لسانیات کے عالموں نے دنیا کی زبانوں کو الگ الگ خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 12:46 PM IST | Syed Sibte Hasan | Mumbai
لسانیات کے عالموں نے دنیا کی زبانوں کو الگ الگ خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔
لسانیات کے عالموں نے دنیا کی زبانوں کو الگ الگ خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک خاندان انڈویورپین زبانوں کا ہے جس میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، یونانی، روسی، فارسی، پشتو، پنجابی، ہندی، اردو، بنگالی، راجستھانی، مراٹھی، اڑیہ اور گجراتی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے بولنے والوں کی تعداد ایک ارب ہے۔ دوسرا خاندان سامی حامی زبانوں کا ہے جس میں عبرانی، عربی، شامی، حبشہ کی قوشتی زبانیں، قدیم قطبی اورشمالی افریقہ کی دوسری زبانیں شامل ہیں۔ ان کے بولنے والوں کی تعداد آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ تیسرا خاندان یورال التائی زبانوں کا ہے۔ اس خاندان کی رکن ہے فن لینڈ کی فنش، اتھوپیا کی لستھونی، ہنگری کی گلیار، ترکی، منگول اورمنچوریا کی زبان۔ اس خاندان کی کل تعداد سات کروڑ ہے۔ چوتھا خاندان چینی تبتی زبانوں کا ہے۔ اس خاندان میں چینی، تبتی، برمی اور سیامی زبانیں شامل ہیں۔ ان زبانوں کے بولنے والوں کی کل تعداد ساٹھ کروڑ ہے۔ پانچواں خاندان جاپانی اورکورین کا ہے۔ چھٹا خاندان ملایا پولی نیشیا کا ہے۔ جس میں ملا گاسی، مادری، ملائی، انڈونیشی، فلپینو اور بحر الکاہل کے دوسرے جزیروں کی زبانیں ہیں۔ ساتواں خاندان دراوڑ زبانوں کا ہے جو جنوبی ہند میں بولی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ زبانوں کے ایک دو اور خاندان بھی ہیں لیکن وہ بہت چھوٹے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: چلے گئے محبِ اُردو نارنگ ساقی، ہم اُن کو روئیں گے، اُن کی کتابیں ہمیں ہنسائیں گی
اردوزبان انڈویورپی خاندان سے ہے۔ گو اب تک یہ دریافت نہیں ہوا ہے کہ انڈویورپی زبانوں کی مورث اعلیٰ کون سی زبان تھی مگر جدید زبانوں میں جو زبان اپنے مورث اعلیٰ سے سب سے قریب سمجھی جاتی ہے وہ لتھوائی زبان ہے جسے بحر بالٹک کے ساحل کے ۲۰؍ لاکھ باشندے بولتے ہیں۔ البتہ اس خاندان کی سب سے پرانی زبان سنسکرت ہے۔ اس کے بعد یونانی اور پھر لاطینی۔ سنسکرت کا سراغ دو ہزار ق م تک لگایا جا چکا ہے۔ اردو، ہندی، فارسی، پنجابی اور بنگالی کا شجرۂ نسب سنسکرت ہی سے ملتا ہے۔ (زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد تب کی ہے جب یہ مضمون لکھا گیا تھا)۔