ایک زمانہ تھا جب کوکن کی بچی صبح گاؤں کے مکتب اور پھر مقامی اسکول تک جاتی تھی۔ آج اسی تعلیمی روایت کی اگلی نسلیں امریکہ، برطانیہ اور دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 4:30 PM IST | Begum Rehana Ahmed | Mumbai
ایک زمانہ تھا جب کوکن کی بچی صبح گاؤں کے مکتب اور پھر مقامی اسکول تک جاتی تھی۔ آج اسی تعلیمی روایت کی اگلی نسلیں امریکہ، برطانیہ اور دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔
آج جب ہم کوکن کی مسلم خواتین کو تعلیم، تدریس، طب، قانون، انجینئرنگ، بینکاری، ٹیکنالوجی، فنون اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرتے دیکھتے ہیں تو بظاہر یہ موجودہ دور کی ترقی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم اس سفر کی جڑوں تک پہنچیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کامیابی کسی ایک دن، ایک دہائی یا ایک نسل کی کہانی نہیں بلکہ ایک صدی سے زیادہ عرصے پر محیط علم دوستی، شعور، تربیت اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔میں تقریباً ۷۵؍ برس پہلے کے زمانے کی بات کر رہی ہوں۔
وہ دور آج سے بہت مختلف تھا۔ وسائل محدود تھے، آمد و رفت آسان نہ تھی، ہر جگہ اعلیٰ تعلیمی سہولتیں میسر نہ تھیں اور عموماً بچوں کو پانچ یا چھ برس کی عمر میں باقاعدہ اسکول میں داخل کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود کوکن، بالخصوص رتناگیری اور اطراف کے علاقوں میں، تعلیم کی اہمیت کا احساس بہت پہلے سے موجود تھا۔میری اپنی ابتدائی تعلیم بھی پانچویں جماعت تک کوکن ہی میں ہوئی۔ اسلئے میں اس ماحول کا ذکر محض سنی سنائی تاریخ کی بنیاد پر نہیں کر رہی، بلکہ یہ میری اپنی زندگی، میری یادوں اور میری آنکھوں سے دیکھے ہوئے ایک دور کی داستان ہے۔کوکن کے تعلیمی مزاج کی سب سے خوب صورت خصوصیت یہ تھی کہ وہاں دینی اور عصری تعلیم کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا معاون سمجھا جاتا تھا۔صبح کا آغاز مکتب سے ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’ڈارک ٹورزم‘ سیاحتی شعبے کا تجربہ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے
بچے سویرے اٹھتے، مکتب یا مدرسے جاتے، قرآنِ مجید پڑھتے، عربی اور اردو کی بنیادی تعلیم حاصل کرتے، نماز اور دینی آداب سیکھتے۔ پھر گھر واپس آتے، ناشتہ کرتے، اسکول کیلئے تیار ہوتے اور اپنی عصری تعلیم حاصل کرنے نکل جاتے۔یوں کوکن کے ایک عام بچے کی زندگی میں مکتب بھی تھا اور اسکول بھی؛ قرآن بھی تھا اور نصابی کتاب بھی؛ دین کی تربیت بھی تھی اور دنیا میں آگے بڑھنے کی تیاری بھی۔ ایک ہاتھ میں قرآن، دوسرے میں نصابی کتاب ہوتی تھی۔
ہماری والدہ، خالائیں اور خاندان کی دوسری خواتین نے بھی اسی ماحول میں تربیت پائی تھی۔ ان کی رسمی تعلیم شاید آج کے معیار کے مطابق بہت اعلیٰ نہ رہی ہو، لیکن ان کا علمی شعور ہرگز محدود نہیں تھا۔ وہ قرآن پڑھتی تھیں، اردو جانتی تھیں، دینی کتابوں سے واقف تھیں اور سب سے بڑھ کر انہیں پڑھنے کی قدر معلوم تھی۔یہی وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنی اگلی نسل کو کتاب سے جوڑا۔ہمارے گھر میں ’انقلاب‘ کا انتظار ہوتا تھا۔جب ہم اعلیٰ اور بہتر تعلیم کیلئے بمبئی منتقل ہوئے تو کوکن سے ساتھ لایا ہوا مطالعے کا یہ ذوق ہمارے گھر میں اور بھی پروان چڑھا۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ اردو کا روزنامہ ’انقلاب‘ ہمارے گھر میں محض ایک اخبار نہیں تھا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔
میری والدہ اور خالہ اخبار کا انتظار کیا کرتی تھیں۔ اسے بڑی دلچسپی سے پڑھتیں اور جب کوئی اچھا مضمون یا اہم خبر نظر آتی تو ہم بچوں کو ضرور کہتیں:’’یہ ضرور پڑھنا، اس میں بہت اچھی بات لکھی ہے۔‘‘
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک معمولی سا جملہ نہیں تھا۔وہ ایک نسل کا دوسری نسل کو علم کی طرف متوجہ کرنا تھا۔پھر آہستہ آہستہ ناول اور دوسری کتابیں پڑھنے کا شوق بھی بڑھا۔ میں انجمن کی لائبریری سے کتابیں اور ناول لے کر آتی تو میری والدہ، خالہ اور گھر کی دوسری خواتین میں ایک خوش گوار سی بے قراری رہتی کہ کتاب پہلے کس کے ہاتھ آئے گی۔کتاب ختم ہوتی، دوسری خاتون کے ہاتھ میں پہنچ جاتی؛ اس پر گفتگو ہوتی، خیالات کا تبادلہ ہوتا اور یوں مطالعہ زندگی کا حصہ بنتا چلا جاتا۔
گھر کے مرد حضرات بھی مطالعے سے وابستہ تھے۔ ٹائمز آف انڈیا، فری پریس جرنل اور دیگر اخبارات پڑھے جاتے، بالخصوص کرکٹ، ملکی اور عالمی خبروں میں دلچسپی رہتی۔یوں ہمارے گھروں میں قرآن بھی پڑھا جاتا تھا، اخبار بھی؛ اردو بھی تھی، انگریزی بھی؛ دینی شعور بھی تھا اور دنیا کو جاننے کی جستجو بھی۔ یہ صرف میرے اپنے ایک گھر کی کہانی نہیں تھی۔ کوکن کے بہت سے خاندانوں میں کم و بیش یہی علمی فضا موجود تھی۔شاید اسی لیے آج تصویر اتنی روشن ہے۔
آج اگر ممبئی اور مہاراشٹر کے تعلیمی اداروں میں نظر دوڑائی جائے تو ایک بات بہت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔درس و تدریس کے شعبے میں کوکن سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑی تعداد۔اردو میڈیم ہو، انگریزی میڈیم ہو یا مراٹھی میڈیم، کوکنی خواتین نے کامیاب معلمات، صدر مدرسات، پرنسپلز، پروفیسرز اور ماہرینِ تعلیم کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی ہے۔اور یہ محض ایک اتفاق نہیں۔جس معاشرے نے کئی نسلیں پہلے اپنی بیٹی کے ہاتھ میں کتاب دی تھی، آج اسی معاشرے کی بیٹیاں دوسروں کے ہاتھوں میں کتاب دے رہی ہیں۔یہی تو تعلیم کا تسلسل ہے۔
کوکن کی کتنی ہی خواتین نے ایک عام طالبہ یا معلمہ کی حیثیت سے اپنا سفر شروع کیا اور اپنی محنت، قابلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر پرنسپل اور دیگر اعلیٰ عہدوں تک پہنچیں۔ انجمنِ اسلام سمیت ممبئی اور مہاراشٹر کے متعدد تعلیمی اداروں میں کوکنی خواتین نے نہ صرف پڑھایا بلکہ اداروں کی قیادت کی، نسلوں کی تربیت کی اور تعلیم کے چراغ کو آگے بڑھایا۔
زہرہ موڈک، فریدہ نائیک،صبا پٹیل،نجمہ قاضی،رشیدہ قاضی، خدیجہ شیخ، تنویر ناصر اور ایسی ہی متعدد خواتین کے نام اس طویل سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ ایک نام لیجیے تو اس کے پیچھے کئی اور نام سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دواؤں کی قیمتوں پر سپریم کورٹ میں سماعت نے ’علاج کی تجارت‘ کی قلعی کھول دی ہے
ایک پرنسپل کا ذکر کریں تو کئی اور پرنسپلز یاد آتی ہیں۔ایک پروفیسر کا نام لیں تو کئی اور نام سامنے آتے ہیں۔ایک ڈاکٹر، ایک وکیل، ایک انجینئر کا ذکر کریں تو کامیاب خواتین کی پوری ایک نسل نظر آنے لگتی ہے۔یہی کوکن کی اصل کامیابی ہے۔وقت کے ساتھ کوکن کی بیٹیوں نے اپنی صلاحیتوں کو صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا۔انہوں نے طب کا میدان اختیار کیا، قانون پڑھا، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں قدم رکھا، بینکاری اور انتظامی شعبوں میں مقام بنایا اور دنیا کے مختلف پیشوں میں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔قانون اور عدلیہ کے میدان میں بھی کوکن سے وابستہ خواتین نے قابلِ ذکر پیش رفت کی۔ درس و تدریس سے عدالت، طب اور فنون تک۔
اسی طرح فنون، ادب اور سنیما کے میدان میں بھی کوکن اور اس کے تعلیمی اداروں سے وابستہ خواتین نے اپنی شناخت قائم کی۔ ایسی خواتین کی کامیابیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ تعلیم انسان کو صرف ملازمت کیلئے تیار نہیں کرتی؛ تعلیم اس کے اندر پوشیدہ صلاحیت کو پہچاننے اور اس کے اظہار کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب کوکن کی ایک بچی صبح اپنے گاؤں کے مکتب اور پھر مقامی اسکول تک جاتی تھی۔آج اسی تعلیمی روایت کی اگلی نسلیں امریکہ، برطانیہ، افریقہ، خلیجی ممالک اور دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔وہاں کوکنی خواتین ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، وکیل ہیں، بینکر ہیں، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہیں، تعلیم و تحقیق سے وابستہ ہیں اور بے شمار دوسرے پیشوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔لیکن اس کامیابی کا ایک اور نہایت اہم پہلو بھی ہے۔یہ خواتین صرف اپنی ذاتی کامیابی کی داستان نہیں لکھ رہیں۔ وہ اپنے خاندان کی معاشی ذمہ داریوں میں شریک ہیں، اپنے شریکِ حیات کا ساتھ دے رہی ہیں، اپنے والدین کا سہارا بن رہی ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں وہی کردار ادا کر رہی ہیں جو کبھی ان کی ماؤں اور نانیوں نے ادا کیا تھا۔گویا علم کا وہ چراغ جو ایک نسل نے جلایا تھا، دوسری نسل نے بجھنے نہیں دیا۔اداروں نے بھی اس خواب کو قوت دی۔ اس پورے سفر میں تعلیمی اداروں اور انجمنوں کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
کوکن اور ممبئی میں متعدد قدیم تعلیمی اداروں نے اردو اور جدید تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخی تحقیق بھی یہ بتاتی ہے کہ کوکن میں اردو تعلیم کی جڑیں انیسویں صدی تک جاتی ہیں اور بیسویں صدی میں مختلف تعلیمی انجمنوں کے قیام کے ساتھ یہ سلسلہ مزید وسیع ہوا۔یہ روایت وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی بلکہ مزید مضبوط ہوئی۔ مہاراشٹر میں اردو ذریعۂ تعلیم کا ایک وسیع نظام قائم ہوا، اور دستیاب تعلیمی اعداد و شمار میں طالبات کی نمایاں شرکت بھی سامنے آتی ہے۔کوکن کے رتناگیری، رائے گڑھ، تھانے اور سندھودرگ جیسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کی تعلیم، طب، سائنس، ٹیکنالوجی، سماجی خدمت، ادب اور فنون سے متعلق خدمات کو باقاعدہ دستاویزی شکل دینے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوکن میں علم کی یہ روایت محض چند خاندانوں یا چند شخصیات تک محدود نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ ایک اجتماعی تہذیبی سرمایہ بن گئی۔
یہ بھی پڑھئے:کوکن: قدرتی حسن، تہذیبی رنگا رنگی اور ہمہ جہت ترقی کا خطہ
اسی لیے میرا پختہ یقین ہے کہ کوکن کی مسلم خواتین کی تعلیمی ترقی کو صرف آج کی کامیابی کہہ دینا اس تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔اس کی بنیاد بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔یہ بنیاد اُس ماں نے رکھی تھی جو خود محدود تعلیم کے باوجود اپنی بیٹی کو اسکول بھیجتی تھی۔اُس خالہ نے رکھی تھی جو اردو اخبار پڑھ کر اپنی بھانجی سے کہتی تھی:’’یہ مضمون ضرور پڑھنا۔‘‘اُس بچی نے اسے مضبوط کیا جو صبح قرآن پڑھنے مکتب جاتی تھی اور پھر کتابیں اٹھا کر اسکول روانہ ہوتی تھی۔ اُس معلمہ نے اسے آگے بڑھایا جو تعلیم حاصل کرکے دوبارہ کلاس روم میں لوٹی اور دوسری بچیوں کو پڑھانے لگی۔اور پھر اُسی سلسلے سے پرنسپل، پروفیسر، ڈاکٹر، وکیل، جج، انجینئر، بینکر، فنکار اور دوسری باصلاحیت خواتین سامنے آتی چلی گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ کوکن کی مسلم عورت کی کامیابی کی کہانی کسی ایک کامیاب خاتون کی کہانی نہیں ہے۔ یہ نسلوں کی کہانی ہے۔ایک نسل نے قرآن پڑھایا۔ایک نسل نے اردو سے محبت دی۔ایک نسل نے اسکول اور کالج کا راستہ دکھایا۔ ایک نسل نے تدریس اور پیشہ ورانہ میدانوں میں قدم رکھا۔ اور آج کی نسل دنیا کے مختلف گوشوں میں اپنی قابلیت کا پرچم بلند کر رہی ہے۔ سوچئے! کتنا دلخوش کن ہے یہ!
آج جب میں تقریباً ۷۵؍ برس پیچھے مڑ کر اپنے بچپن کے کوکن کو دیکھتی ہوں اور پھر آج کی تعلیم یافتہ، خود اعتماد اور باصلاحیت کوکنی عورت کو دیکھتی ہوں تو دونوں تصویروں کے درمیان مجھے ایک مضبوط رشتہ دکھائی دیتا ہے۔علم کا رشتہ۔وہ چھوٹی سی بچی جو کبھی صبح مکتب جاتی، قرآن پڑھتی اور پھر بستہ لے کر اسکول روانہ ہوتی تھی، شاید اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ وہ صرف اپنی تعلیم حاصل نہیں کر رہی؛ وہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک راستہ بنا رہی ہے۔آج اسی راستے پر ہزاروں قدم آگے بڑھ چکے ہیں۔
کوکن کی بیٹیاں اپنے گاؤں سے نکل کر ممبئی پہنچیں، ممبئی سے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچیں اور پھر دنیا کے مختلف ممالک تک اپنی صلاحیت، محنت اور علم کی روشنی لے گئیں۔اسی لیے کوکن کی مسلم خواتین کی یہ داستان صرف ترقی کی داستان نہیں؛یہ تہذیبِ علم کی داستان ہے۔یہ ماؤں کی دور اندیشی کی داستان ہے۔یہ کتاب سے محبت کی داستان ہے۔یہ مکتب اور مدرسے سے وابستگی کی داستان ہے۔یہ اسکول اور کالج کے خواب کی داستان ہے۔اور سب سے بڑھ کر، یہ بیٹی پر اعتماد کرنے کی داستان ہے۔کیونکہ ہمارے بزرگ شاید بہت پہلے اس حقیقت کو سمجھ گئے تھے کہ بیٹے کو تعلیم دینا ایک فرد کو تعلیم دینا ہے،لیکن ایک بیٹی کو علم سے آراستہ کرنا آنے والی نسلوں کو روشن کرنا ہے۔
اور آج کوکن کی تعلیم یافتہ، باوقار اور کامیاب خواتین اس صدی پرانی سوچ کا زندہ ثبوت ہیں۔یہ چراغ آج نہیں جلا۔اسے ہماری ماؤں، نانیوں اور دادیوں نے روشن کیا تھا۔ہماری نسل نے اسے سنبھالا،اور آج ہماری بیٹیاں اس کی روشنی کو دنیا کے گوشے گوشے تک لے جا رہی ہیں۔یہی کوکن کی علمی میراث ہے۔یہی اس کی اصل دولت ہے۔اور یہی اس کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔