• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

دعوتِ دین کا فن اسوۂ یوسفیؑ سے سیکھئے!

Updated: December 08, 2023, 3:35 PM IST | Maulana Abul Ali Maududi | Mumbai

حضرت یوسفؑ نے جس طرح اپنی تبلیغ کے لئےموقع نکالا، اس میں ہم کو حکمتِ تبلیغ کا ایک اہم سبق ملتا ہے۔ دو آدمی اپنا خواب بیان کرتے ہیں اور اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعبیر پوچھتے ہیں۔

There are also certain etiquettes for invitation to religion, it is necessary for the preacher to observe them. Photo: INN
دعوت ِ دین کے بھی کچھ آداب ہیں، مبلغ کے لئے ان کی رعایت ضروری ہے۔ تصویر : آئی این این

حضرت یوسفؑ نے جس طرح اپنی تبلیغ کے لئےموقع نکالا، اس میں ہم کو حکمتِ تبلیغ کا ایک اہم سبق ملتا ہے۔ دو آدمی اپنا خواب بیان کرتے ہیں اور اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعبیر پوچھتے ہیں۔ جواب میں آپؑ فرماتے ہیں کہ تعبیر تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، مگر پہلے یہ سن لو کہ اس علم کا ماخذ کیا ہے جس کی بنا پر میں تمہیں تعبیر دیتا ہوں ۔ اس طرح ان کی بات میں سے اپنی بات کہنے کا موقع نکال کر آپ ان کے سامنے اپنا دین پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ فی الواقع کسی شخص کے دل میں اگر تبلیغ حق کی دھن سمائی ہوئی ہو اور وہ حکمت بھی رکھتا ہو تو مواقع پر مواقع آتے ہیں اور وہ کبھی محسوس نہیں کرتا کہ یہ موقع ہے اپنی بات کہنے کا۔ جسے دھن لگی ہوئی ہوتی ہے وہ موقع کی تاک میں لگا رہتا ہے اور اسے پاتے ہی اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ البتہ بہت فرق ہے حکیم کی موقع شناسی میں اور اس نادان مبلغ کی بھونڈی تبلیغ میں جو موقع و محل کا لحاظ کئے بغیر لوگوں کے کانوں میں زبردستی اپنی دعوت ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر لیچڑپن اور جھگڑالوپن سے انہیں اُلٹا متنفر کر کے چھوڑتا ہے۔
 اس سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کے سامنے دعوت دین پیش کرنے کا صحیح ڈھنگ کیا ہے۔ حضرت یوسفؑ پہلی ہی جست میں دین کے تفصیلی اصول اور ضوابط پیش کرنے شروع نہیں کردیتے، بلکہ ان کے سامنے دین کے اس نقطہ آغاز کو پیش کرتے ہیں جہاں سے اہل حق کا راستہ اہل باطل کے راستے سے جدا ہوتا ہے، یعنی توحید اور شرک کا فرق۔ پھر اس فرق کو وہ ایسے معقول طریقے سے واضح کرتے ہیں کہ عقل عام رکھنے والا کوئی شخص اسے محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
  خصوصیت کے ساتھ جو لوگ اس وقت ان کے مخاطب تھے ان کے دل و دماغ میں تو تیر کی طرح یہ بات اتر گئی ہوگی، کیوں کہ وہ نوکر پیشہ غلام تھے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات کو خوب محسوس کر سکتے تھے کہ ایک آقا کا غلام ہونا بہتر ہے یا بہت سے آقاؤں کا، اور سارے جہاں کے آقا کی بندگی بہتر ہے یا بندوں کی بندگی۔ یہ سمجھنا ان کیلئے کچھ مشکل نہ تھا۔ 
 پھر وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ اپنا دین چھوڑو اور میرے دین میں آجاؤ، بلکہ ایک حسین انداز میں ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو، اللہ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے سوا ہم کو کسی کا بندہ نہیں بنایا، مگر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور خواہ مخواہ خود گھڑ گھڑ کر اپنے رب بناتے ہیں اور ان کی بندگی کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنے مخاطبوں کےدین پر تنقید بھی کرتے ہیں ، مگر نہایت معقولیت کے ساتھ اور دل آزاری کے کسی بھی شائبہ کے بغیر۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK