اللہ رب العزت سے حیا کرنا سیکھیں

Updated: March 06, 2020, 5:36 PM IST | Mudassur Ahmed Qasmi

جب ہم حیا کے موضوع پر بات کرتے ہیں تو عموماً ہمارے ذہنوں میں عریانیت والے کپڑوں اور اخلاق سے گری باتوں کا خیال آتا ہے؛اگرچہ یہ چیزیں بنیادی طور پر شرم و حیا کے باب کا لازمی حصہ ہیں لیکن اس کےعلاوہ بھی حیا کےبہت سارے پہلو ہیں۔

Learn How to Modest From Allah. Picture INN
اللہ سے حیا کرنا سیکھیں ۔ تصویر : آئی این این

جب ہم حیا کے موضوع پر بات کرتے ہیں تو عموماً ہمارے ذہنوں میںعریانیت والے کپڑوں اور اخلاق سے گری باتوں کا خیال آتا ہے؛اگرچہ یہ چیزیں بنیادی طور پر شرم و حیا کے باب کا لازمی حصہ ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی حیا کےبہت سارے پہلو ہیں۔ دراصل ہم نے اپنے سماجی تانے بانے میں حیاکے تصور کو باہمی تعلقات اور دوسروں کے ساتھ میل جول تک محدود کردیا ہےاورقولاً نہ سہی عملاً ضرور ہم نے اپنے خالق و مالک اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے حیاکے تصور کو تقریباً نظر انداز کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک خطرناک اور تباہ کن رجحان کے اسیر ہو گئے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ انسانوں  سے حیا کرتے ہوئے اور بدنامی کے خوف سے تو ہم بے حیائی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں یا کم از کم لوگوں کی نظروں سے دور ہوکر غلط کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ جو ہر جگہ اور ہر وقت حاضر و ناظر ہے، اس کے سامنے یا اس سے حیا کا کوئی تصور ہمارے پاس نہیں۔ آیئے! ایک مبارک حدیث کی روشنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے حیاکرنے کا کیا مطلب ہے۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاکرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ ہم (صحابہ )نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ ! ہم اللہ سے شرم و حیاکرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: حیاکا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاکرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو اور موت اور ہڈیوں کے سڑ جانے کو یاد کرو اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دے۔ پس جس نے اسے پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالی سے حیا کی جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے ۔‘‘ (ترمذی) مذکورہ حدیث میں انتہائی جامعیت کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ نے اُمت کو بتلا دیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے حیا کا مطلب تمام اعضاء و جوارح کو ظاہری و باطنی تمام گناہوں اور برائیوں سے بچانا ہے۔ اِس کو ہم  اِس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ سر، دماغ،آنکھ ، کان، منہ وغیرہ کی حیایہ ہے کہ اُن کو غلط کاموں اور گناہوں سے بچایا جائے۔ مثال کے طور پر دماغ سے انسان کو حرام چیزوں کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے؛چاہے وہ حرام یادیں ہوں یا کسی چیز کے حوالے سے حرام منصوبے ہوں۔ اسی طرح آنکھوں کی حیا یہ ہے کہ اُس  سےبدنظری کا ارتکاب نہ کیا جائےاور اُس سے غلط اشارات نہ کئے جائیں؛کانوں کی حیایہ ہے کہ اُس سے غلط نہ سناجائے چاہے وہ موسیقی ہو ، غیبت ہو یا اور کوئی شرعی طور پر ناپسندیدہ شےاور منہ کی حیایہ ہے کہ اُس سے انسان جھوٹ، غیبت یا کوئی بھی بری بات نہ بولے۔
اِن کے علاوہ دیگر اعضاء جیسے پیٹ،ہاتھ ، پیر ، خفیہ اعضا ء حتیٰ کے دل کے تعلق سے بھی  شریعتِ مطہرہ نے حیا کے مفہوم کو واضح کر دیا ہے۔ چنانچہ پیٹ کی حیا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس کو حرام کھانوں سے یا حرام کمائی کے پیسوں سے حاصل کردہ غذا سے بچائے؛پیر کی حیا کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی غلط کام کے لئے نہ اٹھے؛ہاتھ کی حیاکا مطلب یہ ہے کہ اُس کا استعمال کسی ممنوعہ چیز کے لئے نہ ہواور دل کی حیاکا مطلب یہ ہے کہ اس کو گناہوں کے خیال سے پاکیزہ رکھا جائے۔نبی اکرم ﷺ نے مذکورہ حدیث  میں صرف اللہ تبارک و تعالیٰ سے حیاکا مفہوم ہی نہیں سمجھایا ہے بلکہ حدیث کے آخری حصے میں اُس حیاکے حصول کا طریقہ بھی بتلادیا ہے۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم موت کے بارے میں سوچیں اور یہ سوچیں کہ کس طرح قبر میں ہماری ہڈیاں سڑ گل جائیں گی۔اِس سوچ کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا استحضار حاصل ہوگا اور حرام و غلط کاموں کو انجام دینے سے ہم ڈریں گے۔ مزید آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دے کیونکہ صرف اسی صورت میں ہمیشہ ہمیش کے ٹھکانے کی تیاری ہمارا مشغلہ ٔحیات بنے گی؛بصورتِ دیگر دنیا ہمارے راستے کا پتھر اور پاؤں کی زنجیر بن جائے گی۔  
حضرت جنید بغدادیؒ سے جب پوچھا گیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حیا کا  مجسمہ بننے کے لئے کیا کرنا چاہئے تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ انسان سب سے پہلے اللہ رب العزت کی بے شمار نعمتوں پر غورو فکر کرے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے احکام  کی بجاآوری کے تعلق سے اپنی کوتاہیوں کو سوچے ؛ اگر انسان ایسا کرے گا تو وہ اپنی کمیوں کی وجہ سے شرمندہ ہوگا اور نتیجتاً اُس کے اندر حیا کا جذبہ پروان چڑھے گا۔(شعب الایمان) خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے حیاکا پُتلا بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ اپنے  رازق و مالک کو یاد کرنا چاہئےکیونکہ ہم دن و رات کے ہر لمحے اُس کی بے شمار نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور عقلِ سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جس دربار سے ہم پر عنایات کی بارشیں ہوں، وہیں ہم جبینِ نیاز خم کریں۔یاد رکھیئے! اگر ہم نےفرمانبرداری اور عبادت کے ذریعہ اپنے عظیم الشان مالک کا شکریہ ادا نہیں کیاتو کوئی بھی صاحبِ عقل یہی کہے گا کہ ہم بے شرم ہیں اور حیانام کی کوئی چیز ہمارے پاس نہیں ہے۔  n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK