جدید دَور علم اور روشنی کا دور ہے۔ پرانے زمانے میں تعلیم ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی۔ اب عام آدمی میں بھی علم حاصل کرنے کا جذبہ ہے اور جب وہ پڑھنا لکھنا سیکھ لے گا تو ادب کی چاشنی سے بھی لطف اندوز ہونے کی کوشش کرے گا۔
EPAPER
Updated: June 28, 2026, 12:52 PM IST | Dr. Karimuddin Ahmed | Mumbai
جدید دَور علم اور روشنی کا دور ہے۔ پرانے زمانے میں تعلیم ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی۔ اب عام آدمی میں بھی علم حاصل کرنے کا جذبہ ہے اور جب وہ پڑھنا لکھنا سیکھ لے گا تو ادب کی چاشنی سے بھی لطف اندوز ہونے کی کوشش کرے گا۔
کبھی کبھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آج کے دَور میں ادب کی افادیت کیا ہے؟ غالباً اس نقطۂ نظر سے کہ موجودہ دور مصروفیت کا دَور ہے یا سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور سوال اٹھانے والوں کے ذہن میں یہ بات بھی ہوتی ہے کہ ادب کوئی بیکاری کا مشغلہ ہے۔ ادب بے کاری کا مشغلہ نہیں بلکہ انسان کے کسی چیز سے لطف اندوز ہونے کی حس کو تسکین پہنچانا ہے۔ یہ کائنات اور اس کا حسن لطف اندوز ہونے کے لئے ہی تو ہے اور کسی چیز سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت سب سے زیادہ انسان میں ہے۔ اس کے لئے فرصت بھی چاہئے اور موجودہ دور اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی سے انسانی زندگی کو آسان اور بہتر بنا رہا ہے، مصروف ہونے کے باوجود انسان کی لطف اندوزی کی حس کی تسکین کیلئے وقت بھی مہیا کررہا ہے۔ پہلے اپنی مادی ضروریات پوری کرنے کیلئے زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا تھا، اب جدید ٹیکنالوجی اور مشینوں نے اس کا کام آسان بنا دیا ہے۔ مادی تسکین کے ساتھ ساتھ اب روحانی تسکین کے لئے پہلے سے زیادہ ادب اور آرٹ کی ضرورت ہے۔ مستقبل ہمیں یہ امید دلاتا ہے کہ محنت کشوں کے اوقاتِ کار میں کمی ہوگی اور انہیں اپنی روحانی تسکین کے لئے ادب کی زیادہ ضرورت ہوگی۔
جدید دَور علم اور روشنی کا دور ہے۔ پرانے زمانے میں تعلیم ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی۔ اب عام آدمی میں بھی علم حاصل کرنے کا جذبہ ہے اور جب وہ پڑھنا لکھنا سیکھ لے گا تو ادب کی چاشنی سے بھی لطف اندوز ہونے کی کوشش کرے گا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں آٹھویں نویں میں پڑھتا تھا اس وقت دیوانِ غالب میں یہ شعر پڑھا:
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر
تو مجھے بڑا مزہ آیا۔ اُس وقت میں جن مادی تکالیف کا شکار تھا یعنی کھانے پینے کی تکلیف، اس کا کوئی علاج میرے پاس نہ تھا اور نہ میرے خاندان والوں کے پاس تھا مگر غالبؔ کے اس شعر نے مجھے جو تسکین پہنچائی اور جو سکون بخشا وہ مجھے آج تک یاد ہے۔ غالبؔ نے میرے روٹی کپڑے کا مسئلہ حل نہیں کیا مگر مجھے ذہنی طور پر اس سطح پر لا کھڑا کیا جہاں تکلیف، تکلیف نہیں ر ہتی۔ ادب انسان کو ایسا ہی سکون پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل کے سامنے تخلیقی فنکار کی بحالی کا ایک بڑا مسئلہ ہے
انوریؔ نے کہا تھا کہ آسمان سے جو بھی مصیبت آتی ہے وہ انوریؔ کا گھر تلاش کرتی ہوئی آتی ہے۔ مصیبتیں اور بلائیں چاہے ارضی ہوں یا سماوی یا انسان کی اپنی پیدا کی ہوئی، ان سب کا مقابلہ انسانوں ہی کو کرنا پڑتا ہے اور انسان نے مصیبتوں پر قابو پا کر جینا سیکھ لیا ہے لیکن ان مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اسے ادب ہی عطا کرتا ہے۔ ادب انسان میں وہ ہمت اور شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ ہر مصیبت پر قابو پالیتا ہے۔ ادیب کی سوچ ذاتی ہوتی ہے مگر اس کی عطا کی ہوئی دولت آفاقی۔ تو ادب کا ایک کام انسانی ذات کی رہنمائی کرنا اور اس کے دکھوں کا علاج کرنا ٹھہرا۔ علاج ان معنوں میں نہیں جن میں حکیم یا ڈاکٹر علاج کرتے ہیں بلکہ ان معنوں میں کہ اسے دکھوں سے لڑنے کی جرأت عطا کرے۔ ادب انسانوں میں دکھوں سے لڑنے کی ہمت پیدا کرتا ہے اور دکھ دکھ نہیں رہتے بلکہ دوا بن جاتے ہیں۔ اسی لئے تو غالب نے کہاتھا :
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
غالبؔ ہو یا ہیوگوؔ، سب کا کام ایک ہے۔ سوسائٹی کے دکھ ہوں یا ذات کے، سب کا تذکرہ اس انداز میں کیا جائے کہ ان کی حقیقت آفاقی ہوجائے اور پڑھنے والے میں پست ہمتی نہ پیدا ہو بلکہ اس کے حوصلے اور ہمت کو بلند کیا جائے۔ وہ ان دکھوں سے لطف اندوز بھی ہو اور اس کا علاج بھی سوچے۔ ایک طرح سے یہ نیکی اور بدی کی جنگ معلوم ہوتی ہے اور ادب کے پڑھنے والے اس جنگ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ جنگ ادیب کے اپنے وجود میں بھی جاری رہتی ہے اور وہ اسے خارج میں بھی دیکھتا ہے۔ ایسی ہی جنگوں کی منظرکشی ادب عالیہ کو جنم دیتی ہے۔ ادیب کے اندر کی جنگ کو ہم اکثرداخلیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیا ہوتی ہے یہ جنگ؟ اور فنکار کس طرح اس سے نبردآزما ہوتا ہے؟ میرؔ نے کہا تھا:
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہوگیا ہے
کیا ہوتا ہے یہ دل کا جانا؟ کیا ہوتا ہے یہ سانحہ؟ ایک ایسی واردات جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں پھر بھی اس کے اظہار کے لئے الفاظ ہی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ عشق اور محبت ایسی کیفیت ہے کہ دو چاہنے والی شخصیتیں بھی ایک دوسرے تک اپنے احساسات نہیں پہنچا سکتیں۔ اسی لئے تو سارتر نے کہا تھا کہ کامل محبت ناممکنات میں سے ہے اس لئے دو شخصیتیں کبھی بھی ایک نہیں بن سکتیں، ہاں اس کی آرزو میں اَن بن ضرور ہوتی ہے۔
ادب کا کام سائنسداں کے کام سے ذرا مختلف ہے۔ دونوں ہی انسانی معاشرے کو خوش و خرم رکھنے کا خواب دیکھتے ہیں لیکن دونوں کے کام کی نوعیت مختلف ہے۔ سائنسداں کا کام نظری بھی ہے اور عملی بھی۔ اس کے نظریات لیباریٹری کے تجرباتی عمل سے گزرتے ہیں۔ اس دوران ان میں ترمیم بھی ہوتی ہے۔ پھر کئی سائنسداں مل کر ایک تجربہ کرسکتے ہیں ، پھر مختلف ملکوں میں ایک ہی قسم کا تجربہ کیا جاسکتا ہے اس لئے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے ان کا آپس میں ملنا اور بحث و مباحثہ کرنا ضروری ہے۔
لیکن ادیب کا کام اس کے دماغ کے کارخانے میں پرورش پاتا ہے۔ اس پر اس کے اپنے زمانے کی سوسائٹی یا ماحول کا بالواسطہ یا بلاواسطہ دخل تو ہوسکتا ہے لیکن اختراع اس کے اپنے دماغ کی ہوتی ہے۔ اس کی زبان بھی اپنی ہوتی ہے اور تجربات بھی اپنے، اسی لئے کئی ادیب مل کر کوئی ادبی تخلیق نہیں کرسکتے، یا یوں سمجھئے کہ کئی ادیب مل کر کوئی ایک ناول نہیں لکھ سکتے یا کئی شاعر مل کر کوئی ایک غزل نہیں کہہ سکتے جبکہ کئی سائنسداں مل کر کسی ایک مفروضے پر کام کرسکتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ادب کا کام اپنی نوعیت کے لحاظ سے سائنس کے کام سے مختلف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردو زبان کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟
ادیب اور فنکار کو اپنی اس بھاری ذمہ داری کا احساس رہتا ہے اور یہی احساس اسے خوب سے خوب تر کی تلاش میں منہمک رکھتا ہے۔ شاعر ہو یا ادیب، ایک طرح سے حسن کی تخلیق کرتا ہے۔ اسی لئے تو شاعر کہتا ہے:
بارے دنیا میں رہو، غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
اور زمانہ ان ہی لوگوں کو بہت یاد رکھتا ہے جو اسے حسن اور خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔ یہ الفاظ کے ذریعے ہو یار نگ کے یا آہنگ کے۔
دنیا کوبہتر بنانا اور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانا انسانوں کا کام ہے اور دنیا اسی وقت بہتر ہوسکتی ہے جب یہاں سے تضادات کا خاتمہ ہو جائے اور تمام انسان ایک آہنگ یا لڑی میں پرو دیئے جائیں۔ ادب کا یہی کام ہے۔
ادب کا پیغام محبت ہے۔ شریف انسانی جذبات اور بلند انسانی خیالات کی ترجمانی۔ لائی جائی فس کا خیال ہے کہ اعلیٰ خیالات اور ارفع زبان کے بغیر اچھا ادب تخلیق ہی نہیں پاتا اور اعلیٰ خیالات اور ارفع زبان انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور انہیں ایک لڑی میں پروتی ہے۔ اس لئے اعلیٰ ادب صرف اس زبان کے جاننے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانیت کی میراث بن جاتا ہے۔ اس کا پیغام ہر اس آدمی کے لئے ہے جو اسے سمجھے اور اس سے لطف اندوز ہو، چاہے وہ دنیا کے کسی حصے اور کسی زمانے میں ہو۔ یہی فن پارہ زمان و مکان کی سرحدوں کو لانگ جاتا ہے۔ یہی انسانیت کا پیغام ہے اور یہی ادب کا پیغام۔ ادب کے حق میں یہ بڑی سند ہے۔
ادب کا لطیفؔ ہو یا شیرازؔ کا حافظؔ یا دلی کا میرؔ، سب کا پیغام ایک ہے…محبت۔ اور محبت ہی وہ جذبہ ہے جو انسانوں میں یگانگت اور آہنگ پیدا کرتا ہے۔ امن بھی محبت کے پیغام سے قائم ہوتا ہے اور امن کے بغیر دنیا کی ترقی ممکن نہیں۔ تو ادیب دنیا کو ایسی ہی محبت کا پیغام دیتا ہے جس کے بغیر نہ انسانی وجود ممکن ہے اور نہ ترقی۔