Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ملک کے طلبہ اور نوجوانوں کے حصہ میں محنت اور تناؤ کے علاوہ کچھ نہیں؟

Updated: June 07, 2026, 7:19 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

وہ ملک جسے اپنی نوجوان آبادی پر فخر ہے اورنوجوان جس کا اثاثہ ہیں، اس کا تعلیمی نظام ہی اگربدعنوانیوں میں جکڑا ہوتو کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ انہیں بوڑھا ہونے کا انجکشن دے دیاجائے!کیونکہ ایک کا نقص دوسرے کیلئے ناقابل برداشت ہے۔

It is a known fact that students, whose job is to acquire knowledge, are forced to hold protests and demonstrations across the country after taking exams. Photo: INN
عالم یہ ہے کہ طلبہ جن کا کام حصول علم ہے، امتحان دینے کے بعد ملک بھر میں  احتجاج اور مظاہروں  پر بھی مجبور ہیں۔ تصویر: آئی این این

مسابقتی امتحانات کی آج جو صورتحال ہوچکی ہے، اس سے پہلے ایسی کبھی نہ تھی۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں مگر آج وجہ سے زیادہ صورتحال اہمیت رکھتی ہے۔ ملک میں مسابقتی امتحانا ت کاایک وقار رہا ہے، ایک کشش رہی ہے۔ یوپی ایس سی جیسا مرکزی سطح پر کوئی مسابقتی امتحان ہویا ایم پی ایس سی جیسا ریاستی سطح کا، پولیس بھرتی امتحان ہو یا ا ساتذہ بھرتی کا، فوج اوربینکو ں میں ملازمت کیلئے لیاجانے والا اوراسٹاف سلیکشن کا امتحان ہو یا ریلوے کا، ان کیلئے نوجوانوں میں ایک الگ ہی جوش ہوتا تھا کیونکہ ان میں کامیابی کی صورت میں ملنے والی ملازمت سرکاری اور محفوظ ہوتی تھی اورکئی مراعات پیش کرتی تھیں۔ یہ امتحانات ملازمتوں کے حصول کیلئےمنعقد کئے جاتے تھےاور اب بھی کئے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے امیدواروں کو اب بھی ملازمتیں ملتی ہیں اورمراعات اب بھی پیش کرتی ہیں مگر اب حالات بہت بدل چکے ہیں بلکہ سنگین ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ داخلہ امتحانات کا بھی انعقاد ہوتا ہےجو میڈیکل اور انجینئرنگ کورسیز میں داخلے کیلئے لئے جاتے ہیں، ہائر ایجوکیشن کے بعدپیشہ ورانہ تعلیم کے میدان میں قدم رکھنے کیلئےیہ امتحانات کلیئر کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ان میں بھی اب بہت سی باتیں مسئلہ بن چکی ہیں اورطلبہ کیلئے مسلسل ذہنی تناؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: قوم کے دید بانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا دانشمندی نہیں

امسال حال ہی میں جونیٹ امتحان منعقد ہوا، اس میں ۲۲؍ لاکھ سے زائدطلبہ نے شرکت کی مگرنتیجہ کیا نکلا، ایک پیپرلیک اورامتحان منسوخ، طلبہ کی ساری محنت رائیگاں اوراس کے بعدخو دکشی کے متعدد واقعات۔ کچھ مہینے پہلےبہار میں ایک مسابقتی امتحان کا پرچہ لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھاجس میں ایک مکمل سنڈیکیٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ ا س سنڈیکیٹ سے جڑےعناصرکا پرچہ لیک اورحل کرنے کا لاکھوں کروڑوں کا ’کاروبار‘ تھا۔ یہ خبر کافی دن تک سرخیوں میں رہی تھی، گرفتاریاں ہوئی تھیں، ماسٹر مائنڈز سامنے آئے تھےاور تحقیقات سے معلوم ہوا تھاکہ ایک ایک پیپر کیلئےلاکھوں میں ڈیل کی گئی تھی۔ یہ معاملہ کچھ دن زیر بحث رہا۔ اسکے بعدنئے معاملات بھی سامنے آئے۔ ٹاپرس گھوٹالہ بھی سامنے آیاجس میں طلبہ سے پیسے لےکران کے مارکس بڑھائے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس طرح مختلف ریاستوں میں اور ملک بھر میں داخلوں اورملازمتوں کیلئے لئے جانے والے امتحانات میں کیسی کیسی بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں ہوتی ہو ں ہوگی، اس کا اندازہ نہیں کیاجاسکتا۔ یہ بےضابطگیاں ہر جگہ نہیں ہوتیں مگر کئی جگہ ہوتی ہیں اوراگر ایک جگہ بھی ہوتوسسٹم کا سوالات کے گھیرے میں آنا طے ہے۔ 
پیپرلیک میں ایک پورے سنڈیکیٹ اور نیٹ ورک کے سرگرم ہونے کا معاملہ کوئی معمولی نہیں ہے۔ بدعنوانیوں کیلئے کوئی سنڈیکیٹ یا نیٹ ورک کیا یونہی بن جاتا ہے؟ اگربن جاتا ہے تواسے ختم کیوں نہیں کیاجاتا؟اگر ختم نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب ہےکہ اس کی پشت پناہی کی جاتی ہےاوراگراپنےآپ نہیں بنتا تواس کا مطلب ہے اسے کھڑا کیاجاتا ہے؟تعلیمی نظام میں اب یہ سب ہورہا ہے توطلبہ اورملازمت کے امیدواروں کے مستقبل پربحث کرنا ہی فضول ہے!اس صورت میں کیا طلبہ اور امیدواروں کے ذہنوں میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا ہوگا کہ طرح طرح کے امتحانات دینے سے بہتر تو یہ ہےکہ خود ایسے کسی سنڈیکیٹ سے جڑ کرلاکھوں کروڑوں کمایاجائے!یہ انتہائی منفی اندیشہ ہے لیکن حقیقت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئی پی ایل میں بلے بازوں کا ہی نہیں گیندبازوں کا بھی جلوہ رہا ہے

نیٹ پیپرلیک معاملےکے بعدمتعدد طلبہ کی خودکشی اس بات کا ثبوت ہےکہ طلبہ خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ انہیں محسوس ہورہا ہےکہ یہ پوراسسٹم فرسودہ ہوچکا ہےاور تعلیمی نظام اب ایسے عناصر کے ہاتھوں میں ہےجنہو ں نے اس نظام کوکمائی کا شارٹ کٹ سمجھ رکھا ہے، وہ سمجھ چکے ہیں کہ ان کی محنت کا کوئی پھل انہیں ملنے والا نہیں، اور، اس سے بڑھ کرافسوسناک یہ کہ ان کے خلاف کارروائی کسی سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اسے جڑ سے اکھاڑنے کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ 
مسابقتی یا داخلہ امتحان کی تیاری آسان نہیں ہوتی۔ اس کیلئے طلبہ دن رات محنت کرتے ہیں، وہ کئی طرح کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ناگپور کی طالبہ اسنیہا کے بارے میں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ نیٹ امتحان جو منسوخ کیا گیا، اس نے طلبہ کو ذہنی طورپر کس کرب میں مبتلا کردیا ہے۔ اسنیہا نےاس امتحان کے بعد خود کشی کرلی اوراس نےخودکشی نوٹ میں جولکھاوہ ایک عا م سا مگر دل دہلادینے والا جملہ ہے۔ اسنیہا نے لکھا ’’اب نیٹ امتحان دوبارہ دینے کی ہمت نہیں۔ ‘‘اس کے والدکرشن کمار چترویدی کے مطابق اگرحکومت نے نیٹ صحیح طریقے سے کرایا ہوتا، ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا ہوتا اور پیپر لیک نہیں ہوتا تو آج ان کی بیٹی زندہ ہوتی۔ طلبہ کا یہ عزم اوران سےاساتذہ، دانشوروں اور وا لدین کی یہ اپیل اپنے آپ میں سوبار قابل ستائش ہےکہ نیٹ امتحان جو دوبارہ ہونے والا ہے، اس میں نئےجوش سے شرکت کی جائے لیکن جن گھروں کے چراغ بجھ گئے ہیں، ان میں اتنی آسانی سے اوراتنی جلد خوشیاں نہیں لوٹ سکتیں۔ اس دوران حا ل ہی میں ایک طالبہ کا خط بھی خبروں میں تھا جس میں اس نے حکومت، این ٹی اے اور امتحان کے منتظمین سے یہ اپیل کی تھی اگرکچھ نہیں کرسکتے توطلبہ سےایک بار ’ سوری ‘ ہی کہہ دیں۔ بہر حال اب تک یہ خبر نظر سے نہیں گزری کہ کسی نہ ’سوری ‘ کہا ہو۔ اس وقت ایک مسئلہ حکومت اور اس کی زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کایہ بھی ہےکہ ان میں عجیب سے بے حسی سرایت کرچکی ہے۔ ان میں کسی مسئلہ اوراس مسئلےکے کیا اثرات ہوسکتے ہیں، اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ پیپر لیک معاملے میں سوائے چند بیانات اورکچھ کارروائیوں کےحکومت کے ذریعے کوئی اقدام نہیں کیا گیا جو طلبہ کی دلدہی کا باعث بنتا۔ ایسا کیوں ہوا ؟کیونکہ حکومت کے پیش نظر صرف وہ مسئلہ تھا جو سامنے آیا، طلبہ نہیں تھے جنہوں نے اس مسئلےکا سامنا کیا۔ اس طرح دیگر بہت سے معاملات میں حکومت کے پیش نظر عوام نہیں ہوتے بلکہ کوئی مخصوص معاملہ ہوتا ہےجس سے حکومت اوراس کے کسی ادارے کو اپنے گرفت میں آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ پھرجو کارروائی ہوتی ہے وہ برائے نام ہوتی ہے، یا اس کا مقصد بس وقتی طورپرحالات کو سنبھالنا یعنی ڈیمیج کنٹرول ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سچ تو یہی ہے کہ حشرات الدہر سے زیادہ عوام کی حیثیت نہیں

معاملات اتنے آسان نہیں ہیں۔ ہم فی الحال اس مرحلے میں ہیں جہاں سے دوہی صورتیں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک یہ کہ تعلیمی نظام یاتوتباہ ہوچکا ہےاور دوسری یہ کہ یہ تباہی کا آغاز ہے۔ جو بھی ہو، اہل اقتدار اس سے نظریں نہیں بچاسکتے، اگر وہ بچا رہے ہیں یا بچانا چاہتے ہیں تو وہ بھی ان بدعنوانیوں میں برابر کے شریک ہیں۔ وہ ملک جسے اپنی نوجوان آبادی پر فخر ہے اورنوجوان جس کا اثاثہ ہیں، اس کا تعلیمی نظام ہی اگربدعنوانیوں میں جکڑا ہوتو کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ انہیں بوڑھا ہونے کا انجکشن دے دیاجائے! نوجوان تعلیمی نظام اورتعلیمی نظام نوجوانوں سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں ایک دوسرے سے وابستہ رہ کر آگےبڑھتےہیں۔ ایک کا نقص دوسرے کیلئے نا قابل برداشت ہوگا۔ اگر تعلیمی نظام کے نقائص دور نہیں کئے جاسکتے تونوجوان اثاثہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح اگر بے روزگار نوجوانوں کوروزگار نہیں ملتا توبہتر تعلیمی نظام بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہمارے ملک میں اس وقت یہ دونوں حالات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ کوئی کل سیدھی نہیں نظر آتی۔ آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی آر ایس، آئی ایف ایس جیسے ا متحانات میں کروڑوں طلبہ شریک ہوتے ہیں مگر کامیابی سیکڑوں یا ہزاروں کے حصے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں محرو م ہی رہتے ہیں، کیا انہیں نچلے درجہ کی ملازمتیں نہیں دی جاسکتیں ؟کیا ان کیلئےپرائیویٹ اداروں میں کوٹہ محفوظ نہیں کیاجاسکتا؟تعلیم اور ملازمت ایک رشتہ ہے جسے مضبوط کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ رشتہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب تک دونوں کو یقینی بنایاجائے گا۔ یعنی ابتدائی درجے میں تعلیم یقینی بنائی جائے اور تعلیم کے بعد ملازمت یقینی طورپر حاصل ہو۔ اس وقت دونوں غیریقینی ہیں اوران کے ارد گرد کے حالات بھی۔ انہی حالات کا نتیجہ ہےکہ ملک کے طلبہ کو محنت کے باوجودنتیجے میں صرف تناؤملتا ہے، افرا تفری ملتی ہے، غیریقینی ملتی ہے، وہ نہیں ملتا جو تعلیم کا مقصد ہوتا ہےاوروہ نہیں ملتا جو وہ چاہتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK