ایئرفورس کو جدید لڑاکا طیارہ فراہم کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ پر عائد ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 7:18 PM IST | C. Uday Bhaskar | Mumbai
ایئرفورس کو جدید لڑاکا طیارہ فراہم کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ پر عائد ہوتی ہے۔
گزشتہ سال آپریشن سیندورکے سبب فضائی طاقت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی تھی۔ اب یہاں یہ نشان زد کرنا حوصلہ افزا ہےکہ ایچ اے ایل ناسک کا تیار کردہ ایل سی اے ایم کے وَن اے اپنی پہلی پرواز کیلئے تیار ہے۔ اسی کےساتھ ہی وقت اس کا بھی تقاضا کرتا ہےکہ ایئر چیف مارشل (اے سی ایم) اے پی سنگھ نے ہندوستان کے خود کفیل بننے کی راہ میں درپیش چیلنجز کے حوالوں سے جو گراں قدر مشورہ دیا ہے اس پرتوجہ دی جائے۔
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے ایک اجلاس میں حال ہی میں اے سی ایم نے (فضائیہ کے)بڑے پلیٹ فارم پرڈیلیوری شیڈول میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا ’’ٹائم لائن بہت اہم مسئلہ ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہےکہ ایک پروجیکٹ بھی ا یسا نہیں ہے جو وقت پر پورا ہوا ہو۔ اس بات پر ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ ہم ایسا وعدہ کیوں کرتے ہیں جسے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے کسی معاہدہ پر دستخط کرتے وقت اکثر ہم اس بات سے واقف ہوتے ہیں کہ ہم معاہدہ پر صرف دستخط کررہے ہیں، یہ پورا ہونے والا نہیں ہے۔ ‘‘انڈین ایئر فورس کے پاس کئی دہائیوں سے اپنے لڑاکا طیاروں کی ایسی فہرست ہے جن میں سے کئی بے کا ر (آؤٹ ڈیٹڈ) ہوچکے ہیں او رجو لڑاکا طیارے ہیں ان کی تعداد کم ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں فضائیہ کے متعدد سربراہوں نے کئی مرتبہ حکومت سےگفتگو کی ہے مگرکسی نے ایئرچیف مارشل اے پی سنگھ کی طرح کی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا کام نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’نیٹ‘ پیپر لیک سے لے کر بے روزگاری تک: مودی سرکار کی کارگزاری کے۱۲؍ سال کا جائزہ
اے پی سنگھ نے اپنے قول میں جس دیانتداری کا مظاہرہ کیا ہےوہ واقعی قابل تعریف ہے۔ انڈین ایئرفورس کو جدید لڑاکا طیارہ فراہم کرنے کے پروجیکٹ میں جو مسلسل تاخیر ہورہی ہےاس کی ذمہ داری ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل ) پر عائد ہوتی ہےجس کی ڈیفنس ایوی ایشن سیکٹر پر اجارہ داری ہے۔ انڈین ایئر فورس اس کی بنیادی صارف ہے جسے اس کمپنی کے ذریعے گویا یرغمال بنا کررکھا گیا ہے(کہ دفاعی سازوسامان میں وہ پوری طرح ایچ اے ایل پر منحصر ہے۔ ) لائٹ کومبیٹ ایئر کرافٹ (ایل سی اے)تیجس بھی آئی اے ایف کو فراہم کرنے میں حد سے زیادہ تاخیر کی گئی جبکہ یہ پروجیکٹ ۱۹۸۰ء کے اوائل میں شروع ہوا تھا جب ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او)کی نگرانی میں ایروناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی (اےڈی اے) تشکیل دی گئی تھی۔ تیجس طیارہ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے روس کا فراہم کردہ مگ ایئر کرافٹ کی جگہ لینے والاتھا۔
جدید لڑاکا طیارے کو ڈیزائن کرنا اور اس کی تیاری ایک پیچیدہ اور مشکل منصوبہ ہے اور زیادہ تر ممالک جنہوں نے یہ صلاحیت حاصل کر لی ہے، انہوں نے اس کیلئے درکارماحولیاتی نظام میں کئی دہائیوں تک سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستان نے بھی اسی راستے پر عمل کیا اور پہلے دیسی ساختہ طیارے کو ۲۰۱۵ءمیں میں فضائیہ میں شامل کیا گیا - یعنی تین دہائیوں بعد اور جنگی کارکردگی کو ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔ تاہم آئی اے ایف نے ۸۳؍ تیجس ایم کے وَن اےکی ترسیل کے شیڈول پر تشویش کا اظہار کیا ہے جسےایچ اے ایل نے نے سپلائی کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اسےاے سی ایم سنگھ اس سال فروری میں بنگلور ایئر شو میں جھنڈی دکھائی تھی۔ اس وقت سی اے ایس نے ایچ اے ایل پر اپنے ’عدم اعتماد‘ کا اظہار کرتے ہوئےکہا تھا’’مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ فروری تک ۱۱؍ ایم کے وَن اے ایس انجنوں کے بغیر تیار ہو جائیں گے۔ ابھی تک ایک بھی تیار نہیں ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کے اعتماد کا مقابلہ کس طرح کیاجائے؟
بنگلور میں، سی اے ایس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کوتاہیاں انتظامی تھیں نہ کہ افراد کی غلطی۔ انہوں نے کہا تھا ’’میں کسی کو بری الذمہ نہیں کر سکتا کیونکہ ذمہ داری ہم سب پر آتی ہے۔ ‘‘ یہ واضح ہے کہ آئی اے ایف نے ماضی میں جو بھی کوششیں کی ہوں، اس نے اپنے آپ کوکشمکش کی صو رتحال میں پایا۔ ایچ اے ایل کے ذریعہ وقت پر کوئی قابل اعتماد دیسی لڑاکا طیارہ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے اور حکومت دوسری طرف ’ آتم نربھرتا‘ کا دباؤ ہے جس کے نتیجے میں فضائیہ کیلئے اب دفاعی سازوسامان درآمد کرنے کے لئے کوئی قابل عمل آپشن نہیں بچا ہے۔ ان مسائل اور دشواریوں کے باوجود آئی اے ایف آپریشن سیندور کے دوران اس موقع پر کھڑا ہوا اور اسی کے مد نظرسی آئی آئی سمٹ میں سی اے ایس نے جامع قومی فوجی صلاحیت میں فضائی طاقت کی مرکزیت کو اجاگر کیا۔
ہندوستان اس شعبے میں ناکام ثابت ہورہا ہے اور انتظامی خرابیاں اوپر سے شروع ہوتی ہیں ۔ ملک کے اعلی دفاعی میٹرکس سے جس کی نمائند گی سی سی ایس (کابینی کمیٹی برائے سیکوریٹی) کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہےکہ ایک معمولی لیکن مقامی طور پر ڈیزائن کیاگیا لڑاکا طیارہ ایچ ایف ۲۴؍ ماروت جو ۱۹۶۰ء کی دہائی کے اوائل ایچ اے ایل کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا (یہ جرمن ڈیزائن کا تھا)، اسے وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کا وہ حقدار تھا اور یہ ہندوستانی دفاعی سازوسامان میں اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔
یہ بھی پڑھئے: کیا وزیراعظم میڈیا کی چوتھے ستون کی حیثیت فراموش کرچکے ہیں؟
ایچ اے ایل نے جوابدہی سے راہ فرار اختیار کی اوراپنے بنیادی گاہک آئی اے ایف کے ساتھ ہم آہنگی اور آتم نربھرتا پر مبنی رشتہ قائم کرنے میں ناکام رہا۔ سیاسی بالادستی کے سبب فضائیہ کو ایک ایسے میدان میں دھکیل دیاگیا جہاں ترسیل پر اجارہ داری ایچ اے ایل کی تھی اس لئےآئی اے ایف کیلئے درآمدایک ڈیفالٹ متبادل تھا۔ اس سے بہر حال یہ ہوا کہ در آمد شدہ کل پرزوں کو یہاں اسمبل کرنے کی سہولت دی گئی۔ اس کے تحت روسی ڈیزائن بھی درآمد ہی کئے گئے اورملک میں اپنے طورپر کچھ بنانے کی کوشش مفقود ہی نظر آئی لیکن یہاں اسمبل کرنے کی سہولت کو بھی بڑی کامیابی طورپر پیش کیاگیا۔ دفاع میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ جدید دیسی ساختہ ڈیزائن میں بہت اہمیت رکھتا ہےاور اس پر چیف آف ایئر اسٹاف نے روشنی ڈالی ہے اور اس میں حکومت کی طرف سے مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ٹھوس مالی تعاون بہت ضروری ہے اور ہندوستانی سرمایہ کاری اوسط سے بہت نیچے ہے۔ گلوبل انویسٹمنٹ انڈیکس نے ۲۰۲۳ء کے آر اینڈ ڈی اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے(بلین ڈالر میں )جواس طرح ہے :امریکہ :۷۸۴:، چین :۷۲۳، جاپان :۱۸۴، ہندوستان:۷۱۔
پہلا انتظامی مسئلہ جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ قومی سطح پرتحقیق اورفروغ کے عمل میں اضافہ کیا جائے تاکہ زیادہ اہم اعداد و شمار تک پہنچ سکیں اور ایسا کرنے کیلئے قومی سلامتی کے مروجہ اسٹرٹیجک کلچر کو ایک بنیادی تبدیلی سے گزارنا ہوگااور اس میں سائنسی تحقیق کے شعبوں میں سیاسی اجارہ داری پر قابو پانا سب سے زیادہ اہم ہے۔ آتم نربھربھارت کے لیے ہندوستان کی جستجو کو ہائی ٹیک شعبوں میں عالمی معیار کے ڈیزائن تک پہنچنے کی اس کی صلاحیت کے ساتھ پرکھا جائے گا۔ اے سی ایم اے پی سنگھ نےجو بتایا ہے وہ نظام کی خرابی کے صرف ایک سرے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ذمہ داری باقی سسٹم پر ہے کہ وہ ان کے حکیمانہ مشوروں پر عمل کرے اور ضروری پالیسی اصلاحات کو لاگو کرے۔ اس کے علاوہ جس متبادل کو تلاش کیاجارہا ہے وہ بے سود ہے اور ایسا جاری رہا تو ہندوستانی اسٹرٹیجک خود مختاری ایک سراب ہی رہے گی۔