پائی کی بھی مدد نہیں کرنی ہے۔ 

اب اہم سوال ہے کہ کیا اب بھی کوکن کے ان اُردو اسکولوں کو بچایا جا سکتا ہے؟  یہ ممکن ہے اگر (۱) ان اُردو اسکولوں کو سیمی انگلش بنائے جائیں یعنی یہاں ریاضی و سائنس انگریزی میں پڑھائے جائیں۔ (۲) انگریزی بول چال کے زائد کلاس شروع کئے جائیں۔(۳)سارے اُردو طلبہ کو لازمی طور پر اسکالر شپ کے امتحان میں (تیاری کے ساتھ) شریک کیا جائے۔ (۴) آٹھویں تا دسویں کے طلبہ( و الدین) کے لئے سال میں دو کریئررہنمائی کے سیشن رکھے جائیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:کوکن: قدرتی حسن، تہذیبی رنگا رنگی اور ہمہ جہت ترقی کا خطہ

جب افراد انجمن تھے

کو کن ہمیشہ ہی سے لگن و محنت سے کام کرنے والوں کا گہوارہ رہا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کا سربراہ یا ہیڈ ماسٹر بھی ہمیشہ کلیدی کردار اداکرتا ہے۔ کوکن میں چپلون شہر کو مرکزیت حاصل رہی ہے، اس لیے بھی کہ اُس کے ہیڈ ماسٹر اقبال مغل اختر ایک فعال شخصیت تھے، اْنہوں نے اپنے مہاراشٹر ہائی اسکول میں ایک بزم اردو قائم کی تھی جس کے زیر اہتمام ادبی مقابلوں کا پورا سال انتظار رہتاتھا۔مہاراشٹر اُردو ہائی اسکول کڑولی کے ہیڈماسٹر عبدالرحمن موٹلیکر نے نظم و ضبط و ڈسپلن کا معیار قائم کیا تھا وہ بے مثال تھا ۔ اکبر آرائی ریاضی کے استاد جنھوںنے انتہائی لائق طلبہ کوکن کو دئے۔ شمس القمر سائنس کے ماہر استاد جنہوں نے اسکول کونئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ارشاد کنکے ناگوٹھنہ اُردو ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر جنہوں نے اُردو کو بچانے کی ہر نئی تجویز  عمل میں لائی ،۲۵؍ سال قبل انگلش اکیڈمی قائم کی اور اُردو کے معیار کو بلند کرنے میں پیش پیش رہے ۔ بی ڈی پرکار جو اُستادالاساتذہ تھے اور کوکن کو کئی اچھے اُستاد دیئے۔ آئی وائے سولکر جو بہت اچھے منتظم تھے یوسف پرکار جو اُردو طلبہ کو انگریزی زبان احسن طریقے سے پڑھانے میں مہارت رکھتے تھے۔ نئے اساتذہ اُن سے بہت کچھ اب بھی سیکھ سکتے ہیںکیونکہ یہ وہ افراد ہیںجو دراصل انجمنیں تھیں۔ ایک اور انجمن جس نے کوکن میں اردو تعلیم کے فروغ میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا وہ تھے حاجی عبدالرزق کالسیکر صاحب۔جنھوں نے درجن بھر سے زائد اردو اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر میں نیز ان کے طلبہ کی قیام گاہوں کی تعمیر بڑی خطیر رقوم کا عطیہ دیا۔

ایک اینگری ینگ مین

عبدالرزّاق خطیب (جو آرڈی خطیب کے نام سے معروف ہیں)کھیڑ کے رہنے والے ہیں۔ پیشے سے معلّم تھے۔ کسی ادارے میں اُن کے ساتھ مسلسل ناانصافی برتی گئی۔ انھیں غصّہ آیا، اُنھوںنے اپنا اسکول کھولا، مدرسہ اصلاح البنات اُردو ہائی اسکول۔کسمپرسی کا عالم تھا کہ کرائے کی جگہ لی۔ اُن کے کئی طلبہ غیر ممالک میں مقیم تھے، وہاں جاجاکر اپنی جھولی پھیلائی اور پھر اب اُسے ایک تعلیمی کیمپس میں تبدیل کیا۔ آج اُس اُردو  میڈیم اسکول پر بہار چھائی ہے۔ ہر کلاس میں بھرپور، طلبہ ، پورے دل و جان سے اساتذہ کے بھرپور تعاون سے اُسے سیمی انگلش بنایا۔ آس پاس کے کم و بیش ایک درجن سے زائد گائوں سے بچّے آکر پڑھتے ہیں، اُن کے لیے اسکول بسوں کا انتظام کیا، جو رونق انگریزی اسکولوں میں ہے، آرڈی کے اُردو اسکول میں دیکھنے ملتی ہے ۔ ۸۵؍ سالہ خطیب صاحب سارے اخبارات پڑھتے ہیں، مفید معلومات کو اساتذہ میں شیئرکرتے ہیں۔ اس لیے وہ کوکن کے اینگری ینگ میں (یعنی امیتابھ بچن) بن گئے۔ہمارے دوسرے اساتذہ کو غصّہ کب آئے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK