• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اَدب اپنے نظریات ہی کی وجہ سے متعین ہوتا ہے

Updated: November 30, 2025, 4:04 PM IST | Mujtaba Hussain | Mumbai

یہ بھی یاد رہے نظریے کے معنی کسی اعلان نامے یا پروپیگنڈا کے نہیں ہوتے حالانکہ ادب ایک صورت میں اعلان نامہ اور پروپیگنڈا بھی ہوتا ہے۔

Now, not only the individual deserves the attention of literature, the entire collective body is looking up to it. Photo: INN
اب صرف فرد ادب کی توجہ کا مستحق نہیں ہے، پوری ہیئتِ اجتماعی اس سے آس لگائے ہوئے ہے۔ تصویر:آئی این این
ادب اور نظریے کی بحث آج کی نہیں ہے بہت پرانی ہے مگر پہلے اس سلسلے میں ’’سیاست‘‘ کا لفظ درمیان میں نہیں آتا تھا۔ جمالیات، فلسفہ، ذوق و وِجدان، اسالیب، ادبی بلندی اور پستی کے سوالات اٹھتے تھے۔ مگر اب اس بحث کے ساتھ ہی سیاسی تصورات کیوں ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں چاہئے کہ منہ بنانے اور ’’ادبی پاکیزگی‘‘ کا واسطہ دلانے کے بجائے انسانی تاریخ کے ارتقا پر غور کریں۔ ادب نے سماج کے ساتھ شعور کی منزلیں طے کی ہیں۔ دیومالائی اور خرافاتی دور سے لے کر آج تک ہماری زندگی کن تغیرات سے گزری ہے اور کن تغیرات سے دوچار ہوئی، اس پر اگر ہم غور کریں تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ طبقاتی نزاع اور تضاد نے ہمیں ایسی جگہ پہنچا دیا ہے جہاں مسائل حیات واضح تر ہوچکے ہیں۔ پہلے مختلف علوم و فنون اتنے شعوری طور پرمعاشرے سے قریب نہیں ہوئے تھے جتنے آج ہیں۔ پہلے وہ شعوری کم اور غیرشعوری طور پر زیادہ زندگی کے ترجمان تھے،  آج بھی ان کی اصولی حیثیت علاحدہ ہے مگر اب وہ شعوری طور پر معاشرہ سے وابستہ ہوتے جاتے ہیں۔ نئے حقائق اور معارف نے زندگی کے ہر شعبے کا ربط ایک دوسرے میں تلاش کرلیا ہے۔ اب یہ شعبے ایک دوسرے سے علاحدہ ہونے کے باوصف ایک دوسرے سے متعلق بھی ہیں۔ ایک دوسرے پر برابر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ سماجی زندگی جن عناصر سے تشکیل پاتی ہے جیسے سیاست،  اقتصادیات، فلسفہ، جنسیات، حیاتیات، تہذیبی اور تمدنی تحریکات،  ان سب کا آپس میں ربط نہ صرف دریافت ہوسکا ہے بلکہ ہم اسے قبول کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ ان سب کا مجموعی اثر ہماری زندگی پر پڑتا ہے  اور ہم مجرد طور پر ان عناصر میں سے کسی ایک کو اپنی خوشحالی یا زبوں حالی، جذبات اور نظریات کی تعمیر کا باعث نہیں بتاسکتے۔ ہماری جہالت کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اچھی تعلیم نہیں ملتی، اور اچھی تعلیم نہ ملنے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اچھے معلم نہیں ہیں، اچھے معلم نہ ملنے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ تنخواہ کم ملتی ہے، تنخواہ کم ملنے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ملک تباہ حال ہے، غرض کہ یوں تجزیہ کرتے چلے جائیے اور آخر کار اس کی تان ہمارے سیاسی نظام یا معاشرتی نظام پرٹوٹتی ہے! 
یہی وجہ ہے کہ آج زندگی کاکوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا کوئی حل علاحدہ سے پیش کیا جاسکے۔ سیاست ہماری زندگی کا اہم ترین جزو ہوگئی ہے۔ اس سیاست کے معنی چند افراد کی لوٹ کھسوٹ نہیں ہے بلکہ پورے ہیئتِ اجتماعی کااپنے مفاد کے لئے ایک بہتر نظامِ زندگی تجویز کرنے کا حق ہے جہاں ان کا علم و فن،  ادب و تہذیب پھل پھول سکے، جہاں ان کے تصورات اور جذبات برسر اقتدار طبقے کی ہوس زرکا شکار ہوکر نہ رہ جائیں۔
ادب نے انسانی محنت کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔ اس کاجمالیاتی شعور انسانی محنت اور اس محنت کی تعمیری جدوجہد کے ساتھ پروان چڑھتا گیا ہے۔ آج انسانی محنت اپنے پورے جلال و جمال کے ساتھ ایک ایسے طبقے کے سامنے کھڑی ہوئی ہے جو اسے خریدنے اورخرید کر منڈیوں میں بیچنے کی ہر ممکن چال چل رہا ہے۔ ادب اس تاریخی موڑ پرپہنچ کر اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔ اس کی ذمہ داریاں پہلے کے مقابلے میں ہزار گنا بڑھ گئی ہیں۔ آج تنگ نظری اس کی موت ہے اور وسیع النظری اس کی زندگی کاواحد ذریعہ۔ اسے جملہ مسائل کو اپنانا ہوگا۔ اسی لئے اب صرف فرد اس کی توجہ کا مستحق نہیں ہے، پوری ہیئتِ اجتماعی اس سے آس لگائے ہوئے ہے۔ غالباً یہی سبب ہے کہ آج ادب اور نظریے کی بات چھڑتے ہی سیاسی مسائل (جن کا تعلق ہماری پوری معاشرت سے ہے) کاتصور ابھرنے لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مفاد پرست طبقے کے نقیب سیاست کے نام پر کف در دہاں ہوجاتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک اعصابی کمزوری کی نشانی ہے بلکہ ایک نوع کا سماجی جرم بھی ہے! بہرصورت اگر زندگی میں نظریات کی گنجائش ہے تو ادب میں بھی ہمیشہ رہے گی۔ یہ نظریات کس قسم کے  ہیں؟ انسانیت کی فلاح و بہبود میں کام آسکتے ہیں یا نہیں یہ دوسری بحث ہے۔
اب اس کے بعد یہ مسئلہ یا مرحلہ سامنے آتا ہے کہ نظریے ادب میں کس طرح آتے ہیں۔ ان کااستعمال کیونکر ہوتا ہے یا کیا جاسکتا ہے۔ یہاں بھی ’’ہیئت پرست اور انسانیت دشمن ادیب‘‘  یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ادب پر نظریہ عائد کرنے سے ادب ’’پروپیگنڈا نواز‘‘ صحافتی، ہنگامی، سطحی، بے رنگ، بے کیف، پست اور لچر ہوجاتا ہے۔ یہ ایک اعلان نامہ یا پندنامہ ہوکر رہ جاتا ہے… مدرس اور ادیب کے فرائض جداجدا نہیں۔ نظریے کاادب کسی اخلاقی سیاسی یا معاشرتی منشور کی طرح ہوجاتا ہے جس میں انسانی جذبات، احساسات، افکار اور کوائف کی گہرائی اور دلکشی مفقود ہوتی ہے۔ ادب ایک رٹا ہوا سبق ہوجاتا ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو پہلے ’’ادب برائے ادب‘‘ کو کلیجے سے لگائے رہی۔ بعد میں جبراً و قہراً، غالباً اپنی ’’کم علمی‘‘ چھپانے کی غرض سے ادب برائے زندگی کو مشروط طور پر قبول کرنے پر تیار ہوئی۔ اب اس کے حملے کا رخ اس طرف ہوگیا ہے تاکہ نظریہ رکھنے کے باوجود ادیب کم از کم ادب میں اپنے نظریات کے اظہار یا ان کے استعمال سے پرہیز کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی ذہنیت کے ’’ادیب‘‘ نہ پہلے زندگی کے مقصد و معنی کے قائل تھے نہ آج ہیں۔ ایک ’’ادبی دھوکا‘‘ دینے کے لئے ایسے ادیب زندگی اور ادب اور نظریات کو قبول کرلیتے ہیں مگر جب ان کے تحریری ثبوت کا وقت آتا ہے تو یہ نہ صرف ’’ادب‘‘ کو نظریوں سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی یہی ترغیب دیتے ہیں۔
ادب میں نظریے کے معنی کسی اعلان نامے یا پروپیگنڈا کے نہیں ہوتے حالانکہ ادب ایک صورت میں اعلان نامہ اور پروپیگنڈا بھی ہوتا ہے۔ ادب یقیناً یہ بتاتا ہے کہ ہم کس سے محبت کریں کس سے نفرت کریں لیکن اس کی سطح اور اس کا اسلوب دوسرا ہوتا ہے یعنی ادبی ہوتا ہے۔ نظریے اور اعلان نامے یا پند نامے کو مترادف سمجھ لینا (خواہ وہ ادب میں ہوں یا کہیں اور ہوں) جلد بازی اور ’’غیرضروری چالاکی‘‘ ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ (یہ غلط فہمی پھیلانے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے) شعور کا اظہار جب بھی ہوگا وہ ایک نہ ایک نظریے کے ماتحت ہوگا۔ اس طرح ہر نظریہ کسی نہ کسی شعور کے ماتحت ہوگا۔ ان دونوں کے تعلقات کو اچھی طرح سمجھا نہیں گیا ہے۔ 
نظریے کی بحث اصل میں شعور کی بحث ہے۔ انسانی زندگی مسلسل تجربات، سماجی تغیرات، تاریخی رجحانات، تہذیب اور تمدن کے ارتقا، سائنس اور مختلف علوم نے ہمیں ایک شعور دیا ہے۔ یہ شعور ہماری ہر جہتی ترقی کے ساتھ زیادہ صاف، نمایاں، وسیع اور اجتماعی ہوتاگیا۔ اس شعور کو آپ پرکھ، اندازِ نظر، نیک و بد، خیر و شر کی تمیز، انسانی ترقیات اور فتوحات کا احساس اور ادراک جو چاہے کہہ لیجئے،  یہ شعور زندگی کی قدروں سے پیدا ہوتا ہے اور بعد میں زندگی کی قدروں کو پیدا کرتا ہے، انہیں تبدیل کرتا ہے اور  آگے بڑھاتا ہے۔ یہ شعور انسانی سماج میں زندہ رہتا ہے، اور اس سے ہٹ کر مردہ ہوجاتا ہے۔ اسی شعور کو سمجھانے اور پہچاننے کیلئے اور اس کی تعریف کرنے کیلئے ہم نظریے کا نام دیتے ہیں تاکہ بات دوسروں تک پہنچانے میں اور اس کی توضیح کرنے میں آسانی ہوجائے۔ خالی خولی نظریے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے جب تک شعور کارفرما نہ ہوگا یہ بالکل ایسا ہی ہوجائے گا جیسے ایک آدمی کے ہم صرف نام سے واقف ہوں اور اس کے افکار و جذبات سے واقف نہ ہوں۔ادب یا کسی اور شعبے میں نظریے کے معنی شعور کے سوا اور کچھ نہیں ہوتے۔ اسلئے جب ’’نظریہ‘‘ کا لفظ آئے تو اس پر پریشان یا پشیمان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ بغیر اس لفظ کے ہم کسی شے یا کسی عمل کی سمت اس کی خصوصیات اور اس کی نوعیت نہیں متعین کرسکتے۔
چنانچہ کوئی بھی ادب ہو اور کسی زمانے کا ادب ہو اپنے نظریات ہی کی وجہ سے متعین ہو سکتا ہے۔ اس کی روایات، اس کے رجحانات، اس کی پستی یا بلندی کا اندازہ نظریات کے بغیر ناممکن ہے۔ ہر زمانے کا ادب شعوری یا غیرشعوری طور پر اپنے نظریات کے ماتحت وجود میں آتا رہا ہے۔ اور ان نظریات کا اظہار کسی نہ کسی شکل میں کرتا رہا ہے۔ جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا گیا۔ ادب بھی زیادہ باشعور ہوتا گیا۔ دوسرے لفظوں میں نظریات کا اظہار نمایاں طور پر ہونے لگا۔ 
( ’’ادب میں نظریے کا استعمال‘‘ طویل مضمون ہے، جس کا ایک باب یہاں پیش کیا گیا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK