لالو کی واپسی اور آر جے ڈی کانگریس رسہ کشی

Updated: October 27, 2021, 2:00 PM IST

راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو طویل غیر حاضری کے بعد سرزمین بہار پر لوٹ آئے ہیں۔ اب ان کی صحت پہلے جیسی نہیں رہ گئی ہے مگر ان کے تیور ویسے ہی ہیں۔

Lalu Prasad Yadav.Picture:INN
لالو پرساد یادو۔ تصویر: آئی این این

 راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو طویل غیر حاضری کے بعد سرزمین بہار پر لوٹ آئے ہیں۔ اب ان کی صحت پہلے جیسی نہیں رہ گئی ہے مگر ان کے تیور ویسے ہی ہیں۔ عوام میں ان کی مقبولیت بھی جوں کی توں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹنہ واپسی پر اُن کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا۔ کسی بھی لیڈر کا ’خیرمقدم‘ کسی تیاری کا نتیجہ بھی ہوتا ہے لیکن لالو کے معاملے میں ایسا سمجھنا غلط ہوگا۔ وہ عوامی لیڈر تھے اور ہیں۔ سیاست اور بہار سے غیر حاضری کے سبب وہ خبروں میں نہیں تھے مگر پٹنہ واپسی کے ساتھ ہی خبریں بھی اُن کی منتظر نظر آئیں۔ ویسے وہ خوب جانتے ہیں کہ خبروں میں کیسے رہا جاتا ہے۔ نہ جانتے ہوتے تو کانگریس کے بہار انچارج بھکت چرن داس کو ’’بھکچونہر‘‘ کہہ کر فوری طور پر سرخیوں میں نہ آجاتے۔ بھوجپوری زبان کے اس لفظ کا استعمال لالو پرساد نے اُس وقت کیا جب ان سے آر جے ڈی  اور کانگریس اتحاد کی بابت بہار یونٹ کے کانگریس انچارج بھکت چرن داس کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ لالو کا کہنا تھا کہ’’ وہ کیا جانتے ہیں؟ وہ بھکچونہر ہیں۔‘‘ یہ سنتے ہی بہت سے لوگ اس تلاش میں سرگرداں ہوگئے کہ یہ کیا لفظ ہے اور اس کا معنی کیا ہے۔ سوشل میڈیا کیلئے یہ لفظ اچھی خاصی بحث کا موضوع بن گیا جس کے نتیجے میں آر جے ڈی کے سینئر لیڈر شیوانند تیواری نے وضاحت تو کی کہ یہ کوئی گالی نہیں ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اس کامعنی کیا ہے۔ ہم نے تھوڑی بہت تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ غائب دماغ شخص کو بھکچونہر کہا جاتا ہے۔ خیر، اِس وقت تک شاید ان کا ارادہ کانگریس کو نظر انداز کرنا نہیں تھا مگر جب ان سے بہار اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی بابت پوچھا گیا کہ اس میں کانگریس کی شراکت ہوگی تو ان کا جواب بالکل دوٹوک تھا۔ ’’ہارنے کیلئے کانگریس کو سیٹیں دیں؟ ضمانت ضبط کرانے کیلئے؟‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ لالو گزشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں جس نے مہاگٹھ بندھن سے ۷۰؍ سیٹیں طلب کیں مگر ۲۰؍ سے بھی کم سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے برخلاف آر جے ڈی کا پرفارمنس قابل ذکر تھا۔ تیجسوی یادو کی قیادت میں پارٹی، بہار کی سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری۔ لالو کی ناراضگی کانگریس میں کنہیا کمار کی شمولیت کے سبب بھی ہوسکتی ہے، اس کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لالو کے یہ مخالف تیور صرف ضمنی انتخابات کیلئے ہیں جو کشیشور استھان اور تاراپور میں ہونے جارہے ہیں۔ دونوں ہی سیٹوں پر آر جے ڈی کسی سے اتحاد نہیں کرنا چاہتی۔ سنا جارہا ہے کہ کانگریس اپنے اُمیدوار اُتارے گی۔ اس سے آرجے ڈی اور کانگریس کی پرانی دوستی میں دراڑ پڑسکتی ہے مگر ہمارا خیال ہے کہ نہ تو آر جے ڈی کانگریس سے نہ ہی کانگریس آر جے ڈی سے ناطہ توڑنے کے متحمل ہوسکیں گے۔ اتحاد کو جاری رکھنے ہی میں دونوں کا فائدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کو چھوٹے فائدہ کیلئے بڑے فائدے کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔ لالو یادو نے کانگریس سے ہمیشہ بہت اچھا تعلق رکھا ہے۔ بہت سے معاملات میں انہوں نے کانگریس کی مدد بھی کی ہے۔ یہ ایک طویل تاریخ ہے۔ اسے ضمنی انتخابات کیلئے قربان نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی قسم کی دراڑ یا علاحدگی سے متعلقہ پارٹیوں کا تو نہیں، مخالف پارٹیوں کا ہی فائدہ ہوگا۔ یہ بات لالو کو بھی سمجھنی چاہئے اور سونیا گاندھی کو بھی، جو لالو کو بہت مانتی ہیں۔ آر جے ڈی چیف کو پرانے حلیف سے دور ہونے کے بجائے اپنے بیٹوں میں جو من مٹاؤ ہے اسے دور کرنے پر دھیان دینا چاہئے۔اس سے آرجے ڈی کو یقینی فائدہ ہوگا 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK