• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

لطیف جعفری مالیگاؤں کی صنعت وحرفت اور سیاست کےنباض اورسماج کےنمائندہ صحافی تھے

Updated: November 08, 2022, 11:57 AM IST | Khayal Ansari | Mumbai

؍۳؍نومبر۲۰۲۲ء کو انتقال کرجانے والے کہنہ مشق صحافی عبداللطیف جعفری کی شخصیت پر ایک مضمون

Late Abdul Latif Jafari .Picture:INN
مرحوم عبداللطیف جعفری ۔ تصویر:آئی این این

شہر مالیگاؤں کی شناخت گرچہ علوم وپاورلوم سے ہے تو مقامی سیاست اوراس کے گرد گھومنے والی صحافت کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ مقامی صحافی اور اخبار نویسی کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں کی سیاسی شخصیات اور سیاسی پارٹیوں کو ایک شناخت اور اعتبار واعتماد دینے کا فریضہ بھی مقامی اخبارات ہی کرتے ہیں۔ ہرپارٹی اور سیاسی رہنما کا  اپنا ایک اخبار ہے اس کے علاوہ بھی غیر جانبدارانہ طورپر چند ہی اخباراپنی پہچان بنا پاتے ہیں۔شہر مالیگاؤں کی اُردو صحافت کا آغاز بلاشبہ علما ء اور دانشورانِ علم وادب کے ہاتھوں ہوا۔ شعروادب اور ادبی انجمنوں کی سرگرمیوں کی نشرواشاعت کے بعد جب سیاسی طورپر سماج کی قیادت اور رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوئی تواخبار کی اشاعت کے لئے مقامی سطح پر ’’ بیداری ‘‘ اخبار کا اجراء اور پریس کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد سیاسی طورپر کئی اخبارات وجود میں آئے۔ ادیب مالیگانوی  نے ’’شوکت پریس ‘‘ کے ذریعہ نہ صرف شعر وادب کی ضروریات کی تکمیل کی بلکہ سیاسی پارٹیوں کے آرگن  جریدوں کی بھی راہ آسان کردی۔  علماء اور دانشورانِ علم وادب کے بعد شعراء اور ادباءنے صحافت کے لئے درکار ضروریات کی تکمیل کی ۔ کتابت سے لے کر طباعت تک کے مراحل میں تعاون دیا۔یہی وجہ ہے کہ صحافت کے دوسرے دور کا جائزہ لیاجائے تو حفیظ مالیگانوی  ، ندرت انقلابی ، عبدالمجید سرورؔ ، سرفراز افسر، احمد نسیم مینا نگری، سعید عقاب ، ہارون  بی اے، زین العابدین دانش، حمید اختر، اسماعیل اکبر اوران کے ہمعصرلطیف جعفری کا نام لیاجاسکتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی ایک شخصیات تھیں جن کے قلم شعروادب کے ساتھ ساتھ اخبارات کے لئے بھی رواں دواں  رہتے تھے۔ جہاں تک لطیف جعفری کا تعلق ہے ۔ آپ شاعر حیات  ادیب الملک  ادیب مالیگانوی کے شاگرد تھے۔ شوکت پریس میں کتابت بھی کی اور لطیف ادیبی کے نام سے شاعری بھی ۔ واضح ہو کہ بذاتِ خود ادیب صاحب بھی عمدہ کتابت کرتے تھے۔   لطیف جعفری مرحوم مالیگاؤں میونسپلٹی کے بھی ملازم تھے۔ اس کے علاوہ  ممبئی کے روزنامہ اردو ٹائمز کے نامہ نگار اور مقامی اخبارات میں بھی سماجی وسیاسی خبریں اورکالمس لکھتے تھے۔ لطیف جعفری کے علاوہ بھی کئی ادیب اورشاعر ایسے تھے جو کسی بھی سیاسی پارٹی کے کھل کر ہمنوا نہیں تھے مگر مختلف تحریکات سے وابستہ ضرور تھے ۔وہ بیک وقت کئی کئی اخبارات میں لکھتے تھے جبکہ جعفری صاحب کمیونسٹ پارٹی اورانجمن نوجوانان مصنفین سے وابستہ ہونے کے باوجود صحافت میںاپنی منفرد شناخت رکھتے تھے۔ اردو ٹائمز کی نمائندگی  کے بعد ۱۹۸۷ء میں جب عزیز خسرو نے مالیگاؤں سے روزنامہ  شامنامہ کا اجراء کیا تو جعفری صاحب اس سے وابستہ ایسے ہوئے کہ آخری سانس تک یہ رشتہ برقرار رکھا اور شامنامہ کو اپنی شناخت بخشی جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ شامنامہ ڈیلی خود جعفری صاحب کی شناخت بن گیا۔ جعفری صاحب شہر کے ایک معززخانوادہ کے پروردہ تھے۔ علم وادب کا شعور تھا۔ ادیب مالیگانوی کی سرپرستی حاصل تھی۔ میونسپلٹی  اور شہر کی سیاست میں شوکت عزیز، محمد ہارون حسین سیٹھ ، ہارون بی اے کے علاوہ ہارون انصاری ، ڈاکٹر خلیل احمد ، نہال احمد اور حاجی شبیر احمد سے لے کر قاضی عباس علی تک سیاست کے ماہرین سے  ایک خاص ربط ضبط تھا۔ غیر ادبی حلقوں میں اپنی گرفت رکھتے تھے لہٰذا وہ شہر کی سیاست اور سماج  کے مسائل اور صنعت وحرفت کے نباض  اور صحافت کے نمائندہ بن گئے۔ تقریباً  ۵۰؍ سالہ ادبی ،سماجی اور سیاسی وصحافتی  خدمات کا ریکارڈ کوئی معمولی ریکارڈ نہیں تھا۔ آپ بلاشبہ اپنے سیاسی مسلک کے لحاظ سے  ایک طرف:
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
کے فلسفے کو ماننے والے تھے تو دوسری طرف دبے کچلے غریبوں کی آواز  بھی تھےکہ:
 ہم  سے بے سود نہ اے گردشِ ایام اُلجھ 
ہم نے ہرحال میں جینے کی قسم کھائی ہے
 انہوںنے ساری زندگی محنت مشقت کی اور اپنے خاندان کی پرورش کی۔ لطیف ادیبی سے  جب لطیف جعفری ہوگئے تو بھی مظلومانِ کربلا ماننے والوں میں شامل ہوئے اور ’’رحمت آباد‘‘ میں مدفون ہوئے ۔ بقول نشاط شہادوی 
یاد میری سنبھال کر رکھنا=میرا کیا  میں رہا رہا نہ رہا
  مندرجہ بالا تینوںاشعار کی لطیف جعفری صاحب مکمل تفسیر تھے اوراپنے سیاسی مسلک کے پابند ،محنت کشوں کے ہمدرد، نہایت خاکسار اور غریب پرورتھے۔ علی سردار جعفری کیفی اعظمی ، ظ انصاری جیسے اعلیٰ پائے کے  شاعر وادیب اور صحافیوں سے ان کے مراسم تھے  اس کے  باوجود ان میں انکساری اور غریب پروری کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔ پارٹی کی تحریکات سے وابستگی  اور  اپنی سیاسی تنظیم کے ذریعے دبے کچلے  لوگوں کی آواز میںآواز ملاکر ہمہ وقت سرگرم عمل رہناان کا شعار تھا۔ شہر کے تمام ہی سیاسی رہنماؤں سے بہتر تعلقات اور صحافتی دیانتداری میں بھی ان  کی شخصیت منفرد وبے داغ تھی۔ ان کی صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف ہرکسی کو تھا۔ شہر کے صنعت وحرفت کے سارے رموز سے واقفیت نے انہیں ممتازبنایا اور یہ وصف ان کے علاوہ کسی دوسرے صحافی میں نہیں تھا۔
 صحافت کے اولین اصولوں میں دیانتداری ہے۔ واقعے اور معاملات کی خبر نویسی میں من وعن بیان، اپنے  خیالات، جذبات اور نظریات کو پرے رکھ کر، کسی بھی بڑی سے بڑی شخصیت سے مرعوب ہوئے بغیر یا متاثر ہوکر خبریا کالم لکھنا ہوتا ہے۔ ان اصولوں کو لطیف جعفری ہمیشہ مقدم رکھتے تھے اور خود کو پابند بناتے ہوئے خبریں یا شخصی فیچر تحریر کرتے تھے۔ گرچہ وہ ایک خاص  نظریہ کے حامل ، سیاسی شعور اور عملاً متحرک بھی رہتے تھے لیکن جہاں تک خبر نویسی کا تعلق ہے وہ غیرمتنازع اور شفافیت سے پُر ہوتی تھی۔ شامنامہ کو ایک مکمل اخبار بنانے میں انہوں نے ایسی ساری صلاحیتیں استعمال کیں ۔ شہر کی صنعت وحرفت اور اس کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہوئے ، سوت اور تیارمال کے اتارچڑھاؤ کی رگ پر ایک نباض کی طرح بنکروں کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔ اخبار کے مطالعہ کا عادی  اور بنکروں کی ضرورت اورپسند بنادینا یہ جعفری صاحب کا کمال تھا۔ صورتِ حال یہ تھی کہ ہر شام ، شامنامہ کا شدت سے لوگوں کو انتظار ہوتا تھا۔ اس کے قارئین میں عام لوگوں سے لے کر صنعت کاروں اور بنکروں کے خواص بھی شامل تھے۔ ان تمام باتوں کے علاوہ شامنامہ میں شہر کی دینی، سماجی ، سیاسی شخصیت اور ان کی خدمات کا حقیقی  تعارف دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا جو کہ نسل نو کے لئے اپنے اسلاف کی خدمات سے واقفیت کا ذریعہ بنا۔
 اشتہارات اخبار کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے شامنامہ میں اشتہارات کو شائع کرنے میں بھی معیار اور عوام کے مفاد کا خیال رکھا جاتا تھا۔ ایک دور تھا جب اخبارات فلمی اشتہارات کو ضروری سمجھتے تھے لیکن شامنامہ میںکبھی بھی فلمی اشتہار کو جگہ نہیں ملی اوریہ سب لطیف جعفری کی موجودگی سے ممکن ہوسکا تھا۔
 میونسپلٹی سے لے کر کارپوریشن تک ، میونسپلٹی کی ملازمت سے لے کر سیاسی پارٹی سے منسلک ہونے تک اور شہر کی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور ورکروں سے ملاقات تک، جب وہ خبریں بناتے تھے تو ایک توازن ہوتا تھا۔ ان کی بنائی خبروں میں دیانتداری اور حقائق کی عکاسی ہوتی تھی۔ کہیں بھی جانبداری کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر سیاسی پارٹی کے لوگوں کی پہلی ضرورت اور پسند ہوتے تھے۔ آپ نے مستقل شامنامہ کی ادارتی ذمہ داریوں  سے  پہلے شہر کے کئی اخبارات کو اپنی خدمات دیں ۔ ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔
(مضمون نگار سینئر ادیب، صحافی اور ’’خیراندیش‘‘ کے مدیر ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK