ٹکٹوں کی تقسیم کے تعلق سے پارٹی میں جاری کھینچ تان پر اپوزیشن کی جانب سے طنز، اس صورتحال کو پھوٹ کی جانب بڑھتے قدم قرار دیا
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 11:13 PM IST | Mumbai
ٹکٹوں کی تقسیم کے تعلق سے پارٹی میں جاری کھینچ تان پر اپوزیشن کی جانب سے طنز، اس صورتحال کو پھوٹ کی جانب بڑھتے قدم قرار دیا
اس وقت ریاست کے مختلف حصوں میں کارپوریشن الیکشن کا ٹکٹ نہ ملنے پر بی جے پی کارکنان میں سخت ناراضگی دکھائی دے رہی ہے۔ بیشتر مقامات پر یہی شکایت ہے کہ پرانے اور محنتی کارکنان کو نظر انداز کرکے نئے آنے والے لوگوں کو ٹکٹ دیا جا رہا ہے۔ اورنگ آباد میں اس تعلق سے ایک روز قبل خوب ہنگامہ ہوا۔ وزیر اتل ساوے کی گاڑی روکی گئی اور اس پر مکے مارے گئے۔ ان کی تصویر پر کالک پوتی گئی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بہت جلد بی جے پی میں پھوٹ کی شکل اختیار کرنے والی ہے۔
شیوسینا (ادھو) کی خاتون ترجمان سشما اندھارے کا کہنا ہے کہ بی جے پی میں الیکشن کا ٹکٹ تقسیم کرنے کے نام پر مزاحیہ پروگرام جاری ہے۔ کوئی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گیا ہے تو کوئی خود سوزی کی کوشش کر رہا ہے تو کسی نے اے بی فارم ہی کھا لیا۔ اندھارے نے کہا ’’ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ بی جے پی اب پھوٹ کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ جب کانگریس خوب مضبوط ہو گئی تھی تو اس کے لیڈران میں خواہشمندوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ اور یہ سب لیڈران کانگریس چھوڑ کر باہر نکل رہے تھے اور اپنی اپنی پارٹی بنا رہے تھے۔ اب بی جے پی میں بھی اسی طرح کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔
دوسری طرف شیوسینا (ادھو) کےرکن پارلیمان سنجے رائوت کا کہنا ہے کہ پہلے ہم کہا کرتے تھے کہ ’’ مہاراشٹر کو آپ نے کہاں لے جا کر رکھ دیا ہے؟ اب مہاراشٹر کہیں بچا ہی نہیں ہے تو اسے لے جا کر کہیں رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ‘‘ سنجے رائوت نے کہا ’’ ان دنوں راہل نارویکر یہ بھول گئے ہیں کہ وہ اسمبلی اسپیکر ہیں۔ وہ گزشتہ دنوں اپنے گلے میں کنول کے پھول کے نشان والا مفلر ڈال کر ایک شادی میں گئے تھے وہاں انہیں میونسپل کارپوریشن الیکشن کا ایک امیدوار ملا تو اسے اپنا نام واپس لینے کیلئے دھمکانے لگے۔ ‘‘ رائوت نے کہا کہ انہیں( نارویکر کو) اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ وہ اپنے دم پر جیت نہیں سکتے ۔ اس لئے اب لوگوں کو دھمکایا جا رہا ہے۔ شیوسینا (ادھو) لیڈر کے مطابق ٹکٹ کی تقسیم کے نام پر ان پارٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خود پارٹی کارکنان کا بھروسہ اپنے لیڈران پر سے اٹھ چکا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدرہرش وردھن سپکال نے ایک روز قبل اس تعلق سے بی جے پی پر سخت تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی میں شدید انتشار اور خلفشار کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ پارٹی کیلئے برسوں محنت کرنے والے کارکنوں کو یکسر نظرانداز کر کے، عین انتخاب کے وقت دوسری سیاسی پارٹیوں سے آنے والوں کو ٹکٹ دیئے جا رہے ہیں ۔ سپکال نے کہا بی جے پی کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم کے تعلق سے جو بدنظمی سامنے آئی ہے، وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اور زیادہ واضح ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اب اپنے اصل نظریاتی کارکنوں اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کی پارٹی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی ڈھانچے میں بدل چکی ہے جس پر باہر سے آئے افراد اور وقتی مفادات رکھنے والے لوگ حاوی ہو چکے ہیں۔ یا د رہے کہ ایکناتھ شندے کی پارٹی شیوسینا نے کارپوریشن الیکشن میں بی جے پی سے دوری بنا رکھی ہے۔ اس کے بیشتر لیڈران بی جے پی پر دھوکہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔