Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوجوانو! قرآن کا یہ پیغام سن لو’’علم والے اور بغیرعلم والے برابر نہیں ہوسکتے‘‘

Updated: June 07, 2026, 6:11 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

دوستو !ذرا سوچئے کہ اگر اُس وقت سعودی عرب حکومت کی وہ پالیسی کامیاب ہوتی تو صرف عرب نہیں سارے مسلم ممالک میں مسلمانوں کو ملازمتوں میں کتنا فیصد ریزرویشن ملا ہوتا ؟

Through higher education, Muslim youth have to worry about filling the gap that is currently being filled by someone else. Photo: INN
اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ مسلم نوجوانوں  کو اُس خلاء کو پُر کرنے کی فکر کرنی ہے جسے اس وقت کوئی اور پُر کررہاہے۔ تصویر: آئی این این

خلیجی ممالک کے موجودہ حالات کی بناء پر بلا شبہ برّصغیر کے مسلم خاندانوں میں اضطراب ہے، معاشرہ میں کافی اُتھل پتھل ہوچکی ہے۔ چار دہائی قبل جو گلف بُوم آئی اُس کی دھوم پر اب آنچ آچکی ہے۔ ڈِگری حاصل کرو اور سیدھے گلف جائو، والا طلسم ختم ہوتا جارہا ہے اس لیے آج ہمارا روئے سخن ہماری قوم کے کالج کے نو جوانوں سے ہے۔ آج سے ۱۵؍ سال قبل سعودی حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ صرف مکہ معظمہ و مدینہ منوّرہ میں نہیں بلکہ پورے سعودی عرب میں صرف مسلمانوں کو ملازمت دی جائے۔ سب سے زیادہ مین پاور ہندوستان سے مل سکتا تھا، لہٰذا ہندوستان کے اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات چھپنے لگے: ’’صرف مسلم چاہیے...‘‘جانتے ہیں ان اشتہارات کا انجام کیا ہوا ؟ صرف ۶؍ماہ کے اندر ملک بھر کے سارے ریکروٹنگ ایجنسیوں نے سعودی ایمبسی کو خط لکھنا شروع کیا کہ مسلمانوں میں ڈرائیور، پلمبر، ہیلپر، ڈیزل مکینک، موٹر مکینک وغیرہ تو مل جاتے ہیں مگرمُلک بھر کے معروف اخبارات میں پورے پورے صفحے کے اشتہار شائع کروانے کے باوجود سینئر مینجرس، کنسلٹنٹس سی اے، سی ایف اے وغیرہ نہیں  ملتے ہیں ۔ اس طرح سعودی عرب کو ’’صرف مسلم‘ ‘والی پالیسی کو خیر باد کہنا پڑا اور اب وہ لکھتے ہیں :’’ مسلمان کو ترجیح دی جائے۔ ‘‘
دوستو !ذرا سوچئے کہ اگر اُس وقت سعودی عرب حکومت کی وہ پالیسی کامیاب ہوتی تو صرف عرب نہیں سارے مسلم ممالک میں مسلمانوں کو ملازمتوں میں کتنا فیصد ریزرویشن ملا ہوتا ؟ ۱۰۰؍ فیصد! جی ہاں صد فی صد! آج ہمارے ملک میں ہمارا حال کیا ہے؟ ہر وہ پارٹی جو ہمیں پانچ فی صد ریزرویشن دینے کی بات کرتی ہے، ہم اُس پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مورچہ اور دھرنا دینے کیلئے تیار ہیں جبکہ ہمیں سارے مسلم ممالک میں ملازمتوں میں ۱۰۰؍ فیصدریز رویشن حاصل تھا اور اب بھی حاصل ہے۔ مگر ہم میں قابلیت نہیں ہے سوائے ڈرائیور اور ہیلپر بننے کے۔ سعودی عرب کے حالیہ دَورے میں ہم نے دیکھا کہ وہاں کے سب سے بڑے انگریزی اخبار سعودی گزٹ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر کا نام ہے : رام نرائن ایّر۔ یہ حال ہے ہمارا میڈیا میں۔ میڈیکل کا حال بھی سُن لیجئے وہاں کے ایک اخبار میں جدّہ کی ایک پالی کلنیک کا اشتہار چھپا ہے۔ اس پالی کلنیک سے وابستہ ماہرین ڈاکٹروں کے نام بھی چھپے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے : ڈاکٹر اجے، ڈاکٹر اسٹیفن، ڈاکٹر راجکمار، ڈاکٹر شو بھا، ڈاکٹر پریتی وغیرہ۔ مکّہ معظمہ سے سب سے قریبی ایئر پورٹ جدّہ ہے۔ جدّہ کے اسپتال کا یہ حال ہے۔ اس اسپتال کے وارڈ بوائے اور آیا کے نام نہیں چھپے ہیں، اُن میں مسلمانوں کی تعداد یقیناز یادہ ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: تعلیمی نظام: چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

شاہ جہاں کے لال قلعے سے لے کر شاہ عرب کے اسٹیڈیم تک اور قطب مینارسے لے کر بُرج خلیفہ تک بس ایک ہی داستان ہے :ہماری لاعلمی، تساہلی، کاہلی کا کھلا اعلان ! اب اگر ہمارا موازانہ اپنے آباو اجداد سے کیا جائے تو یہ دیکھ لیجئے کہ قطب مینار کی تعمیر قطب الدین ایبک والتمش نے کی تھی اور اس طرح اُس زمانے کی بلند ترین عمارت وجود میں آئی۔ اُس وقت ہماری قوم میں بہترین آرکیٹیکچر وں کی ایک فوج موجود تھی جنہوں نے مسلم ومغل فن تعمیر کے شاہ کار تخلیق کئے اور آج کا عالم دیکھ لیجئے: دنیا کی بلند ترین عمارت بُرج خلیفہ، دُبئی میں تعمیر ہوئی۔ ۱۶۲؍منزلہ اس عمارت کی ڈیزائین ایس او ایم نامی کمپنی نے تیار کی اور جنوبی کوریا کی کمپنی سیمسنگ انجینئرس نے اس کی تعمیر کی جس میں خصوصی کردار جس انجینئر نے ادا کیا وہ ہے؛ بل بیکر۔ پوری عمارت کی تعمیر میں ۳۸۰؍انجینئرس نے حصہ لیا، بد قسمتی سے اُن میں سے ایک بھی ہماری قوم کا نہیں تھا۔ حتّیٰ کہ دنیا کے اس بڑے عجوبے ٹاور کے افتتاح کے لئے روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو سب بے بس تھے لہٰذا ایک برٹش کمپنی اسپیرس اینڈ میجر کو کروڑوں درہم کا ٹھیکہ دیا گیا۔ ہاں جن چالیس ہزار سے زائد مزدوروں نے اُس ٹاور کیلئے معمولی اُجرت پر مٹّی اور پتھر اٹھائے اُن میں برِّصغیر کے مسلم نو جوانان کی اکثریت تھی!
نو جوانو! سوچو، ہم جن ممالک کو ’ہمارے ملک‘ کہتے ہیں وہاں اہم اورکلیدی عہدوں پر غیر مسلم ماہرین کا تقرر کیسے ہوا؟ ان ہمارے ملکوں میں سارے اعلیٰ عہدوں پر ان غیر مسلم ماہرین نے ۷۰؍ فیصد سے زائد ریز رویشن حاصل کر لیا۔ اُس کیلئے کیا انھوں نے ان ملکوں میں کوئی مورچہ نکالا؟ کوئی دھرنا دیا؟ وہاں کوئی الیکشن لڑا؟ کوئی مائناریٹی کمیشن بنایا ؟ کسی منسٹر کے گلے میں ہار ڈالا ؟ جس طرح ہم یہاں پر منتری ہی نہیں ، اُس کے سنتری کیلئے بھی اقلیت پرور، مسلم نواز، قوم کے حقیقی ہمدرد... وغیرہ القاب استعمال کرتے رہتے ہیں، اُس قسم کے کوئی خوشامدی کی ؟ آخر انہوں  نے کیا کیا جس سے اُنہیں مسلم ملکوں میں انتہائی اہم عہدوں پر ۷۰۔ ۷۵؍ فی صدر یز ردیشن مل گیا ؟ اُنہوں نے صرف ایک کام کیا۔ لگن و دل جمعی سے جدید ترین علوم کے ہتھیاروں سے خود کو لیس کر لیا اور پھر ہمارے مسلم ممالک کی ساری کمپنیوں نے ہاتھ جوڑ جوڑ کر ان سے کہا: ’’بھئی ہمارے یہاں آجاؤ۔ تم یہودی ہو، عیسائی ہو یا سنگھ پریواری ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ برائے مہربانی ہمارے ملک میں آجاؤ۔ ہم یہ سیٹیلائٹ ٹکنالوجی نہیں جانتے ہیں، بڑی مہنگی گاڑیوں کی ہم صرف ایجنسی لیتے ہیں، وہ مینوفیکچر کرنا ہم نہیں جانتے، جدید میڈیسن کے تحقیقی ادارے، ہم نہیں جانتے وہ کیا ہیں، آپ حضرات ہی انہیں قائم کرو، آپ ہی چلاؤ منیجرسے لے کرسی ای او تک آپ ہی سب کچھ بن جاؤ۔ کتنی تنخواہ چاہیے ؟ دولاکھ۔ ۔ ۔ پانچ لاکھ۔ ۔ ۔ ۔ دس لاکھ لے جاؤ۔ فیملی ویزا؟ وہ بھی مل جائے گا۔ ہر سال، اچھا بھئی ہر چھ ماہ میں پوری فیملی کو ہوائی کرایہ مفت۔ اور کیا چاہیے؟ مندر وغیرہ اچھا چلو وہ بھی بنالو۔ مگر آجاؤ ہمارے ملک میں۔ ہم یہ جدید علوم، یہ ٹکنالوجی، یہ میڈیا، یہ معاشیات ہم کچھ نہیں جانتے۔ مسٹر پیٹر، آپ ہمارے زونل منیجر اور انڈیا سے یہ عبدل آیا ہے۔ یہ آپ کا ڈرائیور۔ سبرامنیم آپ میڈیا ہیڈ، آپ کے بنگلے کے گارڈن کو پانی دینے کے لئے یہ انڈیا ہی کا خیرو پہلے سے موجود ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’نیٹ‘ کا امتحان بھی ’جے ای ای‘ کی طرز پر کئی شفٹوں میں لیا جانا چاہئے

نوجوانو ان باتوں میں ذرہ برابربھی مبالغہ آرائی نہیں ہے کسی بھی مسلم ملک کا دَورہ کیجئے یا کسی ریکروٹنگ ایجنسی کے دفتر جایئے آپ دیکھیں گے کہ بد قسمتی سے یہی حقیقت ہے۔ دوستو! یہ علم اور نالج کی طاقت ہے، بیداری و آگہی کا جادو ہے کہ غیروں نے ہمارے ملکوں میں کوئی تحریک چلائے بغیر بہترین واعلیٰ ترین عہدوں پر۷۰؍ تا۷۵؍ فی صد غیر اعلانیہ ریزرویشن حاصل کر لیا۔ یہ کیا بات ہوئی؟ قرآن نے ہمیں کہا کہ علم والے اور بغیر علم والے برابر نہیں ہوسکتے۔ کئی قوموں نے وہ آواز سُنی، علم کی طاقت کو سمجھا، صرف ہمیں یہ بات سُنائی کیوں نہیں دیتی؟ نئی نسل اگر اب بھی سنجیدگی سے اس پر غورو عمل کرتی ہے تو کل ہمارا ہے اور یقینا کل ہمارا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK