اسلام کے تقسیم ِدولت کے نظام میں ترکہ و میراث کے قانون کو بڑی اہمیت حاصل ہے

Updated: March 26, 2021, 10:41 AM IST | Maolana Khalid Saifullah Rehmani

عورتوں کو حق میراث سے محروم کرنا، بیٹیوں کو ترکہ میں سے حصہ نہ دینا اور ھبہ کرتے ہوئے لڑکیوں کو نظر انداز کرنا سخت گناہ اور شدید ظلم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی بھی ہے

Family - Pic : INN
فیملی ۔ تصویر : آئی این این

اسلام کا معاشی او رمالی نظام اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک ہی شخص کے پاس دولت کا ارتکاز نہ ہو، دولت زیادہ سے زیادہ تقسیم ہوتی رہے تاکہ غریبوں اور دولت مندوں کے درمیان معاشی فاصلہ کم ہو اور حد سے زیادہ دولت کی وجہ سے انسان کے اندر جو اخلاقی مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور ایک ہی شخص کے پاس دولت کے ارتکاز کی وجہ سے سماج کے ایک طبقہ میں احساسِ محرومی کی وجہ سے تشدد اور دہشت گردی کا جو رجحان نشو ونماپاتا ہے، اس کا سد باب ہو سکے۔ تقسیم  ِدولت کا جو نظام اسلام نے بنایا ہے، اس میں ترکہ و میراث کے قانون کو بڑی اہمیت حاصل ہے ؛ کیوںکہ اس میں خود اس شخص کے ارادہ و اختیار کو کوئی دخل نہیں ہے، اگر مرنے والا شخص اپنی دولت کو کسی ایک وارث کے حق میں مرتکز کرنا  چاہے تو بھی نہیں کر سکتا ۔ 
اسلام سے پہلے دنیا کے مختلف مذاہب اور نظام ہائے قانون میں قانونِ میراث بہت ہی غیر متوازن تھا، بعض مذاہب میں صرف لڑکوں کو حصہ ملتا تھا، لڑکیاں میراث سے محروم کر دی جاتی تھیں، بعض مذاہب جیسے یہودیوں کے یہاں صرف پہلوٹھا بیٹا (بچوں میں پہلا) پورے ترکہ کا حق دار سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس ناانصافی اور بے اعتدالی کو ختم کر کے ایک نہایت متوازن اور عادلانہ نظام میراث عطا کیا، جس  میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی ترکہ کا حق دار بنایا گیا؛ البتہ چوںکہ دونوں کی مالی ذمہ داریوں میں تفاوت ہے، اس لئے دونوں کے حق میراث میں فرق رکھا گیا۔ اسی طرح ایک ہی درجہ کے قرابت داروں کے حقوق مساوی طے کئے  گئے؛ چنانچہ لڑکا بڑا ہو یا چھوٹا، دونو ںکا موروثی حق برابر ہوگا ۔ 
قانون میراث کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ فقہ ِ اسلامی کے بنیادی مآخذ چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ ان میں پہلے تینوں مآخذ اصل ہیں، اور جن مسائل میں ان کی رہنمائی موجود نہ ہو، وہاں قیاس و اجتہاد سے مدد لی جاتی ہے ۔ میراث کا قانون وہ اہم قانون ہے کہ یہ براہِ راست قرآن و حدیث کی صراحتوں اور اُمت کے اجماع واتفاق سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء ( آیت : ۱۱ ، ۱۲ ،۱۷۶) میں تفصیل سے میراث کے احکام کا ذکر فرمایا ہے، نیز احکامِ میراث کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر متنبہ کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ باخبر بھی ہیں اور حکمتوں سے واقف بھی  ہیں: ( النساء : ۱۱) یعنی میراث کے احکام سراسر علم و حکمت پر مبنی ہیں؛ اس لئے چاہے تمہاری عقل مانے یا نہ مانے ، اس پر عمل کرو اور یقین رکھو کہ یہی حکمت و مصلحت کے عین مطابق ہے !
آیت میراث جس واقعہ کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے، وہ بھی نہایت اہم ہے ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے ، ’’اسواف‘‘ نامی مقام پر ہمارا گزر ایک انصاری خاتون کے پاس سے ہوا، وہ اپنی دو لڑکیوں کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ان کے والد غزوۂ اُحد میں شہید ہوچکے ہیں اور ان کے چچا نے شہید کا کل ترکہ لے لیا ہے، ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑا، اور صورتِ حال یہ ہے کہ جب ان کے پاس کچھ مال ہی نہ ہوگا تو کوئی شخص ان سے نکاح کو بھی تیار نہ ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:  اللہ تعالیٰ اس سلسلہ میں فیصلہ فرما دیں گے؛ چنانچہ سورۂ نساء کی آیت نمبر  ۱۱؍ نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن خاتون کو اور اُن یتیم لڑکیوں کے چچا کو طلب فرمایا اور ان سے کہا: شہید کے ترکہ کا دوتہائی ان دونوں لڑکیوں کو اور آٹھواں حصہ شہید کی بیوہ یعنی ان دونوں بچیوں کی ماں کو دے دو۔ اس کے بعد جو بچ جائے، وہ تمہارا ہے ۔
 ( ابو داؤد : حدیث نمبر: ۱۹۸۲)
آیت میراث میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے میراث کے حق داروں کا ذکر فرمایا ہے، اور مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ اگر مرنے والے کے بیٹے اوربیٹیاں دونوں ہوں تو بیٹیوں کا حصہ بیٹے کے مقابلہ نصف ہوگا، اگر صرف ایک بیٹی ہی وارث ہو تو وہ پورے ترکہ کے نصف کی حقدار ہوگی، اگر صرف دو بیٹیاں ہوں ، بیٹے نہ ہوں، تو فی لڑکی ترکہ کا ایک تہائی پائے گی، اسی طرح باپ کے ساتھ ساتھ ماں کو بھی میراث کا مستحق قرار دیا گیا کہ اگر مرنے والا صاحبِ   ِاولاد رہا ہو تو ماں اور باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور اگر اس کی اولاد اور بھائی بہن نہ ہوں تو ترکہ کا دو تہائی باپ کا حق ہوگا اور ایک تہائی ماںکا، اور اگر مرنے والے کے کئی بھائی ہوں تو پھر ماں کو چھٹا حصہ ملے گا اور باقی باپ کو، اگر شوہر لاولد ہو تو بیوی شوہر کے ترکہ میں چوتھائی کی حق دار ہوگی، اور شوہر صاحبِ اولاد ہے تو آٹھواں حصہ بیوی کا حق ہوگا، اگر کسی شخص کی وفات ہوئی، نہ اس کے والدین ہیں اور نہ اولاد، صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہے تو اسے ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا، اور ایک سے زیادہ ہیں جیسے ایک بھائی ایک بہن یا دو بھائی دو بہنیں ، تو ایک تہائی ترکہ بھائی بہن میں برابر تقسیم ہوگا ، سورۂ نساء کی آیت نمبر:۱۱،۱۲؍ میں ان احکام کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کواللہ تعالیٰ کا حکم: ’’ وصیۃ من ﷲ ‘‘ ( آیت نمبر : ۱۲) قرار دیا گیا ہے، پھر ان احکام کی تاکید اور تقویت کے لئے ارشادہے  : 
یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں، تو جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائیں گے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ہمیشہ یہیں رہیں گے، اور یہی ہے بڑی کامیابی! اورجو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی قائم کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے، اللہ اس کو دو زخ میں داخل کریں گے،  وہ ہمیشہ اسی میں رہے گا، او راس کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔ ( النساء : ۱۳-۱۴)
عورتوں میں بیوی، بیٹی، ماں او ربہن کے علاوہ پوتی، دادی اور نانی بھی بعض اوقات میراث کی حق دار قرار پاتی ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، غرض اسلام میں عورتیں بھی میراث کی حق دار ہیں۔
بد قسمتی سے ہندوستان میں مسلمانوں نے برادرانِ وطن سے جن غیر اسلامی طریقوں کو سیکھا اور ان کو گلے لگایا، ان میں سے ایک عورتوں کو میراث کے حق سے محروم رکھنا بھی ہے، شوہر کے انتقال کے بعد نہ بیوی کو میراث دی جاتی ہے اور نہ اس بات کی فکر کی جاتی ہے کہ اگر بیوی کا حق مہر شوہر کے ذمہ واجب الاداء ہو تو پہلے مہر ادا کیا جائے، پھر ترکہ کی تقسیم عمل میں آئے؛  حالاںکہ مہر بھی دوسرے دَین اور قرضوں کی طرح ایک قرض ہے، اور قرضوں کے ادائیگی کے بعد ہی بچی ہوئی جائداد سے وارثوں کا حق متعلق ہوتا ہے۔ قرآن نے احکامِ میراث میں بار بار اس کا ذکر کیا ہے: من بعد وصیۃ (نساء: ۱۱،۱۲) پھر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیوہ کو اس کے حق میراث سے بھی محروم کر دیا جائے، ایسی ہی زیادتی لڑکیوں کے حق میں بھی روا رکھی جاتی ہے کہ پوری متروکہ املاک و جائداد پر لڑکے قبضہ کر لیتے ہیں اور لڑکیوں کو ان کا حق ہی نہیں دیتے، بعض لڑکیاں تو نابالغ بھی ہوتی ہیں، ایسی صورت میں ان کو ترکہ سے محروم کردینا دوہرے گناہ کا باعث ہے ، ایک: ناجائز طریقہ پر دوسرے کے مال پر قبضہ ، یعنی غصب، دوسرے: یتیم کا مال کھانا، اور یتیم کے ساتھ ظلم جیسا شدید گناہ ہے، وہ ظاہر ہے ۔
افسوس کہ اگر لڑکیوں کو میراث میں حصہ بھی دیا جاتا ہے تو اس انداز پر کہ سونا ، چاندی اور نقد میں سے ان کو کچھ دے دیا۔ کاروبار مکان اور قابل کاشت زمین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لڑکوں کا حصہ ہے، لڑکیوں کو اس میں سے حصہ نہیں دیا جاتا؛ حالاں کہ حق میراث مرنے والے کی چھوڑی ہوئی ہر چیز سے متعلق ہے، چاہے منقولہ اموال ہوں یا غیر منقولہ، اور چاہے وہ کاروبار اور آمدنی کا ذریعہ ہو یا نہ ہو۔ قرآن مجید میں ما ترک (نساء:۱۷۶) کا لفظ استعمال کیا ہے، یعنی مرنے والا جو کچھ بھی چھوڑ کر جائے، وہ کم ہو یا زیادہ، اس سے تمام وارثوں کا حق متعلق ہوگا۔ 
لڑکیوں کو میراث سے محروم کرنے کا رواج اس قدر جڑ پکڑ گیا ہے کہ بعض خواتین اپنا حصہ ٔمیراث طلب کرنے میں حیاء اور حجاب محسوس کرتی ہیں، اور اگر کوئی لڑکی اپنا حق مانگے تو دوسرے اقرباء اور رشتہ دار بھی اسے عار دلاتے ہیں اور اس کو دنائت اور خساست تصور کرتے ہیں۔ یہ محض دین سے ناواقفیت او رنا سمجھی کی بات ہے۔
حصۂ میراث ایک انسان دوسرے انسان کو نہیں دیتا؛ بلکہ یہ عطیہ خداوندی اور قرآن کی زبان میں  ’’فریضۃ من ﷲ ‘‘ ہے، اور اہل علم نے لکھا ہے کہ انسان کے لئے مال حاصل ہونے کے جتنے ذرائع ہیں، ان میں سب سے زیادہ حلال اور پاکیزہ ذریعہ یہی میراث ہے؛ اس لئے نہ میراث کے طلب کرنے میں تکلف کرنا چاہئے اور نہ اس عمل کو باعث ِشرم خیال کرنا چاہئے۔ 
یہ عجیب بات ہے کہ شریعت نے جس بات کو منع کیا ہے ، اس کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ نکاح کو آسان رکھا گیا ہے اور نکاح میں لڑکی اور اس کے اولیاء پر کوئی مالی ذمہ داری نہیں رکھی گئی ہے؛ لیکن ’’گھوڑے جوڑے‘‘ اور ’’ جہیز ‘‘ کے مطالبہ نے سماج کی کمر توڑ رکھی ہے اور لڑکی ماں باپ کے لئے ایک بوجھ بن گئی ہے۔ اس کے برخلاف، جس چیز کا شریعت نے حکم دیا ہے یعنی حق میراث، اس سے ان کو محروم کیا جاتا ہے۔ جہیز کی وجہ سے لڑکی کو ترکہ سے محروم کر دینا اور یہ کہنا کہ لڑکی کی شادی پر کافی رقم خرچ کی گئی ہے، ’’ عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کا مصداق ہے۔ کوئی حق انسان کا اسی وقت ختم ہوتا ہے، جب دوسرے فریق سے معاہدہ ہو جائے کہ اس کے بدلہ میں وہ اپنے فلاں حق سے دستبردار ہورہا ہے، اب اول تو جب تک والدین زندہ ہیں، ان کے ترکہ میں بیٹی کا حق ہی ثابت نہیں ہوتا اور جو حق ابھی ثابت ہی نہیں ہوا ہو، اس سے دستبردار ہونے کا اعتبار نہیں، فقہاء نے لکھا ہے کہ میراث ایک ایسا حق ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی وارث کا حق ختم کر دے، یا مروجہ اصطلاح میں کسی کو عاق کر دے، تب بھی اس کا اعتبار نہیں: الارث جبري لا یسقط بالاسقاط  (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ: ۲ء ۶۲)دوسرے: جیسے لڑکیوں کی شادی پر زائد رقم خرچ ہوتی ہے، عموماً لڑکوں کی تعلیم پر بھی بڑی رقم خرچ ہوتی ہے، تو صرف لڑکیوں کی شادی کے خرچ کی وجہ سے ان کو ترکہ سے محروم کر دینا کیوں کر درست ہو سکتا ہے، بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ شادی کی فضول خرچی شرعاً  ایک ناپسندیدہ اور مذموم عمل ہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ اگر لڑکیوں کو اہتمام کے ساتھ ان کا حق میراث دیا جائے اور جہیز کے بجائے اس حق شرعی کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے تو رشتہ ملنا بھی آسان ہوگا، اگر شہر میں لڑکے والوں کو معلوم ہو کہ اس لڑکی کو ترکہ میں مکان کا ایک کمرہ ہی مل جائے گا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK