Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایندھن سستا، فضائی حدود بحال رہیں تو پروازیں دوبارہ بڑھا سکتے ہیں: ایئر انڈیا

Updated: June 27, 2026, 10:13 PM IST | New Delhi

ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر کیمبل ولسن نے کہا ہے کہ اگر ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتیں کم رہیں اور مغربی ایشیا میں فضائی حدود کی صورتحال مزید بہتر ہوئی تو ایئر لائن حالیہ مہینوں میں کم کی گئی بین الاقوامی اور گھریلو پروازوں کو مرحلہ وار بحال کر سکتی ہے۔ گزشتہ ماہ ایئر انڈیا نے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور فضائی حدود کی پابندیوں کے باعث بین الاقوامی پروازوں میں ۲۷؍ فیصد اور گھریلو آپریشنز میں ۲۲؍  فیصد کمی کی تھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر کیمبل ولسن نے جمعہ کو کہا ہے کہ اگر ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتیں کم رہیں اور مغربی ایشیا کے تنازعے سے متعلق فضائی حدود کی پابندیاں مزید نرم ہوتی رہیں تو ایئر لائن گزشتہ چند مہینوں کے دوران کم کیے گئے اپنے پروازی شیڈول کا کچھ حصہ بتدریج بحال کر سکتی ہے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، ایئر انڈیا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے باعث فضائی راستے دوبارہ دستیاب ہو رہے ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی تناظر میں کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو حالیہ مہینوں میں کی گئی پروازوں کی کٹوتیوں کو مرحلہ وار واپس لیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوگی کا دورۂ علی گڑھ: اے ایم یو میں لاؤڈ اسپیکر پراذان کی مبینہ معطلی، طلبہ برہم

ٹاٹا گروپ کی ملکیت والی ایئر لائن نے گزشتہ ماہ اپنے بین الاقوامی آپریشنز میں ۲۷؍ فیصد کمی کا اعلان کیا تھا کیونکہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اہم فضائی راہداریوں میں خلل ڈالا اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ ایئر لائن نے اپنے گھریلو آپریشنز میں بھی عارضی طور پر ۲۲؍ فیصد کمی کی تھی تاکہ بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔ اس فیصلے کے تحت جون سے اگست کے دوران متعدد روٹس پر پروازوں کی تعداد کم کی گئی تھی۔
ملازمین کے نام اپنے پیغام میں کیمبل ولسن نے کہا کہ بہتر ہوتی جغرافیائی سیاسی صورتحال نے ایئر لائن کے آپریشنز پر دباؤ کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مشرقِ وسطیٰ کا تنازعہ کم ہو گیا ہے اور، اگرچہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ دوبارہ شدت اختیار نہیں کرے گا، لیکن زیادہ مستحکم ماحول نے مزید فضائی حدود کو دستیاب ہونے اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کی اجازت دی ہے۔‘‘ ولسن نے مزید کہا کہ ’’اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو ہم حالیہ مہینوں میں کیے گئے شیڈول میں کچھ کمی کو واپس لے سکتے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب بھی میری طرح اس دن کا جلد انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سرکاری اسپتال کے ۵؍ ڈاکٹروں کا بیک وقت استعفیٰ

مغربی ایشیا کے تنازعے کے دوران ایئر انڈیا سمیت کئی عالمی ایئر لائنز کو خطے کے بعض حصوں میں فضائی حدود بند ہونے کے باعث پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا یا بعض خدمات عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں۔ اسی دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایوی ایشن ٹربائن فیول کو مہنگا کر دیا، جو کسی بھی ایئر لائن کے مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا ۴۰؍ فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے۔ اب ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور مزید فضائی حدود کھلنے کے بعد ایئر لائنز دوبارہ اپنے بین الاقوامی روٹس کا جائزہ لے رہی ہیں۔ کیمبل ولسن نے بتایا کہ ایئر انڈیا کا فلیٹ ماڈرنائزیشن پروگرام بھی منصوبے کے مطابق جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رام مندر کے ٹرسٹی چمپت رائے مستعفی، ڈرائیور گرفتار

ان کے مطابق رواں سال تقریباً آٹھ نئے یا ریٹروفٹڈ وائیڈ باڈی طیارے ایئر لائن کے بیڑے میں شامل ہوں گے، جن میں ایک نیا بوئنگ طیارہ بھی شامل ہے، جو اسی ہفتے سروس کا حصہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان طیاروں کی شمولیت کے ساتھ ہم مسلسل بہتری اور صارفین کی جانب سے مزید مثبت ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔‘‘ ایئر انڈیا کی جانب سے یہ اشارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی فضائی صنعت اب بھی جغرافیائی کشیدگی، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور فضائی حدود کی بندش جیسے چیلنجز سے نمٹ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK