Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی نسل کے سامنے تخلیقی فنکار کی بحالی کا ایک بڑا مسئلہ ہے

Updated: June 21, 2026, 11:26 AM IST | maz | Mazhar Imam

ہرچند کہ اس مضمون پر کافی وقت گزر چکا ہے، دہائیاں کہیں تو غلط نہ ہوگا مگر اس میں مضمون نگار نے نئی نسل کو جو مشورے دیئے ہیں وہ آج بھی اُتنے ہی اہم ہیں جتنے کل تھے۔ ان پر عمل ضروری ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ترقی پسند تحریک نے عصری سماجی حقیقتوں سے رشتہ جوڑنے کی کوشش تھی جس میں اسے خاطرخواہ کامیابی حاصل ہوئی اور کم و بیش پندرہ سال تک ہمارے یہاں مجموعی طور پر ایک عمدہ اور مقبولِ عام ادب پیدا ہوا۔ بعد میں تنگ نظری، ادعائیت، سیاسی سخت گیری وغیرہ اس تحریک کے زوال کا سبب بنیں اور ایک نیا رجحان ادب میں شدومد کے ساتھ ابھرا۔ اس نے ادب کا رشتہ ازسرِ نو فن سے جوڑنے کا بیرا اٹھایا اور نہایت اچھی تخلیقات سامنے آئیں۔ نئی نسل نے اس رجحان کو صدق دلی کے ساتھ قبول کہا۔ لیکن جدیدیت کی جانب سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اس نے اپنے اثبات کے لئے ترقی پسندی اور ترقی پسندو ں کے انہدام کو اپنا واحد نہ سہی، ایک بڑا مقصد قرار دیا اور انہی کے زنگ آلود ہتھیاروں سے خود کو لیس کرنے کی سعی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کئی معاملات میں ، ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں وہ اپنی چال بھی بھول گئے۔ میں نے اپنے ایک مضمون ’’آتی جاتی لہریں ‘‘ (مطبوعہ شب خون ۱۹۶۷ء) میں اس اندیشے کا اظہار کیا تھا:
’’جدید شاعروں میں ترقی پسندوں ہی کی طرح بلکہ ان سے بڑھی ہوئی شدت کے ساتھ گروہ بندی ہے اور توصیف باہمی کا جذبہ کارفرما ہے۔ نئی نسل کے مسائل سے گفتگو کرنے والے شعراء اور ناقدین بھی کٹرپن کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ان کے یہاں رواداری اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کا فقدان نظر آتا ہے۔ ‘‘
 افسوس کہ اس پر کسی نے توجہ نہ دی اور لوگ اپنی تیزروی اور طراری کے زعم میں انہیں حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے جو جدیدیت کے کاسہ لیس نہیں تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اردو زبان کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟

جیسا کہ میں نے عرض کیا، ترقی پسندی کے زوال کے بعد ایک بڑے رجحان جدیدیت کا عروج ہوا۔ ترقی پسندی کے اثرات نسبتاً دیر تک رہے۔ جدیدیت کے بعض ترجیحی ایجنڈوں سے انحراف جلد ہی شروع ہوگیا۔ ہمارے یہاں ’’۳۶ء کی نسل‘‘ اور ’’۶۰ء کے بعد کی نسل‘‘ کی اصطلاحیں عام طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔ یہاں تک تو غنیمت تھا، لیکن اب ۷۰ء کے بعد اور ۸۰ء کے بعد کی نسلیں بھی اپنے وجود پر اصرار کرنے لگی ہیں۔ شکر ہے اب تک ۹۰ء کے بعد کی نسل کا نام بطور اصطلاح نہیں سنا جارہا ہے۔ ’’یکم جنوری ۱۹۷۱ء‘‘ اور ’’یکم جنوری ۱۹۸۱ء‘‘ سے دو نسلیں سامنے آگئی ہیں اور انہیں شکایت ہے کہ ان کی شناخت نہیں ہورہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہیں وہ درجۂ اعتبار حاصل نہیں ہورہا ہے جو مثال کےطور پر جدیدیت کے ابتدائی دَور میں بعض لکھنے والوں کو حاصل ہوگیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ شکایت انہیں دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے ہونی چاہئے۔ جدیدیت کے پاس اپنے نقاد اور اپنے مبلغ تھے۔ ایک بڑا آرگن تھا۔ جدید تر نسل کے پاس اپنے نقاد نہیں ہیں۔ بعض نئے لکھنے والے جو تنقیدی نوعیت کے مضامین لکھ رہے ہیں، انہیں فہرست سازی سے زیادہ دلچسپی ہے اور خود کو اور اپنے بہت قریبی دوستوں کو نمایاں کرنے کا شوق ہے۔ اچھے ادب کی پرکھ اور اس کی طرف توجہ دلانے کا کام نہیں ہورہا ہے۔ بعض عمدہ نئے رسالے نکل رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر نئے لکھنے والوں کی تخلیقات شائع ہورہی ہیں اور انہی کے توسط سے بعض نام ذہن کے پردے پر روشن ہونے لگے ہیں۔ ان میں کسی رسالے یا کچھ رسالوں کو اعتبار اور استحکام حاصل ہوا تو نئے لکھنے والوں کے حق میں فال نیک ثابت ہوگا۔ ادب کا کام بہت صبر و استقلال کا تقاضا کرتا ہے۔ تخلیقی قوت کو مطالعہ، مشاہدہ اور تجربے سے Reinforce کرتے رہنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ہر نئے لکھنے والے کو اپنا محاسبہ بھی کرتے رہنا چاہئے۔ 
میں ادب پر کوئی لیبل لگانے کے حق میں نہیں ہوں۔ آپ اخترالایمان، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین کو کس خانے میں رکھیں گے، ترقی پسند؟ جدید؟ ان لیبلوں کے بغیر ہی ان کی بڑائی کا اعتراف ہوا ہے لیکن ہمارا ذہن رجحانات کے حوالے سے سوچنے پر اتنا Conditioned ہوگیا ہے کہ نئی نسل کو بھی ایک لیبل کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ اگر نئی نسل کو اپنی شناخت کے لئے واقعی کسی لیبل کی ضرورت ہو تو ’’مابعد جدیدیت ‘‘ زیادہ مانوس لیبل ہوتا ہے۔ ’’مابعد جدیدیت‘‘ کے تصور اور اس کی فلسفیانہ اساس پر گفتگو ہوتی رہنی چاہئے۔ یہ بحث بھی جاری رہے کہ امریکہ و یورپ میں Post Modernism کا دَور کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا مگر سردست جہاں تک اردو کا تعلق ہے، اسے بس ایک ہی مفہوم میں استعمال کرنا چاہئے، یعنی ’’جدیدیت‘‘ کے بعد کا دور۔ اب یہ لوگ طے کریں کہ یہ دَور کب سے قرار دیا جائے۔ ۱۹۷۰ء سے یا ۱۹۷۵ء سے، یا ۱۹۸۰ء سے۔ میں ذاتی طور پر ۱۹۷۵ء بلکہ ۱۹۷۷ء کے حق میں ہوں، یعنی ایمرجنسی کے بعد کا دور۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ۷۷۔ ۱۹۷۵ء تک جدیدیت کے اثرات حاوی تھے اور خواہ اس سے اختلافات کے پہلو سامنے آنے لگے ہوں، لیکن اس سے منحرف یا باغی ہونے کا کوئی رجحان نہیں تھا۔ کم از کم مَیں تو اس سے واقف نہیں ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے: چلے گئے محبِ اُردو نارنگ ساقی، ہم اُن کو روئیں گے، اُن کی کتابیں ہمیں ہنسائیں گی

شناخت بڑے رسالوں اور نقادوں کے بغیر بھی بنتی ہے۔ شاید آج نوخیز لکھنے والوں کو یہ جان کر حیرت ہو کہ بانیؔ ’شب خون‘‘ میں کبھی نہیں چھپے۔ گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمٰن فاروقی نے ان کے انتقال کے بعد ہی اُن پر لکھا جو ’’شفق شجر‘‘ میں دیباچوں کی شکل میں شائع ہوا۔ 
نئی نسل کے تخلیق کاروں کو نقادوں کی طرف دیکھنا بند کردینا چاہئے۔ میں دوچار Genuine نقادوں کی بات نہیں کررہا ہوں۔ وہ ہمارے لئے محترم ہیں۔ وہ نئی نسل سے دلچسپی بھی رکھتے ہیں اور انہیں بڑھانے کی اپنی سی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن معاملہ یہ ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ہر معلم جو اپنی ترقی (پروموشن) کے لئے اپنی پیٹھ پر دوچار کتابوں کا بوجھ لاد لیتا ہے، اپنے آپ کو نقد نگار یا نقاد منواتا ہے اور اپنی کتابیں نصاب میں شامل کراتا ہے، اپنے طلبہ اور شاگردوں کو اپنی ہی کتابوں سے اقتباسات پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس کی ’’سخن ناشناسی‘‘ مسلّم ہے اور جو غلط زبان لکھنے میں مہارت تامّہ رکھتا ہے۔ 
 یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ فنکار کی اہمیت خود اس کی تخلیقات متعین کریں گی، ناقدو ں کی اسناد نہیں۔ نئے لکھنے والوں کے یہاں تخلیقی وفور کی کمی نہیں، لیکن صرف تخلیقی وفور بڑے یا کم از کم اچھے فن پارے کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ تخلیق کاروں کو نقادوں کی ’’کاسہ لیسی‘‘ سے پورے طور پر اجتناب کرنا چاہئے اور ان سے بے نیاز ہوکر ادبی تخلیق کو اپنا مقصد ِ حیات بنا لینا چاہئے۔ اگر تخلیق اچھی ہوگی تو نقاد لامحالہ اس کی طرف متوجہ ہوں گے ورنہ وہ خود درجۂ اعتبار سے گر جائینگے۔ 
اردو کے نئے لکھنے والوں کو کئی محاذوں پر سرگرم اور نبردآزما ہونا ہے۔ سب سے اہم تو اس کی اپنی زبان کے تحفظ اور بقا نیز اس کو نئے حلقوں سے روشناس کرانے کا مسئلہ ہے۔ ادب کے قاری کی بازیافت کے سلسلے میں مسلسل کوشش کرنی ہے۔ اس ضمن میں حالیہ برسوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن اس جدوجہد کو اور تیز کرنا ہے۔ اداروں پر پروفیسروں اور خودساختہ نقادوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔ 
ادب کی ضرورت اور اہمیت کو کون سمجھے؟ سیاست ہمارے معاشرہ پر حاوی ہے۔ مشاعروں کی جو رپورٹیں چھپتی ہیں ان میں اُن شاعروں کا نام نہیں آتا جنہوں نے کلام پیش کیا بلکہ کسی سیاسی آدمی کی جاہلانہ تقریر کو نمایاں کیا جاتا ہے جس سے اس نے بحیثیت مہمان خصوصی سامعین کا وقت برباد کیا تھا۔ ادبی جلسوں میں سیاست سے وابستہ کسی نہ کسی شخص (شخصیت نہیں ) بلکہ کئی کئی اشخاص کو صدر اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا ہے کیونکہ ان سے مالی منفعت کی توقع ہوتی ہے اور رپورٹروں میں انہیں کی ’’احمقانہ گہر افشانیوں ‘‘ کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔ مجھ جیسے لوگ ازکارِ رفتہ ہوچکے۔ نئی نسل کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری ہے۔ تخلیقی فنکار کی بحالی ایک بڑا مسئلہ ہے جو نئی نسل کے سامنے ہے! 
(بحوالہ: تنقید نما)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK