Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیا عزم، نیا جذبہ، نئی فکر، نئی تدبیر..... اس کیلئے نئے سال کا انتظار کیوں؟

Updated: January 04, 2026, 6:04 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

دنیا بھر کے کاروباریوں نے اُسے بڑے تہوار کے طور پر منانابھی شروع کیااور آج نئے سال کی تقریبات اربوں کھربوں ڈالر کا بزنس ہے۔ نئی نسل جو زندگی سے فرار کی ایسی کیفیت میں مبتلا رہتی ہے کہ وہ تو نئے سال کا دن منانے کے بجائے نئے سال کا ہفتہ منانے پر آمادہ رہتی ہے۔

Those who set their life goals early in life are sure to succeed. Photo: INN
اپنی زندگی کے اوائل ہی میں اپنی زندگی کاہدف طے کرلینے والوں کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این

عیسوی کیلنڈر کو عالمی سطح پر ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ دنیا بھر کے سارے ممالک میں آج کا روباری کیلنڈر بھی یہی ہے۔ ظاہر ہے اس بنا پر اس سال کی ابتدا بھی عالمی سطح پر دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے کاروباریوں نے اُسے بڑے تہوار کے طور پر منانابھی شروع کیااور آج نئے سال کی تقریبات اربوں کھربوں ڈالر کا بزنس ہے۔ نئی نسل جو زندگی سے فرار کی ایسی کیفیت میں مبتلا رہتی ہے کہ وہ تو نئے سال کا دن منانے کے بجائے نئے سال کا ہفتہ منانے پر آمادہ رہتی ہے۔ نئے سال کے سورج کے استقبال کے لئے دنیا بھر کے فائیو/سیون اسٹارہوٹلیں بُک رہتی ہیں۔ کیلنڈر بدلتے ہیں، ڈائریاں بدلتی ہیں، نت نئے منصوبے اور عہد و پیماں جنم لیتے ہیں مگر بد قسمتی سے اُن میں سے اکثر اُسی روز شام تک دم توڑدیتے ہیں کیونکہ نئے سال کے جشن میں رات بھر جاگ کر دو پہر بعد ہی آنکھ کھلتی ہے۔ 
ہر سال یہ بھی ہوتا ہے کہ سال کے آخری دن کو بڑا منحوس کہا جاتا ہے اور اُس وقت لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ گزشتہ سال کی رخصتی پر بھی اس سال پر لعنت بھیجی گئی تھی اور جس نئے سال کا بڑی شان و شوکت سے استقبال کیا گیا تھا اُسی کو ابھی رخصت ہوتے وقت جی بھر کے کو سا جا رہا ہے۔ در اصل یہ انسانی فطرت کی بڑی کمزوری ہے کہ وہ سال، مہینے، دن یا گھڑی کو مبارک یا منحوس سمجھتا ہے۔ اور وہ کبھی بھی اپنی فطرت، اپنے رویے، اپنی عادت اور اپنے برتاؤ کے تعلق سے کچھ نہیں سوچتا، اسلئے اصل معاملہ ہے کہ کوئی سال اچھا یا برا نہیں ہوتا، ہمارا اِرادہ، ہماراعزم، ہماری جد وجہد، ہماری کو شش، ہماری لگن اور ہمارا عہدطے کرتا ہے کہ سال کیسا رہے گا۔ صرف کیلنڈر بدلنے سے قومیں نہیں بدلتی۔ 
ہمارے یہاں کچھ لوگ یکم جنوری کو نیا سال منانے کے خلاف ہیں۔ ہم اُنھیں بتانا چاہیں گے کہ شمسی کیلنڈر کی ایجاد ایک مسلم سائنسداں عمر خیام نے مسلمان خلیفہ کے حکم پر کی تھی۔ دوم یہ کہ سارے مسلم ممالک اپنی یوم آزادی انگریزی کیلنڈرہی سے مناتے ہیں۔ تو کیا ہم ہجری سال سے نیا سال منائیں ؟ ہم تو بنیادی طور پر نئے سال کو’ منانے‘ ہی کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ہماری زندگی میں وہ صرف ہندسوں کی تبد یلی ثابت ہو رہے ہیں اور ہم میں سے اکثر لوگ صرف جانتے ہیں مگر مانتے نہیں کہ ہر نئے سال پہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہوتا ہے۔ سوم یہ کہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی دن وغیرہ کو ’منانے‘ کی بات آتی ہے تو ذہن میں صرف خرافات ہی آتے ہیں وہ برتھ ڈے ہو، نیا سال ہو یا شادی کا موقع ہو۔ ان سب میں صرف دھما چو کڑی ہی ہو ا کرتی ہے۔ اُن تقریبات میں ایک بڑا طبقہ وہ بھی شامل ہوتا ہے جو اُن کی آڑ میں زندگی اور اُس کے تقاضوں سے فرار حاصل کرنے کا متمنی ہے۔ 
اب آجائیے یہ سوچیں کہ آخر زندگی کی پلاننگ یا کم از کم سال بھر کی منصوبہ بندی کیلئے ہم کوئی دن مقرر کریں یا نہیں اور کریں تو کب؟ ہمارے ملک میں مالیاتی سال یکم ؍اپریل کو شروع ہوتا ہے، ملک کے اکثر تعلیمی اداروں میں تعلیمی سال جون میں شروع ہوتا ہے۔ 
ہمارے دین میں سال میں ایک مہینہ تربیت کا بھی ہوتا ہے وہ ہے رمضان کا مہینہ۔ ایک مہینے کی سخت قسم کی ٹریننگ، جسمانی و روحانی دونوں جو کم از کم اگلے گیارہ مہینے انسان کے وجود ہی کو قابو میں رکھنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ پورے سال کی منصوبہ بندی تو اُسی مہینے کے آغاز کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ اپنے اعمال، اپنے اعصاب حتّیٰ کہ اپنی فکر و سوچ پر بھی ضبط اور اس درجہ ضبط کہ اگلے پورے گیارہ مہینے وہ پل پل یاد آئے اور اپنے نفس پر مکمل قابو رکھنے کی یاد بھی دلائے۔ نفس پر انتہا درجے کا قابو اور اس پر بھوک و پیاس..... زندگی کا اصل تعارف تو اْسی جدو جہ میں ہو جاتا ہے۔ کسی جشن یا ڈھول تاشے اور روشنی کا تو کوئی جواز ہی نہیں البتہ لازمی تربیت کا مہینہ جب رمضان ہی تو ہے ہم پورے سال کی منصوبہ بندی اور اپنی شخصیت سازی کے ضمن میں سارے عہد و پیمان یکم رمضان سے کر سکتے ہیں۔ جسے شور شرا بہ، دھما چوکڑی اور خرافات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ اس مشورہ پر توجہ دے سکتا ہے۔ 
تاریخ، دن، مہینہ کوئی بھی ہو، اگر آپ نے اسے سال بھر کے سارے منصوبوں کے احسن طریقے سے آغاز کیلئے مختص کیا ہے تو اُس میں آپ کو کن باتوں کا جائزہ لینا ہے؟
(۱) احتساب گزشتہ سال کا، یہ بڑا کٹھن مرحلہ ہے، ہر کسی کے بس کی بات نہیں، ہر کسی میں ہمت ہو بھی نہیں سکتی کہ وہ اپنے اعمال کا احتساب کرے۔ ہر رات سوتے وقت بھی دن بھر کے کاموں کا جائزہ لینے کی ہمت نہیں کرپاتے کیوں کہ اکثر ایسی کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں جن کا جائزہ لینا ہمیں گواراہ نہیں، البتہ فرض کیجئے کہ ہمارے لگ بھگ سارے اعمال غلطیوں سے پُر ہیں لیکن جب تک ہم اُن کا ایمانداری سے اور ہمت سے جائزہ نہیں لیں گے، اُن میں بہتری کیسے پیدا ہوگی؟
(۲) نئے سال کیلئے منصوبہ بندی کرتے اورگزشتہ سال کا جائزہ لیتے وقت ہمیں یہ جان لینا ہے کہ غلطیوں سے سیکھنے کا عمل اس وقت شروع ہو گا جب سب سے پہلے ہم غلطیوں کو تسلیم کریں۔ اصلاح کا سلسلہ بس وہیں سے شروع ہوگا۔ کیا عجب معاملہ ہے کہ سالِ نو کے کئی سورج ہم نے دیکھے البتہ ہمارے معاملات میں بہتری نہیں آرہی ہے۔ وجہ ظاہر ہے معاملات فہمی میں کو تاہی یا خود اعتمادی کی کمی۔ 
(۳) کسی نئے سال سے اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتے وقت کبھی ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہم اپنے خوابوں کی دنیا میں ہی مگن ہیں یا اُنھیں حقیقت کا روپ دینے کیلئے کوئی عزم بھی کر لیتے ہیں۔ بڑے بڑے خواب بُننے کے بعد پھر ہماری آنکھ ہر صبح سورج سے پہلے کھلتی ہے یا نہیں ؟ 
(۴) نئے سال کا استقبال کر رہے ہیں تب یہ دیکھیں کہ گزشتہ برس آپ ڈیجیٹل فریب میں جتنے مبتلا تھے اس میں کمی آئی ہے یا نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ ڈیجیٹل نشے سے دُور رہنے کے صرف لیکچر پلاتے رہے؟
(۵) کسی بھی منصوبے کو کامیاب بنانے میں ہر کسی کو دقّت ہے اپنے وقت کے احسن تقسیم یعنی ’ٹائم مینجمنٹ‘ میں۔ طلبہ سے لے کر بڑے لوگ اسی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چلا، بس ٹائم مینجمنٹ بگڑ گیا۔ دراصل یہ بگڑنے کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ نئے سال میں یہ ضرور سوچیں کہ وقت اور ترجیحات کی بہتر ترتیب کیلئے اب آپ کیا کرنے والے ہیں یا گزشتہ ناکامی بھرے برسوں کی غلطیوں کودُہرانے والے ہو ؟ نوجوانو!وقت کی منصوبہ بندی کو کامیابی سے کرنے کا سلیقہ آجانا بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے کیونکہ وقت تو ہر ایک کے پاس مساوی ہوتا ہے۔ نئے سال میں یہ دعا بھی کرتے رہئے کہ اے اللہ ہمیں وقت کا بہترین اور مثبت استعمال کر پانے والوں میں شامل کر۔ 
(۶) نو جوانو! زندگی کی منصوبہ بندی کرتے وقت بڑی سنجیدگی سے یہ سوچئے کہ ہمیں تاریخ کے صفحات پر ایسے عظیم انسان بھی ملتے ہیں جو کہ محض ۵۰۔ ۵۵؍سال زندہ رہے اور اس مختصر سے عرصے میں کئی بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے، اُنھیں یہ کیسے ممکن ہوا جو ۸۵۔ ۹۰؍ سال عمر پانے والوں کو بھی ممکن نہیں ہو سکا تھا ؟ جواب یہ ہے کہ (الف) وہ بصیرت افروز افراد تھے (ب) اپنی زندگی کے اوائل میں ہی اپنی زندگی کاہدف اُنہوں نے طے کرلیا تھا۔ (ج) زندگی بھر اپنے ہدف پر مرتکز یا فوکس رہے اور(د)غالباً انھیں شعوری یا لاشعوری طور پر یہ احساس بھی تھا کہ اُن کے پاس وقت بہت کم ہے اسلئے بڑی تیز رفتاری سے وہ اپنے ہدف کی طرف بڑھتے گئے اور مختصر زندگی پانے کے باوجود وہ آج بھی تاریخ کے صفحات پر زندہ ہیں۔ 
(۷) آخر ی بات جسے ہم بار بار دہراتے ہیں کہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ اُس کو انجام دینے کے ساتھ ہی دوسروں کی زندگی میں کوئی روشنی نہیں بکھیرتے، لہٰذ ا حقیقی کامیابی اور ذہنی سکون کیلئے چاہئے کہ ہم اپنے منصوبے میں دوسروں کو بھی فیض پہنچانا شامل رکھیں۔ منصوبے کا خاکہ تیار کرتے وقت یہ ہمیشہ یاد رکھئے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK