Inquilab Logo Happiest Places to Work

مانگے کی کتابیں

Updated: June 28, 2026, 12:55 PM IST | Kanhaiya Lal Kapoor | Mumbai

۲۷؍جون کو معروف معروف طنز و مزاح نگار، اپنی سلیس زبان اور سماجی ناہمواریوں پر گہرے طنز کے لئے مشہور کنہیالال کپور کا یومِ ولادت تھا۔ اسی مناسبت سے ان کی یہ تحریر پیش ہے ہرچند کہ اب کتابوں سے دوری عام ہے لیکن زیرنظر انشائیہ پڑھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے کتابوں کے تئیں محبت کا کیا عالم ہوا کرتا تھا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

انجیل مقدس میں آیا ہے کہ کتابوں کی انتہا ہے نہ ان کا شمار! یہی وجہ ہے کہ ان اشخاص کو بھی جن کے پاس کتابوں کے ذخائر ہیں، کچھ نہ کچھ کتابیں مانگ کر پڑھنی پڑتی ہیں۔ ایک اور طریقہ انہیں چرا کر پڑھنے کا بھی ہے لیکن چوری کوئی خاص اچھی عادت نہیں نیز پکڑے جانے کا بھی احتمال رہتا ہے اس لئے شرفاء کتابیں مانگنے کو کتابیں چرانے پر ترجیح دیتے ہیں۔ 
مانگنا بذات خود ایک ناخوشگوار فعل ہے۔ میں دعا مانگنے کے متعلق عرض نہیں کررہا، کپڑے، کتابیں اور ووٹ مانگنے کا ذکر کررہا ہوں۔ ہندی کے ایک شاعر نے کہا ہے: مانگنا ایک قسم کی اخلاقی موت ہے لیکن سائل کو انکار کرنا مانگنے سے بھی بدتر ہے۔ ‘‘ کتابیں مانگنے والے اس نکتے سے بخوبی واقف ہیں۔ کاش وہ حضرات بھی اس سے اتنے باخبر ہوتے جن سے کتابیں مانگی جاتی ہیں۔ 
ہمارے ایک دوست ہیں، جن سے جب ہم کوئی کتاب مانگتے ہیں ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ انکار بھی نہیں کرتے لیکن کتاب مستعار دینے پر آمادہ بھی نظر نہیں آتے حتیٰ کہ ان کے دلائل سن کر ہم یہ شعر پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں :
نہیں ہی کیوں نہیں کہتے زباں سے=نہیں کا کام کیوں لیتے ہو ’’ہاں ‘‘ سے
بڑی نارضامندی کے ساتھ وہ کتاب ہمارے حوالے کرتے ہیں، اسے لے کر ہم ابھی مشکل سے گھر پہنچتے ہیں کہ ان کا خادم یہ دریافت کرنے کے لئےحاضر ہوتا ہے کہ اگر ہم نے کتاب پڑھ لی ہو تو اسے واپس کردیں۔ بسا اوقات ہم اسےپڑھے بغیر واپس بھجوادیتے ہیں۔ ہمارے اس دوست کا عقیدہ ہے کہ اپنی گھڑی، اپنا قلم اور اپنی کتاب کسی شخص کو مستعار نہیں دینی چاہئے کیونکہ اول تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا اور اگر کیا جائے گا تو اس کا حلیہ بگاڑ کر۔ یہ جب کسی کمزوری کے لمحے میں کتاب مستعار دیتے ہیں تو ہدایت اور نصیحت کے ملے جلے انداز میں فرماتے ہیں : 
’’دیکھئے صاحب، یہ بڑی نایاب کتاب ہے، مرحوم داداجان کو ایک انگریز نے تحفے کے طور پر پیش کی تھی۔ خدابخشے، داداجان فرمایا کرتے تھے کہ کتاب موتیوں میں تولنے کے قابل ہے، اسے ذرا سنبھال کر رکھئے گا اور ہاں، پڑھتے وقت کسی صفحے پر روشنائیس ے نشان یا دھبہ مت لگائیے گا، بچوں سے اسے خاص طور پر بچا کر رکھئے گا، کہیں کوئی تصویر یا صفحہ اڑا نہ لے جائیں۔ دیکھئے، اس کتاب کی صرف دو جلدیں دستیاب ہیں، ایک تو برٹش میوزیم لندن میں ہے اور دوسری خاکسار کے پاس۔ ‘‘
لطف یہ کہ وہ ہر ایک کتاب کے بارے میں یہی کچھ کہتے ہیں حالانکہ جن کتابوں کو نایاب قراردیتے ہیں بڑی آسانی سے کسی بھی کتب فروش سے مل سکتی ہیں ۔ تاوقتیکہ انہیں کتاب واپس نہ مل جائے انہیں چین نہیں آتا۔ جب کبھی ملاقات ہوتی ہے، احتیاطاً پوچھ لیتے ہیں ’’کتاب محفوظ ہے نا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: مہکتے رشتے

ایک اور صاحب جنہیں ایک خاص تاریخ تک جس کا فیصلہ شروع میں کرلیا جاتا ہے، کتاب واپس نہ کی جائے تو طوفان کھڑا کردیتے ہیں۔ بھاگم بھاگ ہمارے ہاں آتے ہیں اور چھوٹتے ہی کہتے ہیں ’’دیکھو بھئی، آج پندرہ تاریخ ہے اور تم نے ہماری کتاب واپس نہیں کی۔ ‘‘ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہم بالکل بھول جاتے ہیں کہ ان کی کتاب پڑھ کر کہاں رکھ دی تھی، اس وقت ان کا غیظ و غضب دیکھنے کی چیز ہوتا ہے۔ اتنے کوسنے دیتے ہیں کہ ہم کان کو ہاتھ لگاتے ہیں کہ آئندہ بڑی سے بڑی حماقت کریں گے لیکن ان سے کتاب نہیں مانگیں گے۔ وہ شکایت آمیز لہجے میں کہے چلے جاتے ہیں ’’ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ آپ یہ کتاب ضرور گم کر دیں گے۔ دراصل آپ ایسے غیرذمہ دار اور لاپروا شخص کو کتاب مستعار دینا اس سے ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ آپ نے ضرور وہ کتاب ردی میں بیچ دی ہوگی۔ آپ پر تو مال مفت اور دل بے رحم والی مثل صادق آتی ہے۔ جب آپ مانگی ہوئی چیز کو سنبھال کر نہیں رکھ سکتے تو آپ کو مانگنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ ‘‘ ادھر ہم جھلا کر کہتے ہیں ’’آپ خوامخواہ پریشان ہورہے ہیں، کہیں مل جائیگی۔ ‘‘
’’بس، اب مل چکی کتاب۔ اگر اسے ملنا ہوتا تو گم ہی کیوں ہوتی۔ ہمیں تو آپ کے بجائے اپنے آپ پر غصہ آرہا ہے کہ ہم نے وہ کتاب آپ کو دی ہی کیوں تھی۔ ‘‘ اتنے میں ہمیں ان کی کتاب مل جاتی ہے۔ اسے دیکھ کر ان کی جان میں جان آتی ہے اور وہ ایک بار تسلی کرنے کے بعد کہ یہ وہی کتاب ہے، فرماتے ہیں ’’قسم ہے خداوندکریم کی اگر آئندہ آپ کو کبھی کتاب مستعار دی‘‘ اور ہم دل ہی دل میں عہد کرتے ہیں ’’لعنت ہے ہم پر اگر ہم نے آئندہ آپ سےکوئی کتاب مانگی۔ ‘‘
ہمارے ایک اور دوست کسی گمنام کالج میں پروفیسر ہیں۔ یہ پچھلے بارہ برس سے کسی گمنام موضوع پر ریسرچ کررہے ہیں۔ چونکہ ہر دوسرے سال ریسرچ کا موضوع بدل دیتے ہیں اس لئے ان کا تھیسس کبھی مکمل نہیں ہوپاتا۔ ان کے پاس لاتعداد پھٹی پرانی کتابیں ہیں جنہیں ہر وقت سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ یہ پہلے خود کسی کتاب کی حد سے زیادہ تعریف کرتے ہیں، پھر یہ بتاتے ہیں کہ انہیں یہ کتاب کس پنساری سے کون سا سفوف خریدتے وقت دستیاب ہوئی تھی، پھر اسے پڑھنے کی سفارش کرتے ہیں لیکن جب ہم پڑھنے کا اشتیاق ظاہر کرتے ہیں تو لیت و لعل کرنے لگتے ہیں۔ آخر یہ طے پاتا ہے کہ ہم یہ کتاب صرف ایک دن کیلئے لے جاسکتے ہیں لیکن ہمیں اسے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن احتیاط کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: نئی نسل کے سامنے تخلیقی فنکار کی بحالی کا ایک بڑا مسئلہ ہے

ایک دفعہ شامت ِ اعمال سے ان کی ایک بوسیدہ اور کرم خوردہ کتاب ہم سے ضائع ہوگئی۔ دراصل ہمارے نوکر نے اسے نہایت فضول تصنیف سمجھتے ہوئے چولھے میں جھونک دیا، بس پھر تو غضب ہوگیا۔ بہت سیخ پا ہوئے، دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ آٹھ آٹھ آنسو روتے اور کہتے تھے ’’آپ نے مجھے کہیں کا نہ رکھا، میں برباد ہوگیا۔ اس کتاب کی مدد سے مجھے موہنجوڈاروکی تہذیب پر تھیسس لکھنا تھا، اب میں عمر بھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل نہیں کر سکتا۔ ‘‘ ہم نے گڑگڑا کر معافی مانگی اور بہت دیر تک کتاب کے یوں ضائع ہوجانے پر اظہار تاسف کرتے رہے لیکن ان کی کسی طرح تسلی نہ ہوئی۔ اب ان کا یہ معمول ہوگیا کہ جہاں بھی ہوتے ہیں جس حال میں بھی ہوتے ہیں اس بات کا چرچا ضرور کرتے ہیں کہ ان کے ’’ڈاکٹر‘‘ نہ بننے کی تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے حالانکہ ہم بخوبی جانتے تھےکہ ہمارے علاوہ اس المیہ میں ان کی نااہلی کا بھی کافی ہاتھ ہے لیکن مصلحتاً چپ رہتے۔ 
کتابیں مانگنے کے سلسلے میں ہمارا تجربہ یہ ہے کہ کبھی اس شخص سے کتاب نہیں مانگنی چاہئے جو پرلے درجے کا سنکی ہو اور جس کو ہر وقت کتاب گم ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے۔ پرانی اور بوسیدہ کتاب نہیں مانگنی چاہئے کیونکہ اسے آپ کی بیوی یا نوکر ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا، وہ کتاب نہیں مانگنی چاہئے جس کا دنیا میں صرف ایک ہی نسخہ ہو کیونکہ اگر وہ گم ہوگئی تو کتاب کا مالک آپ کو حشر تک معاف نہیں کرے گا اور سب سے ضروری بات یہ کہ کتاب کبھی مانگنی ہی نہیں چاہئے، خرید کر پڑھنی چاہئے کہ اس طرح آپ کے علاوہ مصنفوں اور ناشروں کا بھی بھلا ہوگا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK