امریکی صدر ڈو نالڈ ٹرمپ نے ایران پر حالیہ امریکی۔ اسرائیلی حملوں کے بعد کہا ہے کہ سفارتی حل اب پہلے سے زیادہ ممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد فوجی کارروائی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 2:01 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈو نالڈ ٹرمپ نے ایران پر حالیہ امریکی۔ اسرائیلی حملوں کے بعد کہا ہے کہ سفارتی حل اب پہلے سے زیادہ ممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد فوجی کارروائی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران کے حوالے سے سفارتی حل اب بھی ممکن ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ ’’اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان‘‘ ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوزکو ٹیلی فون پر دیئے گئے انٹرویو میں کہا، ’’ظاہر ہے، اب یہ کل کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ حملے مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور یہ سفارت کاری کیلئے ایک راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کی قیادت کیلئے’’کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں ‘‘، تاہم، انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: اصفہان میں خامنہ ای کو خراجِ عقیدت، ملک بھر میں سوگ کی فضا
ایران کی جوابی کارروائی کے بارے میں ٹرمپ نے کہا: ’’یہ وہی ہے جس کی ہمیں توقع تھی۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’ہم نے سوچا تھا کہ ردعمل دوگنا ہوگا، لیکن اب تک یہ ہماری توقع سے کم رہا ہے۔ ‘‘اس سے قبل دن میں، خامنہ ای کی موت کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مہم جاری رہے گی۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ’’تاہم، بھاری اور نہایت درست نشانے والی بمباری پورے ہفتے یا جب تک ضروری ہوا بلا تعطل جاری رہے گی۔ ‘‘