کانگریس کے قومی صدرملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم کی ۲۰۲۵ءکی کارکردگی و حصولیابیوں پر پلٹ وار کیا ،آپریشن سیندور پر امریکہ و چین کے دعوے، کرنل صوفیہ پر نازیبا تبصرہ ، چیف جسٹس کی توہین، ووٹ چوری ، ایس آ ئی آر ، منریگا اورروپے کی گرتی قدر پر نکتہ چینی کی۔
ملیکارجن کھرگے۔ تصویر: آئی این این
وزیر اعظم نریندری مودی کے ذریعہ ۲۰۲۵ء میں حکومت کی حصولیابیوں اور اس طرز حکمرانی کو بے مثال قرار دینے کے بعد بدھ کو سال کے آخری دن کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم پر پلٹ وار کرتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کی فہرست جاری کردی ۔ انہوںنے کہا کہ آپریشن سیندور پر ٹرمپ اور چین کے دعوؤں ، امریکی ٹیرف ، کرنل صوفیہ قریشی پر نازبیا تبصرہ ، چیف جسٹس پرجوتا پھینکنے، منریگا اسکیم کا نام تبدیل کرنا ،ووٹ چوری ، ایس آئی آر ،بے روزگاری ، روپے کی گرتی قیمت پر حکومت پر زور دار حملہ کرتے ہوئے کہاکہ کل ملاکر ۲۰۲۵ء میں بھی بی جے پی کی لوٹ ، بد عنوانی اور بد انتظامی ملک کے عوام پر حاوی رہی ۔ انہوںنے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال حکومت اچھی طرز حکمرانی کی مثال پیش کرے گی ۔
کانگریس کے قومی صدر ملکار جن کھرگے نے سال کے آخری دن وزیر اعظم کے ذریعہ کئے گئے بڑے بڑے دعوؤں کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کا ذکر کیا۔ انہوںنے حال میں منریگا ایکٹ کا نام تبدیل کرنے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ منریگا ختم کر کے کروڑوں غریبوں کے کام کا حق چھیناہے ۔ حکومت نے بغیر تیاری اور بغیر بی ایل او کی ٹریننگ کے ایس آئی آر سے کروڑوں لوگوں کا حق رائے دہی بھی چھینا ہے ،جس سے بی جے پی کی ووٹ چوری پکڑی گئی۔انھوںنے کہاکہ معاشی عدم مساوات کا فرق مزید گہرا ہوا،تاہم ایک فیصد لوگوں کے پاس ملک کی ۴۰؍ فیصد دولت آگئی۔ کھڑگے نے کہاکہ نوجوانوں کی بے روزگاری اب عروج پر ہے ۔پیپر لیک مافیا کا کھیل جاری ہے۔ روپیہ کی قیمت گرتی جارہی ہے ، جبکہ آر بی آئی نے ۳۲؍ ملین ڈالرکے امریکی ڈالر بیچے ،لیکن تب بھی بات نہیں بنی۔ انہوںنے امریکی ٹیرف پر بھی مودی حکومت کو گھیرا اور کہاکہ ’’مودی جی کے دوست نمستے ٹرمپ نے ہمارے ملک پر پوری دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف تھوپا ۔‘‘ پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور کرنل صوفیا قریشی پرنازیبا تبصرے کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ’’پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہماری طاقتور افواج نے منہ توڑ جواب دیا، لیکن بی جے پی کے وزراء نے ہماری بہادر کرنل پر شرمناک تبصرہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے کم از کم ۶۰؍ مرتبہ ہندو پاک کے درمیان ثالثی کا دعوی کیا، اب تو چین نے بھی ثالت بننے کی بات کہی اور مودی جی خاموش ہیں،نیز منی پور میں مودی اورشاہ کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے صدر راج نافذ کیا گیا ۔‘‘انہوںنے کہاکہ عوام کو مہنگائی سے کوئی راحت نہیں ملی ، جی ایس ٹی کم کرنا صرف اعداد وشمار تک ہی محدود رہا ۔دلتوں ، آدی واسیوں ، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے ، یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک کو نہیں بخشا گیا ۔انہوںنے فضائی آلودگی پر کہاکہ ملک کی راجدھانی دہلی سمیت پوراشمالی ہند زہریلی ہوا کی زد میں ہے ،ا س کا کوئی روڈ میپ نہیں صرف بیان بازی کی جارہی ہے۔ اروالی کو کان کنی مافیا کو سونپ دینے کی سازش کی جارہی ہے ۔ انھوںنے کہاکہ کمبھ ہو یا دہلی اسٹیشن کی بھگدڑ ، کھانسی سیرپ سے معصوموں کی جانیں گئیں اور ذمہ داری کسی کی نہیں ۔کل ملاکر سال ۲۰۲۵ میں بھی بی جے پی کی لوٹ ، بد عنوانی اور بد انتظامی ملک کے عوام پر حاوی رہی۔