زبان داخلی و خارجی دونوں زندگیوں میں توازن پیدا کرتی ہے

Updated: June 28, 2020, 4:33 PM IST | Shakilur Rehman | Mumbai

دورِ حاضر میں زبان کے تعلق سے بے اعتنائی بڑھ رہی ہے، جبکہ کوئی بھی انسان زبان کے بغیر ایک دن سکون سے نہیں رہ سکتا۔ اس کی قدر کرنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ زبان کیا ہے، کیسے وجود میں آتی ہے اور ہمیں کون کون سے فائدے پہنچاتی ہے۔ پہلی قسط

book-search-young-boy
الفاظ کے ہر ٹکڑے میں انسانی ذہن کے ہنگاموں کی کوئی نہ کوئی تصویر مل جاتی ہے۔

شکیل الرحمان
سماجی کشمکش سے زبان پیدا ہوتی ہے۔ انسان سماج میں اجتماعی طور پر جدوجہد کرتا ہے۔ اس جدوجہد میں ایک انسان کو دوسرے انسان سے بہت قریب ہونا پڑتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے تعلقات، ایک دوسرے کے خیالات اور ایک دوسرے کی دشواریوں او رالجھنوں کو سمجھنے کیلئے زبان پیدا ہوئی۔ شروع میں انسان محض ہاتھ پاؤں کے اشاروں سے یہ ساری باتیں بتانے کی کوشش کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ زندگی کی رفتار اور بہاؤ اور ارتقاء کا قانون اسے زیادہ دنوں تک قبول نہیں کرسکتا تھا۔ زبان کی پیدائش کی ضرورت اسی لئے ہوئی کہ انسان اپنی ساری باتوں کو اور کائنات کی حقیقتوں کے راز کو ہاتھ اور پاؤں کے اشارے سے اچھی طرح دوسروں کو نہیں بتا سکتا تھا۔ اپنی زندگی کی ہر لمحہ تبدیلیوں کو ایسے اشاروں میں بتانا بہت مشکل تھا۔ زبان کی پیدائش سے انسان کو بڑا سکون ہوا۔ اس طرح اس کی بہت ساری پریشانیاں دور ہوگئیں۔ انسانی زندگی کی پیچیدگی ہمیشہ بڑھتی رہی ہے۔ باتیں اُلجھتی رہی ہیں۔ ایسے موقعوں پر جو کوئی معمولی مسئلہ اُلجھا تو اُسے سلجھانے کیلئے بڑی کاوشیں کرنی پڑیں۔ تھوڑی اُلجھی باتوں کیلئے کافی وقت لگ جاتا تھا۔ اس طرح روز بہ روز ایسے مسائل بڑھتے رہے جن کا سلجھانا ناممکن ہوتا گیا۔ زبان کی پیدائش میں سماجی کشمکش کا ہاتھ اس لئے بہت زیادہ رہا ہے۔
 تھوڑے دیر کیلئے بھی یہ سوچنا غلط ہے کہ زبان کسی ایک انسان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ سماجی طور پر زندہ رہنے اور معاشرتی زندگی گزارنے میں انسان کی جو کوششیں رہی ہیں انہی کوششوں نے زبان کو پیدا کیا ہے۔ اجتماعی محنت نے زبان کا بیج ڈالا اور سماج کی ضرورتوں نے اُسے ایک خوبصورت پودا بنایا، پھر درخت کی شکل دی، خوبصورت پتے بخشے اور پھل اور پھول دیئے ہیں۔ آج اس درخت کا حسن دن بہ دن نکھرتا جارہا ہے۔ اس کی ڈالیوں میں حیات کروٹیں لے رہی ہے۔ یہ سب صرف اس لئے ہے کہ سماجی ضرورتیں بڑھتی جارہی ہیں اور اُنہی کے سہارے اس خوبصورت درخت کی جڑوں اور شاخوں میں زندگی کی لہریں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ 
 انسان اپنی زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ اپنے ماحول کے بارے میں سوچتا ہے۔ دوسرے انسانوں کیلئے سوچتا ہے۔ ماضی کو گھورتا ہے۔ حال پر غور کرتا ہے اور مستقبل کا خیال کرتا ہے۔ وہ اپنے ذہن میں خیالات کی ایک وسیع کائنات بسائے ہوئے رہتا ہے۔ یہاں عجیب ہنگامے رہتے ہیں۔ ایک خیال دوسرے سے ٹکراتا بھی ہے اور ایک دوسرے سے مل کر کسی تیسرے خیال کے خلاف متحدہ محاذ بھی بناتا ہے۔ انسان اپنے دماغ میں جو گفتگو کرتا ہے، اسے زبان کے ذریعہ دوسرے انسانوں، اپنی جماعت،اپنے سماج اور اپنی مادی دُنیا میں پہنچاتا ہے۔ او رجب اس کے خیالات اس کے ذہن سے نکل کر دوسروں کے قریب پہنچتے ہیں تو وہ سجے سجائے ہوتے ہیں۔ وہ ان سارے ہنگاموں کے ساتھ باہر نہیں آتے جو ہنگامے ذہن میں موجود رہتے ہیں۔ جب وہ خیالات زبان کے سہارے دوسرے انسان کے قریب آتے ہیں تو ان کی وہ بے ترتیبی ختم ہوجاتی ہے جو ذہن میں ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی ایک ترتیب ہوجاتی ہے جو ذہن کے ہنگاموں میں ممکن نہیں ہے۔ 
 انسانی ذہن میں وہ خیالات جو مبہم ہوتے ہیں جنہیں اپنے ذہن میں رکھنے والا انسان خود اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا ہے جب سماج اور جماعت یا دوسرے انسانوں کے قریب ہوتے ہیں تو واضح اور صاف ہوجاتے ہیں۔ بعض جگہوں پروہ مبہم ہوتے ہوئے بھی مبہم نہیں ہوتے۔ نکھر جاتے ہیں۔ اور واضح ہوجاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہےکہ انسان جو کچھ سوچتا ہے اس کا تعلق زبان سے بہت گہرا ہے۔ انسانی ذہن کے اُبلتے ہوئے خیالات کو زبان سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اور اسی طرح زبان کو انسانی ذہن میں اُٹھتے ہوئے خیالوں سے علاحدہ کرکے کچھ بھی نہیں سوچا جاسکتا۔ انسانی خیالات کے اُتار اور چڑھاؤ کے ساتھ زبان ترقی کرتی ہے۔ زبان انسان کی اپنی محنت کی تخلیق ہے۔ اجتماعی اور سماجی زندگی میں انسان نے اسے حسن بخشا ہے۔ انسان نے بڑی محنت کی ہے۔ مختلف کٹھن راستے دیکھے ہیں پھر کہیں زبان پیدا ہوسکی ہے۔ الفاظ کے ہر ٹکڑے میں انسانی ذہن کے ہنگاموں کی کوئی نہ کوئی تصویر مل جاتی ہے۔ اس لئے زبان داخلی اور خارجی دونوں زندگیوں میں توازن پیدا کرتی ہے۔ دونوں زندگیوں کے تعلقات کو بہتر بناتی ہے۔ اور داخلی زندگی کی اُن بہت ساری کمزوریوں کو توڑ دیتی ہے جو انسان کو کمزور،فراری، اور احساس کمتری کا شکار اور حد سے بڑھی ہوئی انفرادیت کا ہمنوا بنانے کیلئے اس کے ذہن اور جسم کے دوسرے حصوں میں دوڑتی پھرتی ہے۔ 
 جب تلخیوں کا شدید احساس ہونے کے باوجود انسان پریشان نہیں ہوتا ہے اور زندگی کے تاریک گوشوں سے فرار نہیں کرتا ہے تو دل و ودماغ میں ایک خاص قسم کی سختی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سختی کی پیدائش اور اسے قوت دینے میں زبان کا زبردست ہاتھ رہتا ہے۔ اس لئے کہ اسی زبان کے ذریعہ وہ انسان دوسرے انسانوں کے قریب ہوکر ان کے کرداروں اور جینے کے طریقوں سے اثر لیتا ہے ۔ دوسرے انسان جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں وہ بھی اُنہیں دُہراتا ہے ۔ اس طرح ایک انسان کے کردار اور زندگی بسر کرنے کے طریقوں کا اثر دوسرے انسان پر پڑتا ہے۔ ممکن ہے کسی خاص ماحول کی وجہ سے ایک بُرے کردار کا اثر دوسرے کردار پر بُرا پڑے، زبان اس وقت بھی دل و دماغ کی نرمی، جھنجھلاہٹ اور کلبلاہٹ کو زندگی دیتی ہے۔ انسان کا ماحول زبان کو بہت متاثر کرتا ہے۔ ماحول زبان سے اچھا اور بُرا دونوں مصرف لے سکتا ہے ۔ زبان ایک خوبصورت زمین کی حسین مٹی ہے ۔ جیسا سانچہ ہوگا تخلیق بھی اسی طرح کی ہوگی۔ (مضمون کا دوسرا حصہ آئندہ ہفتے)۔n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK